منڈی//تحصیل صدر مقام منڈی سے دس کلو میٹر دوری پر واقع گرلز مڈل سکول بیلہ سیٹھی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو کس قدر مشکلات کاسامناہے اس بات کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتاہے کہ سکول میں زیر تعلیم سو طلباء کیلئے محض ایک کمرہ ہے ۔ذرائع کے مطابق گرلز مڈل سکول کی عمارت کی حالت خستہ ہے اورزیر تعلیم بچوں کیلئے صرف ایک کمرہ ہے جس کی چھت پر ایک اخروٹ کا درخت ہمیشہ موت کے فرشتے کی طرح آویزاں ہے ۔اتنا ہی نہیں سکول کے ایک کی کمرہ کی چھت کافی حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بارش کے موسم میں چھت کا پانی کلاس روم میں ٹپکتا رہتا ہے اور جب بارش ہوجائے تو سکول میں زیر تعلیم بچوں کو تعطیل پر ہی رکھنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ایس ایس اے سکیم کے تحت محکمہ کی طرف سے سکول میں مزید دو کمرے بنانے کا منصوبہ بنایاگیا مگر تین سال گزر جانے کے بعد اس تعمیراتی کام کی محض بنیاد ہی ڈالی گئی ہے ۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے انہوں نے کئی مرتبہ محکمہ تعلیم کے افسران سے شکایات کیں مگر آج تک انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی ۔مقامی شخص محمد دین نے کہا کہ سکول میں محض ایک کمرہ ہے جو کافی بوسیدہ ہو چکا ہے اور اس کمرے پر اخروٹ کا ایک درخت ہے جو کافی بوسیدہ ہے جس کے گرنے کا خطرہ منڈلارہاہے جس سے طلباء کی جان جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کے کہنے پر زونل ایجوکیشن افسر منڈی نے سکول کا دورہ کیا اور انہوں نے کہا تھا کہ جلد ہی اس درخت کو کاٹا جائے گا اور سکول کی عمارت کی مرمت کاکام بھی ہوگامگر کافی عرصہ گزرجانے کے بعد بھی یہ وعدہ وفا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے محکمہ کو متعدد دفعہ کہا مگر محکمہ کے افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ان کاکہناتھاکہ ایسے پرخطر ماحول میں طلباء تعلیم حاصل نہیں کرپارہے ہیں ۔رابطہ کرنے پر زونل ایجوکیشن افسر منڈی غلام حسین نے تسلیم کیاکہ سکول کے عمارت پر اخروٹ کا ایک پرانا اور بوسیدہ درخت ہے جس کی وجہ سے کبھی حادثہ ہو سکتا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اور چیف ایجوکیشن افسر کو درخت کاٹنے کے لئے تحریری طور پر لکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ قانونی طور پر اخروٹ کے پرانے درخت کو کاٹنا جرم ہے اس لئے ضلع ترقیاتی کمشنر کی اجازت سے درخت کو کاٹا جائے گا تاکہ بچوں کی زندگی کو محفوظ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس اے سکیم کے تحت سکول میں نیی عمارت کا کچھ کام کیا گیا ہے جو ابھی تک پورا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت میں سکول انچارج نے ٹھیکیدار سے مل کر سکول کی عمارت کا پیسہ ہڑپنے کی کوشش کی جس وجہ سے سکول کی عمارت کا کام روک دیا گیا۔ زیڈ ای او نے کہا کہ سکول کی عمارت کے کچھ کمروں کا کام محکمہ تعمیرات عامہ کروا رہی تھی جو ابھی مکمل نہ ہو سکا ہے ۔