ڈاکٹر خالد اختر علیگ
ایک معالج یاڈاکٹر کے بارے میںعام خیال یہ ہے کہ وہ کم گو،پُرسکون اورحد درجہ کا سنجیدہ ہوتا ہے ،جس کے چہرے پر بھول کے بھی ہنسی نہیں آتی ،لیکن یہ کوئی مستقل کلیہ نہیں ہے۔بلکہ ڈاکٹر صرف ہنستے ہی نہیں بلکہ ہنساتے بھی ہیں ،وہ غموں کے پھوڑوں پر تبسم کا ایسا نشتر لگادیتے ہیں کہ مریض (جسے یہاں پر قاری پڑھا جائے) سمجھ ہی نہیں پاتا کہ کب نشتر لگا اور کب اس کا پھوڑا ٹھیک ہوگیا ۔یہ ساری باتیں میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ اسے کہنے والے بھی معالج، وہ بھی ایک ایم بی بی ایس سند یافتہ ڈاکٹر عابد معزہیں ،جوچار دہائیوں سے ا یسے ہی نشتر لگارہے ہیں اور اب انہوں نے تو کافی تعداد میںایسے ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی ڈھونڈ نکالے ہیں جوان کے جیسے نشتر لگانے میں ماہر ہیں ۔ابھی حال میں ڈاکٹر عابد معز کی نئی کتا بــ’’ ہنسی،طنز ومزاح اور ڈاکٹر‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے،جو کہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اچھوتی اور دلچسپ ہے ۔ڈاکٹر عابد معز صاحب پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر اور تغذیہ واستحالی امراض کے ماہر ہیں ،وہ موجودہ دور میں نمائندہ طنزو مزاح نگاروںمیں شمار کئے جاتے ہیں ۔ان کی پر مزاح تحریریںروزمرہ کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے تیز رفتار زندگی میں قارئین کو ہنسنے اور گد گدانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ان کے مضامین کے دو مجموعے ’واہ حیدرآباد ‘ اور’اردو ہے جس کا نام‘ ،انشائیوں کا مجموعہ’ فارغ البال‘،افسانوں کے دومجموعے ،’عرض کیا ہے‘ ،’یہ نہ تھی ہماری قسمت‘ اور کالموں کے پانچ مجموعے ’بات سے بات‘،’پھر چھڑی بات‘،’اتنی سی بات‘،’وہاں کی بات‘،’آئی گئی با ت ‘شا ئع ہوکر قبولیت کی سند پاچکے ہیں ۔’واہ حیدرآباد‘طنز و مزاح کے موضوع پر ان کا پہلا مجموعہ ہے ۔اس کے علاوہ وہ مقبول سائنس نگار بھی ہیں، عوامی صحت سے متعلق ان کی دودرجن کتابیں شائع ہوکر داد وتحسین حاصل کرچکی ہیں ۔
۱۹۲ ؍صفحات پر مشتمل کتاب ’’ہنسی،طنزو مزاح اور ڈاکٹر ‘‘کو ایم آر پبلیکشنز،نئی دہلی نے شائع کیا ہے ،جس کی قیمت۲۰۰ روپئے ہے ۔ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ،پہلا حصہ جس کا عنوان ـ’’مضامین اور کالم ہیـ‘‘ ۔اس میںصاحب کتاب عابد معز صاحب کے وہ۱۲ ؍مضامین اور کالم شامل ہیں جو مختلف جرائد و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں،ان میں سے کچھ تو تحقیقی نوعیت کے ہیںجن میںانہوں نے طنزو مزاح کے فن پر اظہار خیال کیا ہے ۔تو کچھ مضامین میںہنسی ،تبسم اور قہقہہ کے طبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ۔
