عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//خطے کے فلوری کلچر شعبے کو بڑی تقویت دیتے ہوئے زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے مائونٹین کراپ ریسرچ اسٹیشن (MCRS)ساگام کا دورہ کیا اور سینٹر آف ایکسیلنس آن ٹیولپ بلب ملٹی پلکیشن میں جاری تحقیقی آزمائشوں کا معائنہ کیا۔’لیب ٹو لینڈ‘اقدام کے تحت یونیورسٹی کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے خود شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور سائنسی عملے کے ہمراہ ٹیولپ کے بلب لگائے۔ ان کی عملی شرکت نے مقامی سطح پر بلب کی تیاری کے اس اہم منصوبے پر کام کرنے والے محققین کے حوصلے بلند کیے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ایچ آر نائیک، شعبہ فلوری کلچر و لینڈ اسکیپنگ کے سربراہ پروفیسر قاضی الطاف، ایم سی آر ایس ساگام کے انچارج پروفیسر ایم اے منٹو اور پروجیکٹ انچارج پروفیسر امتیاز بھی موجود تھے۔وائس چانسلر کو اسٹیشن پر کی گئی تکنیکی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ پروفیسر امتیازنے بتایا کہ اس مرحلے میں کم از کم 30 مختلف اقسام کے ٹیولپس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ وادی کے لیے سب سے زیادہ موزوں، مضبوط اور تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل اقسام کی نشاندہی کی جا سکے۔ اتنی متنوع اقسام کے لیے معیاری طریقہ کار طے کرنا نیدرلینڈز سے درآمد شدہ بلب پر خطے کے انحصار کو کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے قلیل مدت میں مقام کو ترقی دینے پر پروفیسر منٹو، پروفیسر قاضی الطاف اور وابستہ سائنسدانوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ساگام میں قائم سینٹر آف ایکسیلنس کشمیر کو خود کفیل بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور وادی کو بلب کی پیداوار کا مرکز بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