ایجنسیز
ٹورنٹو// کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اس ہفتے اور آئندہ ہفتے بھارت، آسٹریلیا اور جاپان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ امریکا پر تجارتی انحصار کم کیا جا سکے۔ ان کے دفتر نے یہ اعلان کیا۔کارنی جمعرات کو ممبئی پہنچیں گے جہاں وہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔کینبرا میں قیام کے دوران کارنی آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کریں گے، اور وہ گزشتہ 20 برسوں میں ایسا کرنے والے پہلے کینیڈین وزیراعظم ہوں گے۔ وہ آسٹریلیا کے وزیراعظم البانیزانتھونی سے بھی ملاقات کریں گے جس میں دفاع اور مصنوعی ذہانت (AI) میں پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوگا۔اس کے بعد کارنی ٹوکیو جائیں گے جہاں وہ جاپان کی وزیراعظم تاکاچی سائی سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں صاف توانائی، اہم معدنیات اور غذائی تحفظ کے امور زیرِ بحث آئیں گے۔کارنی نے ایک بیان میں کہا،’’ایک غیر یقینی دنیا میں کینیڈا اْن امور پر توجہ دے رہا ہے جو ہمارے اختیار میں ہیں۔ ہم اپنی تجارت کو متنوع بنا رہے ہیں اور بڑی نئی سرمایہ کاری کو راغب کر رہے ہیں۔‘‘کارنی نے ہدف مقرر کیا ہے کہ آئندہ ایک دہائی میں کینیڈا اپنی غیر امریکی برآمدات کو دوگنا کرے گا۔ ان کے مطابق امریکی محصولات (ٹیرف) سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کر رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کینیڈا پر محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور یہاں تک کہا کہ کینیڈا ’’51ویں ریاست‘‘بن سکتا ہے، جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔حال ہی میں ٹرمپ نے کینیڈا کے مجوزہ چین تجارتی معاہدے کے باعث کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔گزشتہ ماہ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں کارنی نے بڑی طاقتوں کی جانب سے چھوٹے ممالک پر معاشی دباؤ ڈالنے کی مذمت کی تھی۔