بلا شبہ اللہ تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات سے اعلیٰ بنایا۔ مگر کچھ حیوانی جبلیات بھی انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ ایک جانور جبلیات کے آگے بے بس اور لاچار ہے،اور کسی بھی وقت اپنی درندگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کواپنی جبلیات پر قابو پا نے کی قوت بھی عطا کردی ہے، جس کی وجہ سے وہ انسان کہلاتا ہے۔ انسان کے اندر دل اور دماغ ایسی نعمتیں ہیں، جن کو استعمال کرکے، وہ اعلیٰ بن سکتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک انسان کو ایک اعلیٰ انسان بننے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟ وہ کیوں نہیں وہی انسان بنتا ہے جو اس کی اصل شناخت وپہچان ہے؟
پہلا ہے مادیت۔ ایک انسان کو بنانے والے نے پہلے ہی یہ بات واضح کردی تھی کہ مادیت کی ہوس بُری چیز ہے۔جو اس کو گمراہی کی وادیوں میں پہنچا سکتی ہے۔ اس سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔ مگر انسان نے اس کو ہی گلے لگایا ہے۔ مانا کہ اس میں آرام کا عنصر موجود ہے، مگر اس میں زیادہ تر خرابیاں ہی ہیں۔ کس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ کہ اب انسان صرف کمانے کے لئے جی رہاہے۔ پیٹ بھرنے کے لئے، گاڑیاں لانے کے لئے، اونچے اونچے مکانات بنوانے کے لئے، آنے والی مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی صرف کرتا ہے۔ اس دوڑ میں وہ انسانی جذبات سے محروم ہوتا جارہا ہےاور اس میں حیوانی جبلیات غالب ہوتے جارہے ہیںگویا انسان آہستہ آہستہ جانور جیسا بنتا جارہا ہے، جو صرف اپنے کھانے کے بارے میں فکر و سوچ رکھتا ہے اور بس ۔شائد اسی لئے یہ انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ بھی رشتے اور دوستیاں قائم رکھتا ہے مگرمحض نجی مفادات کی بنیاد پر۔ وہ ہر چیز میں اپنافائدہ ڈھونڈتارہتاہےاور اب اُسے پوری دنیا صرف ذاتی فائدے کا سامان دکھائی دیتی ہے۔ دوسرا بات ہے دین سے دوری کی۔ دین اسلام اصل میں ایک انسان کو اللہ کا بندہ بنا دیتا ہے، یہ اس کو دوسروں کی عبادات سے دور رکھتا ہے، یہ اس کو صرف اللہ کا رہنے کی نصیحت کرتا ہے، یہ اس کو سمجھاتا ہے کہ دنیا میں رہ کر دنیا کا غلام نہ بنو۔ مگر یہ انسان اب دین کو بھی اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے لگا ہے۔ جہاں اُسےزیادہ سے زیادہ فائدہ دکھائی دیتا ہے، وہاں دین کو استعمال کرتا ہےاور اس کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے ۔جہاںاُسے اپنا فائدہ نہیں دکھائی دیتا ہے ، وہاں دین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی جائز اور ناجائز دونوں خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے،اور انسانیت کے تما م تقاضے بھول حیوانی جبلیات کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔اور اس طرح ہر وقت انسانیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ہمہ وقت تیاررہتا ہے۔ تیسرا ہے اپنی انا کا پرستار۔ انسان سوچتا ہے کہ پیدا ہونے کے بعد میں ہر طرح سے آزاد ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالی نےہی انسان بنایا ہے کئی معاملات میں اُسے بالکل آزاد رکھا ہے جبکہ کئی معاملات میں اُسے مخصوص حدود کا پابند بھی رکھا ہے۔ ہر ایک انسان کی اپنی ایک پہچان ہے۔جس کو بنانے اور نکھارنے کے لئے بنانے والے نے راستے بھی متعین کرکے رکھے ہیںلیکن انسان ہے کہ ہر معاملے اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنے لگا ہے، بنانے والے کے احکامات پر چلنے کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ من مانے قواعد و ضوابط کے تحت چلتا رہتا ہے۔اگر کوئی صحیح راہ بھی دکھائے تو اُسےاپنی من مانی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت نے بھی انسان کو دوسرے انسانوں سے دور کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ صرف اپنی اَنّا کے خول میں بند پڑا رہتا ہے اورکسی کے لئے بھی فائدی مند ثابت نہیں ہوتا ہے۔
اب اگر انسان چاہتا ہے کہ پھر سے انسان بنے، تو اس کو اپنی بہت ساری عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے پڑے گا۔ سب سے پہلی چیز جو اس راہ میں سب سے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے ،تووہ ہے اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں کو بھی جگہ دے دینا۔محض نجی مفادات کے خول سے نکل کر دوسروں کے بھی مفادات کا خیال رکھنا۔ کسی کو تکلیف میں دیکھے تو اس کی تکلیف کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا۔سب سے اہم بات یہ کہ اپنے دین کی قربت حاصل کرنا۔یاد رہے کہ ایک انسان جتنا دین کی طرف آئے گا، اُتنا وہ اللہ کی مخلوق سے محبت کرتا جائے گا۔ َاس کے دل میں انسانیت کا زیادہ سے زیادہ مادہ پیدا ہوگا۔ وہ اس حقیقت سے آگا ہوتا جائے گا کہ انسان کی اصل بڑھائی کس بات میں ہے۔ کون سی چیز ہے جو انسان کو بلندی تک لے جاتی ہے اور وہ کون سی چیز ہے جو اس کو پستی کی طرف لے جاتی ہے۔ آخری بات ہے کہ ہم اَنا اور ہٹ دھرمی و ضدکی بیماری سے دور رہیں۔ یہ بُری چیزیں ہر معاملے اور ہر سطح پر انسانی فلاح و بہبودی کے کاموں میں بڑی رکاوٹیں کھڑا کردیتی ہیں۔ جب اَنّا ختم ہوجاتی ہے، تو انسان دوسرے انسانوں کو اپنے برابر سمجھنے لگتا ہےاور اپنا سمجھ کراُسے پیار سے دیکھنا شروع کرتا ہےاور پھر وہ حیوانی جبلیات سے نکل کر انسانیت والا انسان بن جاتا ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ انسان واقعی انسان بننے کی کوشش کرے۔ انسانیت کے روپ میں ہم نے بہت ساری حیوانی خصائل کا مشاہدہ کیا ہے۔ اب ہم چاہئے کہ انسانیت کا چلن عام کریں۔ انسان حقیقی معنوں میں انسانیت کے دامن میں آجائیں۔کیونکہ انسان کے لئے شکل سے ہی نہیں بلکہ عقل سے بھی انسان ہونے کی ضرورت ہے۔ آیئے اس کام میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔
حاجی باغ، سرینگر