سرینگر// نیشنل فرنٹ نے لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک پر سیفٹی ایکٹ عائد کرنے اور اُنہیں کوٹ بلوال جیل جموں منتقل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ترجمان نے کہا کہ محمد یاسین ملک کو سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل منتقل کرنا سیاسی انتقام گیری کی بد ترین مثال ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت قوانین کے تحت قائدین کی قید و بند سے مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید اُلجھنے کا خدشہ ہے۔ جمعیت اہلحدیث نے یاسین ملک اور ایڈوکیٹ زاہد علی پرسیفٹی ایکٹ عائدکرنے پر گہرے فکر واضطراب کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے تنائوپیدا ہوسکتا ہے۔بیان میں مولانا مشتاق احمد ویری سمیت دیگر سبھی قدیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کی اپیل دہراتے ہوئے کہا گیا کہ گرفتارشدگان میں بیشتر عمر رسیدہ اور دائمی مریض بھی ہیں،جہیں فوری طور رہا کرنے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ ان کی صحت وسلامتی کے خطرے میں پڑنے کے امکانات ہیں ۔پیروان ولایت نے محمد یاسین ملک پر پی ایس اے عائد کئے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کی کاروائی کوانسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تنظیم کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے کشمیری عوامپر مصائب کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جیلوں کو آباد کرنے اور سرزمین کشمیر کو قبرستان میں تبدیل کرنے سے اصل حقیقت پر پردہ کشائی نہیں کی جاسکتی ہے ۔مولانا قمی نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک اسلامی فکر کا نام ہے جو دہائیوں سے کشمیر میں دینی و فلاحی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے اور اس فکر کے پر من گھڑت الزامات عائد کرکے اس پر پابندی لگانا انتہائی افسوسناک ہے ۔