کتاب کے سب سے پہلے مضمون ’ہنسئے کہ ہنسنا ضروری ہے ۔دوسرا مضمون ـجس کا عنوان ـ’ہنسی ایک،فائدے انیک‘ میں کاروبار زندگی میں مصروفیت کی وجہ سے لوگوں کے لبوں سے مسکراہٹ ختم ہونے پر افسوس ظاہرکرتے ہوئے فرماتے ہیں’ ’بہرحال ،انسان مسکرانے ،ہنسنے اور قہقہہ لگانے کی صلاحیتوں سے بتدریج محروم ہونے کی پوری قیمت چکا رہا ہے‘‘ ۔ ہنسی غائب ہونے سے مختلف دماغی اور جسمانی امراض لاحق ہوتے ہیں،لوگ سچی خوشی سے محروم رہتے ہیں ‘‘۔ہنسی کو وہ ’خوشی اور شادمانی کا نسخہ‘ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ہنسی درد کے احساس کو کم کرتی ہے اور درد کو چھپاتی ہے ۔ قہقہہ کے معنی زور سے ہنسنا یاٹھٹھا مار کر ہنسنا ہے ، یہ ہنسی سے آگے کی چیز ہے ،جس کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اپنے مضمون ’خوشیوں کی آواز،قہقہہ ‘ میںکہتے ہیں کہ ’’قہقہہ خوشی کے اظہار کے طویل عمل کا آخری حصہ ہے ۔قہقہہ کے بعد خوشی ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کی یاد باقی رہتی ہے ‘‘۔’عصر حاضر میں طنز ومزاح ‘ ایک شاندار مضمون ہے جس میں ایک عام قاری کو طنز ومزاح کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے ۔اسی طرح ’اکیسویں صدی ،مزاح اور طنز کی صدی ہے ‘میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’بحیثیت طنز و مزاح کا شیدائی میں نے پچھلے چند برسوں میں مزاح کی مقبولیت میں بے تحاشا اضافہ دیکھا ہے۔خاصے نامور ادیب و شعرا اس جانب توجہ کرنے لگے ہیں ۔ڈاکٹر عابد معز صاحب کا برسوںقیام سعودی عرب میںرہا ہے جہاں وہ وزارت صحت سے وابستہ تھے ،اسی دوران ماہنامہ شگوفہ ،حیدرآباد (ہندوستان)کے ایڈیٹر اورسیز کے طور پربھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور اس کی توسیع و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ۔
ہنسی صحت کے لیے ضروری ہے ،اس طرح کے انکشافات مختلف تحقیقات میں کیے جاچکے ہیںجس کی تفصیل اسی کتاب میں شامل مضمون ’مزاح کی طبی افادیت۔ہنسی بہترین دوا ہے ‘میں ملتی ہے ،ڈاکٹر عابد معز صاحب رقم طراز ہیں کہ ’’ہنسی سے ہمارے جسم میں فعلیاتی اور نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کے اثرات ہماری جسمانی اور دماغی صحت پر پڑتے ہیں ،بعض ماہرین ہنسی کو ایک دوا کا درجہ دیتے ہیں جس سے تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔’’ہنسی امراض کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے والے ٹی خلیوں اور بی خلیوں میں اضافہ کرتی ہے‘‘۔’’ تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ ہنسی کے بعد اچھی نیند آتی ہے جب کہ تناؤ اور ذہنی الجھن اور پریشانی میں نیند غائب ہوجاتی ہے‘‘۔
کتاب کا دوسرا حصہ جس کا عنوان ’ڈاکٹر مزاح نگاروں کی تحریریں‘ہے جن میںہندوستان و پاکستان کے ڈاکٹری یا علاج و معالجہ کے پیشے سے وابستہ سترہ ادیبوں کی طنز ومزاح پر مبنی شاہکار شگفتہ تحریروں کا ایک دلچسپ انتخاب بھی پیش کیا ہے۔کتاب کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں’’مختلف خیالات کے زیر اثر جب میں نے اردو ادب میں ڈاکٹر طنزومزاح نگاروں کو تلاش کیا تو مجھے آسانی سے دو درجن ڈاکٹر طنزومزاح نگارہاتھ لگے۔ڈاکٹر طنز ومزاح نگار سے میری مراد وہ میڈکل ڈاکٹر ہیں جو طنز ومزاح تخلیق کرتے ہیں۔میں نے اپنی تلاش کو نثر نگاروں تک محدود کرر کھا ہے‘‘۔