جرم کا اعتراف کیا، شواہد مٹانے کے ممکنہ پہلو کی بھی تحقیقات جاری
شبیر ابن یوسف
سرینگر//بڈگام پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے گلوان پورہ گاؤں کی 12سالہ بچی کے اغوا، آبروریزی اور قتل کے ہولناک معاملے کو محض 36گھنٹوں میں حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے جرم نے پوری وادی کشمیر کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔اس لرزہ خیز واقعے نے جہاں گاؤں کو سوگ میں ڈبو دیاہے، وہیں پوری کشمیر میں شدید غم و غصے اور مذمت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پیر کے روز پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے اعلان کے ساتھ ہی کیس میں پہلی بڑی پیش رفت سامنے آئی۔سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس بڈگام، ہری پرساد کے کے نے کہا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہے۔انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ہم نے 36گھنٹوں کے اندر کیس حل کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت مدثر احمد کے طور پر ہوئی ہے جو اسی گلوان پورہ گاؤں کا رہائشی ہے‘‘۔ایس ایس پی ہری پرساد نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس ہولناک جرم کو صرف مدثر احمد نے اکیلے انجام دیا۔انہوں نے کہا’’ہم اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کہیں کسی نے شواہد مٹانے میں مدد تو نہیں کی۔
اگر ایسا پایا گیا تو وہ بھی بخشے نہیں جائیں گے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم کو شواہد کے ساتھ آمنے سامنے کیا گیا جس کے بعد اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ملوث نوجوان نے پولیس کو قتل کے بارے میں سب کچھ بتایا اور اس نے اسے کس طرح انجام دیا اسکی تفصیلات بھی بتادیں ہیں۔ایس ایس پی نے کہا کہ واقعے کے پیچھے کون سے مقاصد تھے، اسکے بارے میں تفتیش ابھی چل رہی ہے اور پولیس پیشہ وارانہ طریقے سے تحقیقات کو انجام دے رہی ہے۔ایس ایس پی نے کہا’’ہماری تفصیلی تحقیقات جاری ہے‘‘۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم پیشے سے آٹو ڈرائیور ہے اور اسے مضبوط حیاتیاتی شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم مقتولہ کا پڑوسی تھا۔ذرائع کے مطابق’’اس نے کمسن بچی کو اپنے گھر سے تقریباً 200میٹر دور ایک مکان میں لے جا کر جرم کا ارتکاب کیا‘‘۔بعد ازاں، ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی علی الصبح اس نے بچی کی لاش مقتولہ کے گھر کے قریب پھینک دی۔ذرائع نے کہا’’مکان اور اس کے آس پاس کے علاقے سے نمونے جمع کیے گئے ہیں‘‘۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ کمسن بچی نے مزاحمت کی تھی جس کے نتیجے میں ملزم کے جسم پر معمولی خراشوں کے نشانات پائے گئے۔12سالہ بچی کو ہفتہ کی شام (23 مئی) اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ مقامی درسگاہ سے واپس گھر جا رہی تھی۔ اہل خانہ نے رات تقریباً 10بجے پولیس سٹیشن بڈگام میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی، جس کے بعد ایف آئی آر نمبر 139/2026درج کی گئی اور فوری طور پر وسیع پیمانے پر تلاش مہم شروع کی گئی تھی۔اتوار کی صبح تقریباً 7:15بجے اس وقت المیہ سامنے آیا جب بچی کی لاش اس کے گھر سے محض 200میٹر دور برآمد ہوئی۔ بعد ازاں پولیس نے اس کی تصدیق اغوا، آبروریزی اور قتل کے معاملے کے طور پر کی اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا۔ڈپٹی ایس پی سجاد احمد کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی، جبکہ ابتدائی طور پر چار مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا تھا۔کمسن بچی کی لاش کی برآمدگی کے بعد گلوان پورہ میں دل خراش مناظر دیکھنے کو ملے ۔سوگوار لوگوں نے کہا ’’وہ صرف ایک معصوم بچی تھی۔پاکیزہ، زندہ دل اور زندگی سے بھرپور۔ انہوں نے اسے کسی جانور کی طرح اغوا کیا، اس کی عصمت دری کی اور قتل کر دیا۔ آخر ہمارے درمیان کیسے درندے گھوم رہے ہیں؟‘‘۔پورا گاؤں غم اور صدمے کے باعث مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، دکانیں بند ہو گئی ہیں اور روزمرہ کی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔جدید تحقیقاتی تکنیکوں، جن میں حیاتیاتی شواہد، ٹریکر کتوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ شامل تھا، نے کیس کو تیزی سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ایس ایس پی نے یقین دلایا کہ تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں اور ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’یہ کیس بڈگام پولیس کی اولین ترجیح تھا۔ دستیاب تمام افرادی قوت اور مہارت کو جلد از جلد کیس حل کرنے کے لیے وقف کیا گیا تھا‘‘۔ملزم کی گرفتاری سے غمزدہ خاندان اور عوام کو کسی حد تک اطمینان ضرور ملا ہے، اگرچہ اپنی کمسن بچی کو کھونے کا دکھ ناقابلِ بیان ہے۔پولیس نے ایک بار پھر میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ قانونی تقاضوں کے مطابق کمسن متاثرہ کی شناخت یا تصاویر ظاہر نہ کی جائیں۔ ساتھ ہی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے جاری تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔بچی کی آبروریزی اور قتل جیسے اس ہولناک کیس میں فوری گرفتاری کا مقامی لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے ملزم کو سخت ترین سزا دینے اور مستقبل میں اس طرح کے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