پونچھ//آج تک ٹی وی چینل کے اینکرروہت سردانہ کی جانب سے جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا، جناب عائشہ اور جناب مریم کی شان میں گستاخانہ ٹوئٹ پر پونچھ میں سنی یوتھ کی بند کال پر دوکانیں بند رہیں اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہیں ۔اس دوران زنانہ پارک پونچھ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیاگیا جس میں ہندو ،سکھ اور عیسائی مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوںنے بھی شرکت کی ۔ اس احتجاج میں آل انڈیا سُنی یوتھ وِنگ کو انجمنِ جعفریہ پونچھ، گُردوارہ پربندھک کمیٹی پونچھ، سِکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن اور تاجروں کی حمایت حاصل تھی ۔سنی یوتھ کے صوبائی صدر اعجاز مدنی نے کہا کہ جب سے دِلّی میں بی۔جے۔پی کی حکومت بر سرِ اقتدار آئی ہے تب سے اقلیتوں بالخصوص مُسلمانوں کے خلاف ایک منظم جنگ جاری ہے،کبھی قانونِ شریعت، کبھی گائے، کبھی طلاقِ ثلاثہ اور اب مقدس اسلامی شخصیتوں کے خلاف آزادیِ خیال کی آڑ میں بکواس بکا جا رہا ہے جو اُن کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کر رہا ہے۔ پربندھک کمیٹی کے سربراہ نریندر سنگھ نے کہا کہ کسی مذہب کی مقدس ہستیوں کے خلاف کسی قسم کی بے ہودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر مُلک کو سلامتی اور امن کا گہوارہ بنائے رکھنا ہے تو ایسے کم ذہن نامہ نگاروں پر تا عُمر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایسے شخص پر قانونِ ہند کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ مرکزی جامع مسجد پونچھ کے خطیب مولانا مفتی فاروق حُسین مصباحی نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں عُلمائے کرام کی بے پناہ قُربانیاں شامل ہیں اورآج اُسی ہندوستان میں اُن عُلمائے کرام کے سلف صالحین اور بُزرگ ہستیوں کے خلاف زبان درازی کی جارہی ہے جو ناقابلِ بر داشت ہے ۔ انجمن جعفریہ کے مولانا سیدسجاد حُسین جعفری نے کہا کہ صحافت جسے جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے ،اگر اُس میں ایسے بیمار ذہن صحافی ہوں گے تو مُلک کی سا لمیت کو بے حد خطرہ ہے۔ ڈاکٹر محمد شریف قریشی نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے ایسی بیہودہ حرکت کے بعد بھی پونچھ کے روایتی بھائی چارہ کی مثال آج کے اس اجلاس میں دیکھنے کو مِل رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دلی کو ہم سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ اتنے ظُلم و ستم سہنے کے بعد بھی ہم صبر سے کام لیتے ہوئے اپنی روایتی ہم آہنگی کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں۔ مولوی محمد شفیع نے کہا کہ رسولِ اکرمؐ کی پیاری لختِ جگر جن کا سایہ روئے زمین تک نہ پہنچا اور مومنین کی مقدس ماں و نبی ؐ کی زوجہ محترمہ نیز عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس والدہ کے خلاف ایسی بکواس کرنے والے کو پابندِ سلاسل کر دینا چاہئے۔ پیرزادہ نثار حُسین نے کہا کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا لازمی ہے کیوں کہ دُشمن ہمیں صرف ایک نام سے ہی جان کر ہم پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ایڈوکیٹ افتخار حُسین بزمی نے کہا کہ مذکوہ صحافی نے اسلام کی مقدس ہستیوں کے بارے میں اُن نازیبا الفاظ کا استعمال کیا ہے کہ جس پر اُن ہستیوں کا چاہنے والا کوئی بھی شخص اُسے موت کے گھاٹ اُتارکر خُود شہید ہونے کے لئے تیا ر ہوجائے گا۔ انجمنِ جعفریہ کے صدر مقبول حُسین قُلی نے کہا کہ اگر ایسے سر پھرے صحافی کو حکومت کی جانب سے لگام نہ لگائی گئی تو احتجاج کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس موقعہ پرشیراز ازہری، سُرجن سنگھ، مُختار احمد اور ظہیر عباس بھی شامل تھے۔