سید سرفراز احمد
وقت اور حالات بدلنے دیر نہیں لگتی لیکن اس کو بدلنے کا ہنر ہونا چاہئے، خاص طور پر سیاست میں اُتار و چڑھائوآتے رہتے ہیںاور وقت کب کروٹیں بدلتا ہے،اس کااندازہ خود سیاست دان کو بھی نہیں ہوتا ۔ سیاست میںبعض اوقات اچانک سیلاب بھی آتا ہے اور چلا بھی جاتا ہے۔ لیکن سیاست گو کو آگے بڑھنے ،سیاسی رنگ و روپ کو سنوارنے اور عوام کو متاثر کرنے کے لئےسیاست کار کی محنت و مشقت ہی درکار ہوتی ہے،اور مصمم ارادہ اور مسلسل جدوجہد کارآمد ثابت ہوتی ہے۔سیاست ایک شاطرانہ کھیل ہے،جس کے لئے مختلف دائو کھیلنے پڑتے ہیں۔جس کے لئے زبردست مشقت کی ضرورت ہوتی ہے،بغیر محنت و مشقت کے سیاسی گُر حاصل نہیںہوتے۔ سیاست کار کی محنت و مشقت عام افراد کی وضع قطع سے قدرے کچھ ہٹ کے ہی ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے ہی ملک کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہےکہ جب کبھی بھی ملک کو متحد کرنے یا منتشر کرنے یا کسی بھی پارٹی کو مضبوط بنانے یا سیاسی چھاپ کو موثر بنانے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے تو زمینی سطح پر کام کا سہارا لیا جاتارہا ہے،جس میں عوامی یاترابہت کارگر ثابت ہوئی ہیں اور جب کبھی یاترا نکالی گئی تویاتراکا اثر بہت مثبت بھی آچکاہے۔ خواہ وہ یاترا منفی سوچ کے تحت ہی نکالی گئی ہو، کیونکہ یاترابس سے ہو یا پیدل ،اس سے شہر شہراور گاؤں گاؤں تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔چنانچہ ایک سیاسی قائد کا تعلق براہِ راست ایک عام آدمی سے ہوتا ہے ،اس لئے وہ ایک عام فرد کیلئے پر کشش اور بہت خاص بن جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں بذات ِ خود اس قائد کے باتوں کی اور اس کی پارٹی کے منشور کی مقبولیت بڑھ جاتی ہے اور اسکوگراں قدرنگاہ سے دیکھاجانے لگتا ہے ۔تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو گاندھی جی کی ستیہ گرہ ،ڈانڈی مارچ یاترا ،اڈوانی کی رتھ یاترا،جنہوں نے عوام میں کافی مقبولیت حاصل کی تھیں۔ اسی طرح متحدہ آندھرا پردیش پر جب تلگو دیشم کا قبضہ تھا ،اور کانگریس کا نام و نشاں بھی باقی نہ رہا تھا، ایسے میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے متحدہ آندھرا پردیش میں بس یاترا شروع کی تھی اور شہر شہر گاؤں گاؤں پہنچ کر عوام کے درمیان رہےتھے۔تو بعد ازاں متحدہ آندھرا پردیش پر کانگریس ہی برسر اقتدار آگئی ۔ کہنا یہ مقصود ہےکہ یاترا سے مثبت نتائج نکلتے ہیں بلکہ مرکزی سطح کی کانگریس کو جو کام آج سے پانچ سال قبل کرنا چاہئے تھا، وہ آج کرنے جارہی ہیں، بہر حال دیر آید درست آید ۔
راہول گاندھی کی ملک گیر سطح پر 35 ہزار کلو میٹر کا احاطہ کرنے والی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ موجودہ وقت اور حالات کی مناسبت سے بہت ہی ناگزیر ہے چونکہ ملک کا وہ خاکہ جو 2014 سے پہلے تک تھا اور 2022 کاموجودہ خاکہ ہے۔ان دونوں کے درمیانی آٹھ سال کے فاصلے نے تو ملک کی تصویر ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ ان آٹھ سال میں حکمران جماعت نےتا حال خود کو مضبوط اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کرکے رکھ دیا ہے،اور مشرق سے مغرب شمال سے جنوب ملک کی ہر سمت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ انتہائی چابک دستی سےنفرت کا خوب پرچارکیاجارہا ہے ۔حد تو یہ ہوگئی کہ سات روز قبل ہی یوپی میں گھر کے احاطہ میں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں تو بناء کوئی ثبوت کے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے اور پھر بعد میں مقدمہ واپس لے لیا جاتا ہے۔ اس واقعہ سے بھی ہم اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سماج میں نفرت کی دیوار دل و دماغ میں کس طرح سے پیوست کردی گئیں۔مندر مسجد کی سیاست کے انوکھے کھیل،کھیل کر کرناٹک میں بنگلور عیدگاہ کو زبردستی متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ اپوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں،علاقائی جماعتوں میں آپسی اُلٹ پھیر کرتے ہوئے اپنا سکہ جمایاجاتا ہے۔ حلیف پارٹیوں کے سیاسی قائدین پرنجی معاملات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سی بی آئی جیسے تفتیشی اداروں کے ذریعہ ضربیںلگائی جاتی ہیں۔ سماجی جہد کاروں کو بھی نہیں بخشا نہیں جاتا ہے بلکہ حق گوئی کی زبان کو بند کرنے کیلئے قانون کا بے جا استعمال کیا جارہا ہے۔ ملک کی طاقتور خاتون سونیا گاندھی اور راہول گاندھی بھی ای ڈی کی تحقیقات سے بخشا نہیںجاتا ہے۔مہنگائی کی مار نے عوام کے گھر ُاجاڑدیئے ہیں، معیشت تباہی سے آگے نکل چکی ہے۔ غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ،گویا کہ عوام کے سر پر حکومت تو ہے، پر شفقت کا سایہ نہیںاور نہ ہمدردی کا دلاسہ ہے۔ حیرت ہوتی ہے جب 2014 سے پہلے کے حالات پر غور و فکر کرتے ہوئے موجودہ حالات کا تقابل کیا جاتا ہے تو بہت بھاری فرق نظر آتا ہے، جو گنگا جمنی کی تہذیب پہلے تھی، اس کا چراغ اب آہستہ آہستہ بجھ رہا ہے جو محبت اور رواداری تھی ،وہ اب بے دم ہوچکی ہے۔ ایسی صورت حال اور نفرت کے ماحول میں راہول گاندھی جس مہم کا آغاز کرنے جارہے ہیں، وہ ملک کے مفاد میں اور خود کانگریس کے مفاد میں کتنی اہم ثابت ہوسکتی ہے،یہ تو آنے والا وقت ہی بتادے گا،جب یہ مہم پایہ تکمیل تک پہنچے گی۔پچھلےآٹھ سال کے دوران پیدا کی گئی نفرتی ماحول کی دیوار کو یوں ہی ڈھیر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کو ڈھانے کے لئےمیدان عمل میں مسلسل کام کرنا ہوگا۔ بیان بازی سیاسی مشغلہ کا حصہ ہوسکتا لیکن عوام کا دل ،اُن تک پہنچ کر ہی جیتاجاسکتاہے۔ راہول گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ اگراپنے پورے منصوبہ بندی کے تحت چلتی ہے تو اسکے تین بڑے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایک تو اس یاترا سے جمہوریت کی بقاء، سیکولرزم پر عمل آوری اور قومی اتحادکو مضبوط بنانے کا کام ہوسکتا ہے، دوسرا، خود کانگریس میں ایک نئی جان واپس آسکتی ہے، راہول گاندھی بھی عوام سے قریب ترہونے کے بعد اکثریتی عوام کے پسندیدہ قائد بن سکتے ہیں اورتنطیم اپنا کھویا ہوا مقام بحال کرسکتی ہےاور تیسرا بڑا نتیجہ یہ کہ علاقائی جماعتیں بھی کانگریس کے شانہ بہ شانہ آنے کیلئے تیار ہوسکتی ہیں۔ لیکن ان نتائج کیلئے کانگریس کو چاہئے کہ وہ جوش کو حلق کی ہڈی بننے نہ دیں بلکہ پورے ہوش اور دانشمندی کے ساتھ ملک کی سلامتی کا اصل راستہ جمہوریت اور سیکولرزم کے ساتھ ساتھ، فاشزم کا خلاصہ بھی عوام کے سامنے کھل کر پیش کریں ۔راہول گاندھی کی اس تحریک کو کوئی بھی علاقائی سیاسی پارٹی یاسیاستدان یا کسی بھی پارٹی کو پسند کرنے والی عوام، چاہے و ہ اکثریتی ہو یا اقلیتی، اس یاترا کو محض کانگریس یا راہول گاندھی کی ذاتی تحریک نہ سمجھے بلکہ ملک میں سیکولر ازم کی بقا اور جمہوریت کے تحفظ کی تحریک سمجھ لیں۔ ویسے ہی گاندھی پریوار کا بھی یہی مقصد رہا ہے کہ ملک میں سیکولرزم کو مضبوط ہو۔ ملک میں امن اماں، چین و سکون کو بحال کرنے کی کی اشد ضرورت ہے،جس میں ہرفرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور قوی امکان ہےکہ راہول گاندھی کی یاترا اگر پوری کامیابی کے ساتھ گھر واپسی کرتی ہے ،توعوام میں بھی ایک مثبت تبدیلی رونما ہوگی اور جس کے خوشگوار نتائج برآمد ہوں گے۔
[email protected]>