کیف//یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر 75 روسی میزائلوں سے حملے کئے گئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کیف میں روسی میزائل حملوں میں 5 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ان حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی گاڑیوں میں بھی آگ لگ گئی۔خبر ایجنسی کے مطابق کیف کے علاوہ لیوف، خارکیف سمیت مختلف شہروں میں دھماکے رپورٹ ہوئے۔یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روس ہمیں تباہ کرنے اور زمین سے ہمارا خاتمہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔یوکرینی وزیرخارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پیوٹن کا واحد حربہ یوکرین کے پرامن شہروں پر دہشتگردی کرنا ہے، وہ ایک دہشتگرد ہے جو میزائلوں سے بات کرتا ہے۔سربراہ یوکرینی فوج نے میڈیا کو بتایا کہ روسی فورسز نے کیف سمیت جنوبی، مغربی شہروں پر 75 میزائلوں سے حملہ کیا، روس کے فائر کیے گئے 41 میزائل مار گرائے۔
یہ حملے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے کئی گھنٹے قبل کیے گئے۔یوکرین کے سینئر فوجی جنرل نے بتایا کہ روسی افواج نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں 75 میزائل فائر کیے جن میں ایرانی ساختہ ڈرونز بھی شامل تھے، روس کی جانب سے جون کے بعد سے ایک پہلا حملہ تھا۔39 سال لینگویج ٹیچر کسینیا رائزانٹسیو نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جب ہم سو رہے تھے تو ہم نے پہلے دھماکے کی آواز سنی، ہم اٹھے اور جا کر چیک کیا تو اتنے میں دوسرا دھماکا ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں سمجھ نہیں ا?یا کہ کیا ہو رہا ہے، اچھا، ہم حالت جنگ میں ہیں۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر کی صبح قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صبح کا وقت بہت ’مشکل‘ ہے، اور وضاحت کی کہ روسی افواج نے حملوں میں دو اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ وہ افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں اور ہمارے انرجی سسٹم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ روسی بموں نے دنی پرو، زیپورزہزہیا اور لوائیو کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرا ہدف لوگ تھے، انہوں نے ماسکو پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی کرنا ہے۔برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی نے بتایا کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روسی میزائل حملے ناقابل قبول ہیں۔انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ ولادیمیر پیوٹن کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، طاقت کو نہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے یوکرین کے ہم منصب ڈمیٹرو کولیبا سے رابطہ کیا ہے۔