جموں//جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے 13جولائی کو ہائی کورٹ کے احاطہ میں فری لیگل ایڈ کیمپ کا اہتمام کر کے یوم شہداء کو عام تعطیل منائے جانے کی مخالفت کی۔ اس دوران انہوں نے مظاہرہ کرکے عام تعطیل کو ختم کرنے کی مانگ کی، وکلاء نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں 13 جولائی کو یوم شہداء کے طور پر منانے کے جموں وکشمیر حکومت کے فیصلے کے سخت خلاف ہے۔ دراصل سن 1931 میں آج ہی کے دن کچھ سماج دشمن عناصر نے لوگوں کو فرقہ وارانہ تشدد پر اکسا کر وادی کشمیر میں موجودہ ماحول کی بنیاد ڈالی تھی‘۔ بیان میں کہا گیا ’ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں نے 13 جولائی کو ورکنگ ڈے قرار دینے کے اپنے مطالبے کو منوانے کے لئے بطور احتجا ج یہ دھرنا دیا ہے ۔ایسوسی ایشن نے ضرورتمندوں کو لیگل ایڈ فراہم کرنے کے لئے 13 جولائی 2018 ء کو فری لیگل مشاورتی کیمپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اس کا مقصد 13 جولائی کو ورکنگ ڈے کے طور پر منانا تھا۔بار ایسو سی ایشن کے سدر کا کہنا تھا کہ یہ ریاستی حکومت کے خلاف چند شر پسند عناصر کی شرارت تھی جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا ملی ، اقلیتی فرقہ کی دکانیں مکانات اور دیگر املاک نظر آتش کر دی گئیں اور کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایسے افراد کو شہید اقرار نہیں دیا اج سکتا۔ انہوں نے گورنر این این ووہرہ سے اپیل کی کہ لوگوں کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس دن کو ورکنگ ڈے قرار دے کر چھٹی کے فیصلہ کو منسوخ کر دیا جائے۔