خدا نے خطہ کشمیر کو اس قدر خوبصورت بنایا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اس کے قدرتی مناظر کا لطف اٹھانے آتے ہیں اور ان نظاروں کو دیکھ کر کشمیر سے واپس جاتے ہوئے وہ طویل مدت تک ان وادیوں کے حسن وجمال میں کھوئے رہتے ہیں۔ مناظر کشمیر کا عکس ہر وقت ان کی آنکھوں میں گھومتا رہتا ہے۔ ان کی یادیں ہر آنے والے کو واپس جا کر تڑپاتی ہیں اور وہ کشمیر کے حسین خوابوں میں کھو جاتے ہیں۔کشمیر کے رہنے والے خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ وہ اس جنت نظیر خوبصورت وادی میں رہتے ہیں۔ یہ قوم کشمیر کی پرا پر جائی اور عظمتوں کی خاطر زمانے کا ہر غم والم اور ہر ظلم و ستم برداشت کر رہی ہے کیونکہ یہ جانتی ہے کہ جس کشمیر میں ہم نے اپنی زندگی کے جو حسین وجمیل لمحات گزارتے ہیں وہ اورجگہوں کے مقابلے میں ایک صدی برابر ہوتے ہیں۔ کشمیر کا کوئی باشندہ اپنے ماضی کا آئینہ دیکھتا ہے تواس میں اس کو امن و امان،چین و سکون اور خوشحالی و ترقی نظر آتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس آئینے کے اتنے ٹکڑے گئے ہیں کہ اس کی کرچیاں ابھی تک ادھر ادھر بکھری ہوئی پڑی ہیں۔کشمیری قوم جی توڑ محنت کاوش سے اس آئینے کو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کام میں جو زخم ہندوستان معصوم کشمیریوں کو دے رہا ہے،بھلے ہی اس میں ان کو اپنے ہاتھ بھی زخمی کرنے پڑتے ہیں، وہ زخم کبھی نہ کبھی حریف ورقیب کی پسپائی سے مندمل ہوجائیں گے ۔تاحال کشمیر کی بکھری ہوئی کرچیوں کو اکٹھا کر نے میں تاریکیاں اور کربناکیاں سنگ گراں بن کر حائل ہیںمگر کشمیری قوم اس کام کو ہر قیمت پر جاری وساری رکھنے کو ہی اپنے آنے والے مستقبل کے لئے روشنی کو نوید سمجھ رہی ہے۔ایک وہ دن تھا جب میرا کشمیر خوشحالی اور امن کا گہوارہ تھا،جہاں چپے چپے سے لوگ آکر اپنی زندگی کا ہر ایک غم کچھ مدت کے لئے بھول جاتے تھے،دنیا کے کسی ملک سے آیا ہوا انسان وادء گلپوش میں قدم رکھتا تو اسے لگتا تھا کہ گویا جنت کے کسی حصے میں آگیا ہوں جہاں اسے نہ کسی کا خوف نہ دہشت اور نہ غم و پریشانی۔اپنی بے قراری کو ختم کرنے کے لئے وہ جب جھیل ڈل کے کنارے جھیل کی لہروں کو سکون کے ساتھ ہوا دیکھتا تو خود بخود اس کے دل میں بھی قرار اور سکون ملتا اور اس کے دل کی دھڑکنیں لطیف انداز سے اٹھتی۔وہ جب یہاں کے پھلوں بھری وادیوں اور جنگلوں سے گزرتا تھا تو یہ اسے دنیا سے بے خبر کر دینے کے لئے کافی تھے۔ خوشبو سے آشنا لوگ یہاں کے پھولوں کو اپنے کوٹ کے کالروں پر سجا تے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے انہی پھولوں سے اصل خوشبوئیں وجود میں آئیں۔بادام واری کا وہ منظر جب لوگ تھکے ہارے شام کے وقت کشمیری چائے کا سماوا ساتھ لیکر دوستوں اور رفیقوں کے ساتھ بادام واری میں پی لیتے تو چائے کے ہر گھونٹ کے بعد آدمی دن بھر کی تھکاوٹ بھول جاتا تھا۔
