ملک کی پانچ ریاستوں میںجہاں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ،وہیں اُتر پردیش میں سب سے زیادہ سرگرمی نظر آرہی ہے کیونکہ اترپردیش میں سب سے زیادہ اسمبلی کے حلقے ہیں، یعنی ہر صوبے سے زیادہ سیٹیں ہیں۔اور یہ بات بھی حق بجانب ہے کہ اُترپردیش میں جس کا قدم جم گیا تو اُس کی دھاگ مرکزی حکومت پر بھی رہتی ہے، اسی لئے اترپردیش میں سبھی سیاسی پارٹیاں پیر جمانے کی کوششیںمیں مصروف ِ عمل ہیں۔ ہر کسی جماعت کی طرف سےوعدے پر وعدہ اور دعوے پر دعویٰ کا سلسلہ تواتر کے ساتھ چل رہا ہے۔ کوئی ٹکٹ مل جانے کی خوشی میں اُچھل رہا ہے تو کوئی ٹکٹ نہ مل جانے کی وجہ سے پھوٹ پھوٹ کر رورہا ہے۔ اب یہاں کچھ دیر تک عام آدمی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر کسی کو ٹکٹ ملنے یا کسی کاٹکٹ کینسل ہوجانے پراُسے رونے کی کیاضرورت ہے؟ اور کیوں رورہے ہیں ؟اگر وہ اسلئے رو رہے ہیں کہ اُن کے لئےقوم کی خدمت کا موقع چھن گیا ہےتو وہ قوم کی خدمت کرنے کے لئے کوئی بھی کمیٹی، تنظیم، پلیٹ فارم بناکر قومی خدمات انجام دےسکتے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہےاور دن کے اُجالے میں بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، بغیر ایم ایل اے ہوتےہوئے اپنے ہم وطنوں کاکوئی بھی خیر خواہ قوم کی خدمت کرسکتا ہے اور بغیر کسی نجی مفاد،لالچ یا شہرت کے قوم کی خدمیت کی جاسکتی ہے۔ مغربی ممالک کے ترقی یافتہ معاشروں میں ہزاروں،لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو بغیر کسی عہدے کے عوامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اپنے وطن میں بھی آج ایسے کئی انسان موجود ہیں جو قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی خدمات انجام دیتے رہتے ہیں کہ کسی کو کانوں کو خبر تک نہیں رکھتے ہیں۔ بغیرمذہب و ملت ، ذات برادری یا رنگ و نسل کے وہ ہر کسی کی خیر خواہ کرتے ہیں۔ نہ انہیں ایم ایل اے بننے کا شوق ہے اور نہ اپنی خدمات کا پرچار کرنے کی ہوس ہے، نہ وہ کسی پارٹی سے ٹکٹ مانگنے جاتے ہیں اور نہ ہی ٹکٹ حاصل کرنے کے لئےکسی لائن میںرہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔خیر بات پھر گھوم پھر کر وہیں پر آتی ہے کہ ٹکٹ نہیں ملا تو رونا کیوں ؟ اس سے تو یہی ثابت ہوتاہے کہ آپ کے دل میں قوم کی خدمت کا جذبہ نہیں بلکہ دولت کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی شہرت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے جو موقع چھن جانے پر آپ کو رُلاتا ہے؟ اب آئیے! آگے بڑھئے!! الیکشن کی اس گہما گہمی میں یہاں توتمام لوگ ایک دوسرے کو یہی مشورہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ بس ہمیں متحد ہونا چاہیے اور ووٹ تقسیم نہیں ہونا چاہیے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ باپ کسی پارٹی کا حمایتی تو بیٹا کسی پارٹی کا سپوٹر ہے اور دونوں اپنی اپنی پارٹی کی کامیابی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں،اور باتیں ایسی کہ لگتا ہے حکومت بنانا اوربگاڑنا اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، اور پارٹی سے ہمدردی اتنی کہ پارٹی کی خامیوں پر ایسے ایسےپردے ڈالنے کی کوششیں کرتے ہیں، جیسے وہ خود پارٹی کے ہائی کمان ہیں۔
مختلف چہرے ایسے بھی ہیں جو پینٹ شرٹ، کوٹ ٹائی پر مشتمل ہے اور بعض شیروانی و جبہ و دستار میں ملبوس ہیں، وہ بھی سیاسی پارٹیوں پر اور لیڈران پر الزام تراشیاں کرنے میں بھی مصروف ہیں،البتہ کہیں دبی زبان میں کسی پارٹی کی حمایت کررہے ہیںاور کہیں عوام سے اپیل کرنے میں بھی مشغول ہیں کہ مسلمانوں کا ووٹ ہرگز بنٹنا نہیں چاہئے اور کئی بڑے یہ بھی نصیحت دے رہے ہیں کہ بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹے نقصان کو برداشت کرلینا چاہیے مگر کسی میں یہ ہمت نہیں کہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچائے کہ کھل کر سیاست میں حصہ لےلو اور آگے بڑھو۔