ڈاکٹرعابد معز نے اس حصہ میںسترہ ڈاکٹروں کی تحریروں کو پیش کیاہے۔ان منتخب تحریروں کو دو زمروں میں تقسیم کی جاسکتا ہے۔کچھ تو ایسے مضامین ہیں جن میں تخلیق کاروں نے اپنے پیشے سے متعلق موضوعات کا انتخاب کیا ہے ۔اس میں پیشے کے نشیب و فراز ،مریضوں اور ڈاکٹر وں کے درمیان تعلقات اور اس اہم پیشے سے متعلق مضحک واقعات و خیالات کوبتایاگیا ہے ۔وہیں دوسرے زمرے کی تخلیقات میںمختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی گئی ہے، حالانکہ ان کی تعداد بہت کم ہے، تحریروں کے اس تنوع اور جدت نے کتاب میں حسن پیدا کر دیا ہے۔
ڈاکٹر آر ۔اے قریشی نے اپنے مضمون ’سرگزشت‘ میں اپنی تعلیمی لیاقتوں اور علمی و ادبی صلاحیتوں پر لطف جملوں میں روشنی ڈالی ہے ۔وہ رقم طراز ہیں ’’ایلوپیتھی ،ہومیوپیتھی اور نیچروپیتھی کے بعد لطیفہ پیتھی کا مطالعہ شروع کردیا ۔مزاح اور مزاج میں صرف ایک نقطے کا ہی تو فرق ہے ۔ڈاکٹر علاج کے ساتھ تھوڑی بذلہ سنجی سے کام لے تو کڑوی دوا میں بھی مٹھاس پڑ جاتی ہے ‘‘۔ڈاکٹر سید عبدالمنان کا مضمون بعنوان ’ناز اٹھانے کو ہم رہ گئے،مریضوں کے‘ جس مختلف اقسام کے مریضوں کے ساتھ انہوں نے اپنے تعلق کو پر مزاح انداز میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد محسن کا مضمون ’’ہم اور ہمارے مریضان گرامی‘‘ بھی ڈاکٹر و مریض کے تعلقات پر مبنی ہے ۔وہ لکھتے ہیں ’بھانت بھانت کے مریض آتے ہیں ۔کچھ تو ضرورت سے زیادہ ادب سے پیش آتے ہیں ۔کچھ ایسے بچھے جاتے ہیں جیسے ہم ان پر احسان کررہے ہوںاور کچھ اس قدر اکھڑپن سے پیش آتے ہیں جیسے وہ ہم پر احسان کررہے ہوں ‘‘۔ڈاکٹر عابد علی کا مضمون ’مچھر نامہ‘بھی خاصہ کی چیز ہے ،وہ فرماتے ہیں ’’ڈینگی کا یہ دعویٰ کہ جو کام مرد انجام نہ دے سکے وہ اس نے کر دکھایا ۔یعنی ہمارے خوف سے خواتین بھی خود کو پوری طرح ڈھانپ کر رکھتی ہیں ۔یہاں تک کہ انہوں نے پاؤں میں جراب اور ہاتھ میں دستانے پہننا شروع کردیے ہیں‘ ‘۔’ڈاکٹر یافوق البشر ‘ڈاکٹرمحمدخالد عبدالسمیع کا مضمون ہے جس میں ڈاکٹروں کے رویہ پر طنز کیا گیا ہے ۔ان کے بقول’’مریضوں کو ایک یا دو سے زیادہ سوالات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ ڈاکٹر بہت مصروف ہوتے ہیں ۔جوابات بہت مختصر اکثر اشاروں میں دیے جاتے ہیں ۔اگر مریض ہمت کرکے ایک دو سوال کرے تو بجائے جواب دینے کے سوال کیا جاتا ہے ۔’ڈاکٹر کون ہے ،میں ہوں یا آپ؟‘۔صاحب کتاب ڈاکٹر عابد معز صاحب کا بھی ایک مضمون بعنوان’نیم حکمت ‘شامل ہے ،جس میں ایسے لوگوں پر طنز کیا گیا ہے جو اپنے دوست یا رشتہ داروں کو اپنی گھریلو دوائیں کھلا کر انہیں تختہ مشق بنانے پر تلے رہتے ہیں ۔ڈاکٹر عابد معز نے جس عرق ریزی کے ساتھ ڈاکٹر مزاح نگاروں کے مضامین تلاش کئے ،ان کا انتخاب کیا،اور کتاب کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر مزاح نگاروں ،طنزومزاح اور ہنسی پر ایک دائرۃ المعارف کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔
(مضمون نگار معالج اور آزاد کالم نویس ہے )
[email protected]