بادام کے درختوں کے سفید پھول ہر شخص پر سایہ کرتے تھے اور کوئی بھی انسان یہ محسوس کرتا کہ وہ امن وامان کی آغوش میں آچکا ہے جہاں سفید پھولوں کی چادر کے نیچے نہ غم کی بارش ہوگی اور نہ مصیبتوں کا طوفان اٹھے گا، پہلگام اور گلمرگ کی نرم گھاس پر ننگے پاوں چلنے والے محسوس کرتے تھے کہ گویا مخمل پر چل رہے ہیں۔صبح کے وقت اس گھاس پر شبنم کے قطرے ہر آنے والے کا استقبال کرتے ہوئے اپنی مہمان نوازی کی روایت قائم رکھتے ہوئے اس کے پاوں کو چومتے۔ اہرہ بل کا وہ سماں جب چودھویں کا چاند نکلتا تھا چاند کا عکس جب آبشار پر پڑتا تو آبشار پانی نہیں بلکہ اونچائی سے نور برستا دکھائی دیتا۔
غرض یہ کہ کشمیر امن و آشتی،پیار و محبت، اور چین و سکون کی آماجگاہ تھا مگر بدقسمتی سے آج کشمیر جل رہا ہے جو کشمیر کل تک دوسروں کو اپنے سینے میں جگہ دیتا تھا آج اس کشمیر کا سینہ چھلنی کیا جاتا ہے۔پچھلی کئی دہائیوں سے حکمرانوں نے چاہے وہ ریاست میں برسرِ اقتدار ہوئے یا مرکز میں، انہوں نے یہاں پر قتل و غارت کا بازار گرم کرکے رکھا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ناراض نوجوانوں کا خون اتنی بے دردی سے اور ایسے بے دریغ انداز میں بہایا گیا کہ کوئی عقل کا اندھا بھی اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہتا کہ کشمیری عوام کے عزائم کو بدترین حربوں سے بھی نہیں کچلا جاسکتا ہے،سب کچھ ناراض نوجوان کے ہاتھ میں ہے جو موت سے چھل کپٹ کرنے سے نہیں ڈرتے اور پھر ایسے معصوم اور ننھے بچوں کو موت کا کیا خوف۔ شاید کرسی کے متوالے اندھ کاری حکمرانوں کی آنکھوں میں دھول جمی ہے یا پھر وہ یہ دیکھ کر اور جان کر بھی انجام بنے ہوئے ہیںکہ یہ ناراض نوجوان پلٹ گنوں کے سامنے سینہ تان کے کھڑے رہتے تھے اور موت کے خوف اور ڈر سے بے نیاز ہوتے ہیں۔در اصل مئی 1987میں بھارت کی جمہوریت اور اندھا دھند سیاست سے مایوس سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں نے عسکری جدوجہد کا فیصلہ لیا توکشمیر عملی طور پر میدان جنگ بن گیااورجانی و مالی نقصانات کا حجم ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہاہے۔ اب تک پیرو جوان، بچے اور خواتین اس جنگ کی بھینٹ چڑھ کر اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں ، گمشدہ افراد تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار سے بھی زیادہ ہیں،مقتولین کی تعداد :94650،حراستی ہلاکتیں :7090،بیوائیں :22840،یتیم ویسیر' :107620،گرفتاری کے بعد تشدد کے شکار :139714،عصمت ریزی کا شکار خواتین :10930،تعمیرات جو مکمل طور پر تباہ ہوئیں :107850۔نقصان اس سے کئی گنا زیادہ ہیں مگر یہ وہ اعدادو شمار ہیں جو انٹرنیٹ پر صرف میڈیا رپورٹوں سے حاصل کر کے جمع کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی جاں بحق ہوئے تب سے لے کرآج تک فوج اورنیم فوجی دستوں نے جس طرح سے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا ،اس کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔ رواں سال میں حسب سابق فورسز اور پولیس معصوموں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے جارہے ہیں،پچھلے دنوں ہی فوج اور پولیس نے تین نہتے شہریوں کو چاڈورہ بے دردی سے گولیوں کا نشانہ بنایا جن میں پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی زاہد رشید، دو بہنوں کا راج دلارا عامر فیاض، اور تیسرا بے درد گولیوں کا نشانہ بننے والے اشفاق وانی بھی شامل ہیں۔ کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کے دوران فورسز نے پیلٹ بندوقوں کا بے دریغ استعمال جاری رکھا ہوا ہے، ان بندوقوں سے نکلنے والے غیر مہلک آہنی ریزوں نے کئی اب تک بے شمار اجسام کو چھلنی اور سینکڑوں آنکھوں کو متاثر بلکہ ان میں کئی ایک کو ہمیشہ کیلئے بے نور کر دیا۔
