جموں//ریاست جموں وکشمیرکے معززشہریوں کے ایک گروپ نے ضلع کٹھوعہ کی ہیرانگرتحصیل کے رسانہ گائوں میں آٹھ سالہ بچی ’آصفہ بانو‘کی وحشیانہ آبروریزی اورقتل کے معاملے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کامطالبہ کیاہے۔یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق معززشہریوں نے دستخط کرکے حکومت پر کٹھوعہ معاملے کیلئے تیزرفتار تحقیقات پرزوردیا۔معززشہریوں کے گروپ میں ایلورا پوری (فیکلٹی ،پولٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ جموں یونیورسٹی ، ڈائریکٹرانسٹی ٹیوٹ آف جے اینڈکے افیئرس )، ریکھا چوہدری،ریٹائرڈپروفیسرپولٹیکل سائنس جموں یونیورسٹی، بانوجوشی صحافی،کویتاسوری ایچ اوڈی ڈیپارٹمنٹ آف لائف لانگ لرننگ جموں یونیورستی،ورشاکشاایچ اوڈ ی ڈیپارٹمنٹ آف سوشالوجی، افراکاک ،تھیٹرآرٹسٹ اورکلچرل آفیسر جموں یونیورسٹی، ادیتی گپتا آرٹسٹ اینڈریسرچ اسکالر،شائستہ مسعود کالم نویس وسماجی کارکن،سنتوش کھجوریہ ،صدرم ہلاادھیکارسنگھٹن کٹھوعہ، انورادھابھسین جموال جرنلسٹ، للت مگوترہ صدرڈوگرہ ساہتیہ سنستھا ، کنوینر ڈوگری ایڈوائزری بورڈ ،ساہتیہ اکیڈمی،راجندرتکو،پدماشرم ، سکلٹر،مشتاق کاک فلمی شخصیت ،دیپک کمار، انل سوری ،بی ایل صراف کالم نویس ،بی ایل صراف ریٹائرڈجج،شبن کول سماجی کارکن،سوامی انترنرو شاعر،کلدیپ سنگھ چاڑک (فیکلٹی جموں یونیورسٹی ،صدرجے یوٹی اے،سندیپ سنگھ، وکرم ساہی، سنت کمارشرما جرنلسٹ،پردیپ دتا،کنورشکتی سنگھ ،سیدجنید ہاشمی، کمل جیت سنگھ ،اے وی گپتا، شیخ احمدشکیل، رمن شرماآرٹی آئی کارکن،ادتیہ گپتا، ایازلون،عرفان خان ،وقارسلاریہ، یاسرمشتاقہ پرمشمتل ہے ۔ گروپ کاکہناہے کہ جنسی استحصال اورقتل کے اس معاملے کوسیاسی اورمذہبی رنگ دیئے جانے پرانہیں انتہائی تشویش ہے۔انہوں نے کہاکہ جس طریقے سے قصورواروں کوڈھال مہیاکروانے کی غرض سے نام نہادحب الوطنی کاڈھونگ رچایاجارہاہے اورمتاثرہ کوانصاف دلانے کی خاطرجاری مہم کوغیرموثرکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لمحہ فکریہ ہے۔معززشہریوں کاکہناہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ اگراس کیس کوکسی دوسری تحقیقاتی ایجنسی کوسونپاجائے گاتووہاں قصورواروں کوڈھال مہیاکروائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ ریاستی حکومت سے بھی گذارش کرتی ہیں کہ کرائم برانچ کی تحقیقات میں سرعت لائی جائے جس کے بعداس معاملے کاعدالت میں چالان پیش کرکے متاثرہ کے لواحقین کوانصاف دلایاجاسکے۔ واضح رہے کہ آصفہ بانو کی نعش گذشتہ 17جنوری کورسانہ گائوں کے جنگلوں سے ملی تھی ،اس سے قبل متاثرہ کو10جنوری کواغواکیاگیاتھا۔بتایاجاتاہے کہ آصفہ کے جسم پرتشددکے نشانات تھے اورقتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی جیساگھنائوناکھیل کھیلاگیا۔یہاں یہ واضح کرناضروری ہے کہ آصفہ کاتعلق خانہ بدوش طبقے سے تھا اورحالیہ دنوں خانہ بدوشوں کوہراساں کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی مگربعدمیں یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کومنتقل کردیاگیاتھا ۔کرائم برانچ کی ٹیم نے ابھی تک اک نابالغ لڑکے اوردوایس پی اوزگرفتارکئے ہیں مگرتحقیقاتی عمل کافی سست رفتاری سے چل رہاہے ۔اس دوران کرائم برانچ اگرچہ قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس معاملے کوکچھ عناصرکی جانب سے سیاسی اورمذہبی رنگت دینے کی سازشیں رچائی جارہی ہیں ۔