گول//گول میں محکمہ جل شکتی کی جانب سے تعمیر ہوئے اکثر حوض بے کار پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچنے کے باوجود لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔ گول میں کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف سیاسی پارٹی سے وابستہ لوگوں نے جائے موقعہ پر جا کر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ زلس مقام پر دو سال قبل محکمہ جل شکتی نے ایک حوض بنایا تھا جس پر دس لاکھ کا تخمینہ تھا لیکن جب حوض تیار ہوا تو اس میں پانی ڈالا گیا تو وہ پانی اس حوض سے خارج ہونے لگا اور کچھ ہی ماہ کے اندر حوض میں بڑی بڑی دراڑیں پڑیں جس وجہ سے اس میں کسی بھی صورت میں پانی جمع نہیں رہ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب اس کو دوبارہ تعمیر کریں گے تب ہی اس میں پانی جمع رہ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے ٹھیکیدار سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ متعلقہ حکام نے چالیس فیصد رقم بطور کمیشن لی ہے تو ہم اس کی تعمیر پر کیا لگاتے ۔ عبدالرحیم شان اور محمد شفیع ملک و دیگر لوگوں نے اس رشوت ستانی پر اعلیٰ حکام سے تحقیقات کی اپیل کی اور کہا کہ تمام جگہوں پر ایسی ناقص تعمیر کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ایسے لوگوں کے خلاف کڑی سزا ملنی چاہئے تا کہ آئندہ کوئی خزانہ عامرہ کو لوٹنے سے گریز کرے۔ انہوںنے کہا کہ سب ڈویژن گول میں بہت سارے ایسے حوض ہیں جو مکمل طور پر بے کار ہیں جس وجہ سے کروڑوں خرچنے کے با وجود لوگ بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔ اس سارے پس منظر میں جب کشمیر عظمیٰ نے محکمہ جل شکتی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرسے بات کی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حوض میں بڑی بڑی دراڑیں پڑی ہیں اور اس میں پانی نہیں جمع ہو پا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدا ربے لگام ہوا ہے اور کئی مرتبہ فون بھی ٹھیکیدار کو کیا ہے لیکن اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی ٹھیکیدار کو گول کے علاوہ سنگلدان میں بھی ایک حوض تعمیر کرنے کے لئے دیا ہے لیکن وہ کسی بھی جگہ کام ٹھیک نہیں کر پا رہا ہے ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کی جانب سے کمیشن لینے کی بات کر یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا معاملہ نہیں ہے کیونکہ اب ٹینڈر ہوتے ہیں اور بل آن لائن اور ٹینڈر بھی آن لائن ہی ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا معاملہ ہو گا وہ اس کی تحقیقات کریں گے ۔