مگر اے کشمیر! اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ، ایک وقت عنقریب آئے گا جب تیرے ہنسنے کھیلنے کے دن پھر سے آئے گے، تیری اجڑی ہوئی مانگ پھر سے سجے گی،تیرے تار تار دامن کو پھر تیرے گود میں پلنے والے اپنی انگلیوں کو زخمی کر کے جوڑ دیں گے ڈل کی لہریں پھر سے لوگوں کو امن کا پیغام دیں گی۔تیرے سینے سے بارود اور گولیوں کی آواز یا بدبو نہیں آئے گی بلکہ مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو آئے گی، تیری آباد زمین پر فوجی بارکیی اور گند خانے نہیں بنائے جائے گے بلکہ اس پر تعلیمی ادارے بنیں گے جو نوجوان نسل کے ذہن و دماغ کو روشن کریں گے۔تیرے کھوتے ہوئے وقار کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ میرے کشمیر! تو اپنا ہاتھ قوم کے دل پہ رکھ تجھے قوم کے دل بے قرار ملیں گے۔ تجھے گلے لگانے کے لئے ساری قوم کے ہاتھ ہوا میں لہرا رہے ہیں۔تیرے ماتھے کو چومنے کے لئے قوم کی ماؤں کے لب تھر تھرا رہے ہیں۔لاکھوں لٹی عصمتیں اور جانیں تیری سرحدوں کو محفوظ رکھنے کے لئے دم توڑ چکی ہیں مگر میرے کشمیر یہ قوم ابھی تھکی نہیں،ان کے بازوؤں میں ابھی ہمت ہے،ان کے دلوں میں سمندر سے زیادہ گہرائی ہے جس گہرائی میں دوسروں کے غم و پریشانی اور بے پناہ ظلم و ستم دکھائی نہیں دیتا ہے۔ایک وقت آئے گا جب پھر ایک بار تیرا مستقبل شاندار بن کر پوری دنیا میںچمکے گاجو خوشیوں اور شادمانیوں سے اہل وطن کے تار تار دامن کا رفو کریں گے اور اس وقت بہہ رہے خون کے آنسو تب تھم جائیں گے جب کشمیر کا مستقبل محفوظ اور حب الوطنی سے سرشار ہاتھوں میں دیکھا جائے گا۔ میرے کشمیر! تیری کوکھ سے جنم لینے والا ہرمتنفس تجھے اتنا ہی عزیز رکھتا ہے جتنا ہندوستانیوں کو ہندوستان یا پاکستانیوں کو پاکستان عزیز ہے۔اس وقت سیاسی سوداگروں نے ہمارے درمیان خونی دیوار کھڑی کر دی ہے مگر میرے کشمیر تیرے تابناک ماضی کی قسم ایک دن قوم مل کر اس دیوار کو زمین بوس کر دے گی اور اس دیوار کے تمام کاریگر اس کے بھاری بھرکم ملبے کے نیچے دب جائیں گے،ان کی سوداگریاں اورا ستحصالی کرتب ختم ہوجائیں گے اور تب ہمارے درمیان کوئی دوسری قوت آڑ بن کے نہیں آئے گی اور دنا کی کوئی طاقت ہمیں ایک دوسرے کے گلے ملنے سے نہ روک پائے گی،صرف ہم ہوں گے اور تاروں بھرا آسمان ہوگا جس کے نیچے بیٹھ کر ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹیں گے اور دہائیوں طویل ظلم وستم کی زنجیروں سے آزادی پائیں گے، پھر دنیا دوبار ہ ہمیںصرف اپنی چرب دست اور تروماغ قوم پکارنے میں خوشی محسوس کر ے گی اور کشمیر امن وآشتی ا ور بھائی چارے کے ساتھ ساتھ تعمیر وترقی کے ماتھے کا جھومر ہو گا ۔ اس دن کا سورج عنقریب طلوع ہوگاچاہے کسی کو اچالگے یا بُرا لگے ۔ ہم علامہ اقبال کے اس شعر کو اس وقت تک گنگنا تے رہیں گے ؎
توڑ اس دست جفا کیش کو یا رب
جس نے روحِ آزاد یٔ کشمیر کو پامال کیا
رابطہ7298430453