تاشقند// پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کر لیں تو پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا، ایک جانب ہندوستان کی بڑی منڈی ہوگی، دوسری جانب چین اور ایک جانب پاکستان ہوگا لیکن بدقسمتی سے تنازعات کی وجہ سے صلاحتیوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔یہ بات انہوں نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیاکانفرنس میں کہی۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان، ازبک صدر شوکت، افغان صدر اشرف غنی سمیت خطے کے ممالک کے اہم عہدیداران اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔کانفرنس میں تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حل طلب تنازعات کی وجہ سے خطہ ٹکڑوں میں بٹا رہا ہے اور دہائیوں تک متحد نہ ہوسکا۔پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ روابط کے اس منصوبے میں دوسرا سب سے بڑا چیلنج پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علاقائی غیر حل شدہ تنازعات ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان قدرتی زمینی پُل ہے اور یہاں امن کا قیام خطے کے درمیان روابط کو خواب سے حقیقت میں بدلنے کے لیے انتہائی اہم ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں استحکام ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے کیوں کہ یہ براہ راست ہمیں متاثر کرتی ہے ، پاکستان امن و تصفیے کے لیے تعمیر نو اور معاشی ترقی سمیت تمام منصوبوں کی حمایت کرتا رہے گا۔