بلال احمد پرے
اسلام کے بنیادی ارکان (شہادت، صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ) میں سے حج پانچواں رکن ہے ۔ حج چونکہ شعارِ توحید میں سے ہے ۔ جس کے فریضہ کے لئے امن والے شہر کی طرف سفر کرنا پڑتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں ( کی عبادت ) کے لیے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے ( اور ) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیا جہاں کے لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان ہے ۔ ‘‘ (آل عمران؛ 96)
مذکورہ بالاآیت نے صراحتاًیہ جواب دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نشانی ہے ۔ لہٰذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز کسی کے لئے قابل اعتراض نہیں ۔
جب اس گھر کی تعمیر حضرت ابراہیم خلیل اللہ و حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہم السلام سے مکمل ہوئی تو حکم ہوا کہ تمام جہاں والوں کو ‘ایک عالم، ایک نعرہ (Universal Slogan) میں اللہ کے گھر میں بلند آواز سے آنے کی دعوت دیں دی جائیں ۔ اس دعوت کا ذکر اللہ رب العالمیین نے قرآن کریم میں یوں فرمائی ہے کہ’’ اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو ۔‘‘ (الحج؛ 27)
اولوالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بآواز بلند ایک عالم، ایک نعرہ (Universal Slogan) لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ۔۔ سے صدا لگائی ،یہی وجہ ہے کہ
مسلمان جب حج کی ابتدا کرتا ہے تو اسی لمحے سے توحید کے نعرہ سے حرم کعبہ گونجنا شروع ہو جاتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے
’’لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَك‘‘ (صحیح البخاری؛ 1549)
ترجمہ ۔ حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو منادی کی یہ اسی منادی کا جواب ہے ۔ جس میں اخلاص سے اُس کی طرف متوجہ ہونے کا اظہار ہے ۔ یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ صرف وہی حمد و ثناء اور عبادت کے لائق ہے ۔ وہی تمام نعمتوں اور مخلوقات کا مالک ہے ۔ ان سب کے پیدا کرنے میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس طرح حجاج کرام حج کے دیگر اعمال کرتے ہوئے چلتے پھرتے بھی عقیدہ توحید کے نعرہ کو گنگناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
لفظ لَبَّيْكَ سے مراد ہے کہ ہماری حاضری اللہ کے سامنے ہر وقت مسلسل ہو ۔ اور اس میں بِلا کسی ملاوٹ کے، اُسی طرح خالص محبت کے ساتھ تعظیم اور قرابت بھی شامل ہو جس طرح ایک فرمانبردار بیٹا اپنی ماں کی پکار پر لبیک کہتا ہے کہ اے میرے امی جان! میں یہاں آپ کے سامنے حاضر ہوں ۔
اور لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ سے مراد ہے کہ میں اللہ تعالٰی کے
ہاں بار بار حاضر ہوں ۔ جس کی اطاعت گزاری میں میرے شب و روز ہوں اور آگے بھی اِسی رب العالمین کی بندگی و غلامی کا پٹہ لگائے رکھنا ہے ۔ اس سے صرف یہ معنی مقصود نہیں ہے بلکہ انہیں اپنے دل میں بسا لینا اصل مقصد ہیں جس کے بعد یہ زندگی بس اللہ رب العالمین کے احکامات کی مطیع و فرمانبردار بن کر رہ جائے ۔ اور اس بات کا اعتراف کیا جائے کہ اے میرے رب! میں تیری اطاعت پر قائم و دائم ہوں ۔ الغرض تلبیہ اللہ کی بندگی پر قائم رہنے اور پھر اسی پر استقامت سے گامزن رہنے کا عزم دلاتی ہے ۔
یہ الفاظ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
جب ایک مسلمان کے کانوں میں گونجنے لگتی ہیں تو روح کو سرور حاصل ہوتا ہے، بے خودی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، دل کسی اور فضا میں دھڑک رہا ہے، آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ۔ اسی صدا کے ساتھ حمد و ثناء اور شکر کا نغمہ جڑا ہوا ہے جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ رب اس سارے جہاں کا خالق و مالک ہے ۔
اصل میں دیگر عبادات کی طرح حج کا مقصد اور اس کی روح بھی عقیدہ توحید سے بھری ہوئی ہے ۔ جس سے حج میں داخلے ہونے کے دوران الفاظ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کو کنجی کی حیثیت حاصل ہے ۔ مز ید اس چیز کا بھی بآواز بلند اعتراف کیا جاتا ہے کہ حقیقت میں تمام جہانوں میں بادشاہی صرف اور صرف ایک اللہ رب العالمین کی ہے جس کے سامنے تمام جہانوں کے تمام مخلوقات محتاج ہیں ۔
حج کے دوران دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہوئے تقریباً ۲۰ لاکھ عازمین کرام مختلف رنگ و قبیلے، زبان، کلچر، رہن و سہن سے تعلق رکھنے والے عالمی سطح کے مرکز پر پہنچتے ہی عالمی نعرہ میں لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ۔ کی صدا بلند کرتے ہوئے عقیدہ توحید سے گنگناتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کے ارد گرد ساری مخلوقات اسی صدا میں گُھل مِل جاتی ہے ۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب بلند آواز سے لبیک کی صدا لگاتے تو ہر طرف سے اس صدائے ولولہ انگیز کی بازگشت کی آواز آتی اور تمام حجر و شجر، دشت و جبل گونج اٹھتے ۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ’’کوئی بھی مسلمان تلبیہ کہے تو اس کے دائیں بائیں حجر و شجر اور مٹی سے بنی ہر چیز یہاں دائیں سے، یہاں بائیں تک پوری زمین تلبیہ سے گونج اٹھتی ہے ۔‘‘ ( ترمذی)
لیکن اس پُر فضا، دلکش اور خوبصورت نظارہ پیش کرنے والے ایام میں عازمین میں سے ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جن کی صدا لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کو ان الفاظ “لا لبيك ولا
سعديك، زادك حرام، ونفقتك حرام، وحجك غير مبرور‘‘ سے صرف اس وجہ سے مسترد کیا جاتا ہے کہ اُن کا کھانا، لباس اور خرچہ حرام ہی حرام پر مبنی ہوتا ہے (الطبرانی) ۔ اور اس طرح ایسے بدنصیب اور بدقسمت گروہ کا حج بھی قبول نہیں کیا جاتا ہے ۔
الغرض ہم سب جب اپنے اپنے خطے کی مختلف چھوٹی چھوٹی مساجدوں میں حی علی الصلوٰۃ کی صدا پر داخل ہوتے ہیں تو ہم بھی عالمی نعرہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کے ساتھ اس چیز کا اعتراف کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہم حاضر ہے، تیری بارگاہ میں حاضر ہے، بے شک تو غنی ہے، احد و صمد ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تیرا کوئی وزیر نہیں، ہم تیرا ہی حمد و ثناء اور شکر کرتے ہیں، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہم سب
تیرے ہی محتاج ہے، تیری ہی یہ زمین، تیرا ہی یہ آسمان، تیری ہی یہ سب نعمتیں ہے ۔ ہم تیری ہی رحمت، قربت و مغفرت کے طلب گار ہیں ۔
���
موبائل نمبر؛9858109109