جموں//سپریم کورٹ 30جولائی کو بار کونسل آف انڈیا کی ٹیم کی طرف سے دی گئی رپورٹ پر سماعت کرے گی ، یہ ٹیم عدالت عظمیٰ نے جموں کے وکلاء کی طرف سے کرائم برانچ کے کام کاج میں مبینہ مداخلت کا فاضل عدالت کی طرف سے ازخود نوٹس لئے جانے کے بعد بھیجی تھی۔ وکلاء نے رسانہ ہیرا نگر میں 8سالہ خانہ بدوش بچی کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کی چارج شیٹ پیش کئے جانے کے دوران کٹھوعہ عدالت کے احاطہ میں ہلڑ بازی کی تھی جس کے بعد کرائم برانچ کو یہ چارج شیٹ جج کی رہائش گاہ پر پیش کرنا پڑی تھی تو جموں بار ایسو سی ایشن نے ملزمان کے حق میں مظاہرے کئے تھے۔ سپریم کورٹ نے بار کونسل آف انڈیا کی پانچ رکنی ٹیم روانہ کی تھی تا کہ وکلاء کے خلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ کرنے کے علاوہ ان وجوہات کا پتہ لگایا جائے جن میں کٹھوعہ کے وکلاء نے چارج شیٹ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی تھی۔ ترون اگروال، پربھاکرن، رامچندرا جی شاہ اور رضیہ بیگ و نریش دیکشت پر مشتمل ٹیم نے 19اپریل کو رسانہ، کٹھوعہ اور جموں کا دورہ کر کے وکلاء کا موقف جانا تھا۔بار ایسو سی ایشن جموں نے رسانہ معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کی مانگ کو لے کر مسلسل کئی روز تک ہڑتال کی تھی جس میں روہنگیائی مہاجرین کو جموں بدر کرنے ،قبائلی وزارت کی میٹنگ کے نوٹس کو واپس لینے کا مطالبہ بھی رکھا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے بار کے رویہ پرContempt پٹیشن نوٹس جاری کیا تھا ۔بی سی آئی ٹیم نے جموں اور کٹھوعہ کے وکلاء کے ساتھ بند کمرہ میں میٹنگیں کر کے ان کا موقف معلوم کیا تھا۔ کٹھوعہ اور جموں بار نے اپنے جوابات پہلے ہی سپریم کورٹ میں دائر کر رکھے ہیں اب پیر کو چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ اس کی سماعت کرے گی ۔