سرینگر//جموں کشمیر میں یکم جولائی سے مرحلہ وار طریقے سے یونیورسٹی سطح تک تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل ممکنہ طور پر شروع کیا جارہا ہے جبکہ پرائمری سطح کے سکول کھولنے کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔ جموں کشمیر میں کوروناوائرس کی صورتحال میں بتدریج بہتری آرہی ہے اور اَن لاک کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے ،جس کے تحت تمام بازاروں میں دکانیں ، شاپنگ مالس کھول دئے گئے ہیں اور دیگر تجارتی اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بحال کردی گئیں ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ اب تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ زیر غور ہے اور یکم جولائی سے تمام تعلیمی ادارے ممکنہ طور پر دوبارہ کھول دئے جائیں گے ۔سی این آئی کے مطابق پہلے مرحلے کے تحت میڈل سکولوں ، ہائر سیکنڈریوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا کام شروع کیاجارہا ہے اور حاضری 50فیصدحاضری کی شرط پر طلبہ کو تعلیمی اداروں میں حاضر رہنے کی اجازت ہوگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ تدریسی عمل بھی پچاس فیصدی حاضری کے ساتھ ہی ڈیوٹی پر حاضر ہوگا۔ جبکہ پرائمری سطح کے سکولوں کو بھی جلد ہی کھولنے پر ابھی حکام غور و خوض کررہے ہیں کیوں کہ کوروناوائرس کی ممکنہ تیسری لہر کے بارے میں جو خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں ،ان کے پیش نظر پرائمری اسکولوں کوکھولنے کے فیصلے پر ابھی غورہورہا ہے اور چھوٹے بچوں کے سکول جانے یا نہ جانے کیلئے فی الحال ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے اگلے ہفتے محکمہ ایجوکیشن اور صوبائی انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ کے درمیان میٹنگ منعقد ہوگی جس میں اس بارے میں حتمی فیصلہ لینے کے بعد ہی اعلان کیا جائے گا۔