ظاہر ہےکہ آج کے دور میں ملازمت کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے، تعلیم کے لئے یونیورسٹی کی ضرورت ہے، یونیورسٹی کے لئے زمین کی ضرورت ہے ، زمین کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے اور مضبوط فنڈ کے لئے ایم پی، ایم ایل اے بننے کی اہم ضرورت ہے۔ ان دونوں عہدے پر منتخب ہونے کے لئے سیاست میں حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ سیاست میں حصہ لیں گے تو ودھائک اور ایم پی منتخب ہونے کا موقع مل سکتا ہےاور جب آپ ودھایک یا ایم پی بن جاتے ہیں،تبھی آپ کو مخصوص کوٹہ ملے گا ، فنڈ ملے گا، آپ تعلیم کے لئے یونیورسٹی کی تعمیر کراسکتے ہیں اور علاج کے لئے اسپتال کی تعمیر کراسکتے ہیں ،اپنے علاقے میں بجلی ،پانی، سڑک جیسی سہولیات عوام کو فراہم کراسکتے ہیں۔ سبھی جانتے ہیںکہ بہت سے دنیاوی مسائل کا حل سیاست پر ہی منحصر ہیں، اسی لئے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے کہا ہے کہ سیاست ماسٹر چابی ہے ،دنیا کا ہر تالا سیاست سے کھل سکتا ہے اور جمہوریت میں جو طبقہ سیاست سے دوررہتا ہے، سمجھو وہ ہر معاملے میں ناکام رہتا ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھنے والی بات ہے کہ جمہوری نظام میں پارٹی کا حمایتی بننے سے تو کچھ حاصل ہوسکتا ہے مگر پارٹی کا بھگت بن کر کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا ہے اور جب کوئی پارٹی کا بھگت ہوجائے گا تو اُسے بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان بھی نظر نہیں آئے گا، پارٹی کی کوئی خرابی بھی نظر نہیں آئے گی، وہ دن رات پارٹی اور اپنے لیڈروں کی تعریف میں لگا رہے گا اور آج کھلم کھلا یہ سارا منظر آنکھوں کے بخوبی سامنے آرہاہے۔
جہاں تک بات علماء کرام کی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ علماء کرام کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے بلکہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ علماء کرام بڑھ چڑھ کر سیاست میں حصہ لیں تاکہ آج جس طرح سےسیاست بدنام ہوچکی ہے ،ایسی بدنام سیاست کا خاتمہ ہو سکے اور ایسی سیاست کا آغاز ہو کہ ملک میں اگر کسی ایک مکان کو آگ لگے تو کسی کی زبان پر ہندو مسلمان کا جملہ نہ آئے بلکہ زبان پر فقط یہ جملہ آئے کہ ایک ہندوستانی،ایک دیش واسی کا مکان جل رہا ہے۔ ہندو اور مسلمان کے نام پر سیاست بند ہوکر برادران وطن کے نام پر سیاست شروع ہوسکے اور جب علماء کرام سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے تو بہت زیادہ اُمید ہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی جو بھید بھاؤ ہے، اُس کا بھی خاتمہ ہوسکے، پھر ہم یہ کہہ سکیں کہ نہ مذہب اسلام میں اونچ نیچ ذات برادری کا جھگڑا ہے نہ مسلمان میں۔اس وقت تو ہم سے کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہےکہ مانا مذہب اسلام میں چھوا چھوت نہیں ہے، ذات برادری کا جھگڑا نہیں ہے، بھید بھاؤ نہیں ہے مگر مسلمانوں میں تو ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے کہ یہ بیماریاں اور خرافات مذہب اسلام میں تو نہیں ہیں اور پیغمبر اسلامؐ نے ان سب کو پیروں تلے روند دیا اور صاف لفظوں میں کہا کہ رنگ و نسل، عرب و عجم، ذات برادری کی بنیاد پر کسی کو فوقیت حاصل نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک وہ مکرم ہے اور اس کا مقام ومرتبہ بلند ہے جو متقی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس! آج بھی ذات پات ،اونچ نیچ اور برادری کایہ بھوت جن لوگوں کے سروں پر سوار ہے، وہی لوگ الیکشن میں اپیل و حمایت کرنے اور مشورہ دینے میں آگے آگے لگے رہتے ہیں۔ اسی لئے اُن کی اپیل صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے اور حمایت و مشورے ہوا میں اُڑرہے ہیں اور ایسا تو ہونا ہی ہے کیونکہ بغیر معاہدے اور بغیر سمجھوتے کے حمایت و اپیل کیونکر اور کیسی ؟جس کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