احمد اقبال ( اِکز )
کہتے ہیں کہ کسی معاشرے کی اصل تصویر اس کے آئینوں میں نہیں، اس کے بچوں کی زبان پر لکھی ہوتی ہے۔ بچے جھوٹ نہیں بولتے، وہ صرف وہی دہراتے ہیں جو وہ سنتے ہیں، جو دیکھتے ہیں اور جو محسوس کرتے ہیں۔ ان کی زبان دراصل ہمارے گھروں، ہمارے اسکولوں، ہماری گلیوں، ہماری سیاست، ہمارے میڈیا اور ہماری اجتماعی سوچ کی بازگشت ہوتی ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے ایک معصوم بچے کے چند جملوں نے پوری وادی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کشمیر کے تمام زخم مندمل ہو چکے ہوں، تمام مسائل حل ہو گئے ہوں، بے روزگاری ختم ہو گئی ہو، تعلیمی بحران دم توڑ چکا ہو، منشیات کا سیلاب رک گیا ہو، اخلاقی زوال کا باب بند ہو چکا ہو اور اب پوری قوم کے پاس گفتگو کے لیے صرف ایک معصوم بچہ باقی رہ گیا ہو۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بچہ نہیں بولا۔۔۔ہمارا معاشرہ بول پڑا ہے۔ ہم سب نے اس بچے کے الفاظ سن لیے، مگر کسی نے اس خاموش چیخ کو سننے کی کوشش نہیں کی جو ان الفاظ کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ ہم نے لہجے پر مقدمہ قائم کر دیا، مگر اس کیفیت کو سمجھنے کی زحمت نہ کی جس نے ایک بچے کو اس لہجے تک پہنچایا۔
ہر طرف انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ کوئی والدین کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے، کوئی اساتذہ کو، کوئی اسکول کو اور کوئی حکومت کو۔ مگر شاید ہم سب ایک بنیادی حقیقت بھول گئے ہیں کہ ایک بچہ صرف گھر کی پیداوار نہیں ہوتا، نہ صرف اسکول کی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے پورے معاشرے کا عکس ہوتا ہے۔
گھر اُسے بولنا سکھاتا ہے، اسکول اُسے علم دیتا ہے، مگر معاشرہ اُسے لہجہ، رویہ، ترجیحات اور ردِعمل سکھاتا ہے۔ اگر گھروں میں برداشت کم ہوگی، اگر گلیوں میں شائستگی ختم ہوگی، اگر سیاست میں تہذیب مفقود ہوگی، اگر میڈیا میں شور سچائی پر غالب آ جائے گا، تو بچوں کی زبان سے پھول نہیں جھریں گے۔ اس لیے ہر غلطی کا بوجھ صرف والدین یا صرف اساتذہ کے کندھوں پر ڈال دینا نہ دانشمندی ہے اور نہ انصاف۔
بعض اوقات ایک بچے کے بے ساختہ الفاظ پورے معاشرے کے دبے ہوئے احساسات کی گواہی بن جاتے ہیں۔ مگر اس پوری کہانی کا ایک اور کردار بھی ہے، جس پر حیرت انگیز خاموشی اختیار کی گئی۔ کسی نے یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ ایک کم سن بچے کو سیاسی اور حساس نوعیت کے سوالات پوچھنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟
اگر کوئی صحافی جان بوجھ کر بچوں سے ایسے سوالات کرے، جن سے جذباتی یا متنازع جملے حاصل ہوں، پھر انہی چند سیکنڈز کو کاٹ کر، جوڑ کر اور وائرل کر دے، تو یہ صحافت سے زیادہ سنسنی خیزی معلوم ہوتی ہے۔ صحافت کا مقصد آگ بجھانا ہے، اس پر تیل چھڑکنا نہیں۔ صحافت کا منصب کمزور کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ اسے ریٹنگ اور ویوز کی منڈی میں کھڑا کر دینا۔ افسوس یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں بعض لوگوں نے قلم کو کاروبار، مائیک کو تجارت اور کیمرے کو ہتھیار بنا لیا ہے۔ اب خبر کی اہمیت اس کے سچ ہونے سے نہیں، اس کے وائرل ہونے سے طے کی جاتی ہے۔ جس خبر سے زیادہ لائکس، زیادہ کمنٹس، زیادہ شیئرز اور زیادہ ویوز مل جائیں، وہی کامیاب صحافت قرار پاتی ہے، خواہ اس کے لیے کسی معصوم بچے کی شخصیت ہی کیوں نہ داؤ پر لگانی پڑے۔ یہ صحافت نہیں، صحافت کے مقدس پیشے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ صحافت نہیں کثافت ہے غلاظت ہے۔
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی تنزلی کا شکار ہو چکا ہے۔ ہم بڑے خود ایک دوسرے کی عزت کرنا بھول گئے ہیں، مگر بچوں کو ادب کا درس دے رہے ہیں۔ ہم خود اختلاف کو گالی میں بدل دیتے ہیں، مگر بچوں سے شائستگی کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم خود قانون کو اپنی سہولت کے مطابق تولتے ہیں، مگر بچوں سے انصاف کی امید رکھتے ہیں۔ ہم خود سچ کو مصلحت کے ترازو میں رکھتے ہیں، مگر بچوں سے صداقت چاہتے ہیں۔ یہ تضاد ہے اور یہی تضاد ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔
حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ معاشرے میں ایسے بے شمار مسائل موجود ہیں جن پر ہماری حساسیت کہیں نظر نہیں آتی۔ تعلیم کے گرتے ہوئے معیار پر خاموشی ۔۔۔نوجوان نسل میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر خاموشی ۔۔۔اخلاقی انحطاط پر خاموشی ۔۔۔جھوٹ، بدعنوانی اور کردار کشی پر خاموشی ۔۔۔لیکن ایک بچے کے چند جملے پورے معاشرے کی غیرت کو اچانک بیدار کر دیتے ہیں۔ یہ ترجیحات کا بحران ہے۔قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے بچے سوال پوچھتے ہیں؛ قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے اہلِ قلم سوال پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں، جب صحافی طاقتور سے سوال کرنے کے بجائے کمزور کی معصومیت کو سرخی بنا دیتے ہیں اور جب سچائی ریٹنگ کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
ہمیں اس بچے کو نہیں، اپنے آپ کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس بچے نے صرف چند جملے کہے ہیں، مگر ان جملوں نے ہمارے گھروں، ہمارے اسکولوں، ہمارے میڈیا، ہماری سیاست اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔
ہمیں اپنے ضمیر کو جگانا ہوگا۔کیونکہ یہ بچہ نہیں بولا تھا یہ ہمارا تعلیمی نظام بولا تھا۔ یہ ہماری اجتماعی اخلاقی تنزلی بولی تھی۔ یہ ہماری ترجیحات بولی تھیں اور شاید سب سے زیادہ۔۔۔ہمارا خاموش ضمیر بول پڑا تھا۔
(مضمون نگار، ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہیں)
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]