سرینگر//انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے ریشی پورہ بڈگام میں کووِڈ اسپتال کی تعمیر کوروک کراُسے کھنموہ منتقل کرنے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک غیرموزوں مقام پراسپتال کی تعمیرعوام کے مفادات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ایک بیان میں آغا حسن نے کہا کہ ریشی پورہ بڈگام اسپتال کے قیام کے لئے ہر جہت سے ایک معقول اور مناسب مقام ہے اور یہ جگہ ضلع بڈگام اور ضلع سرینگر کے وسط میں ریلوے ٹریک پر واقع ہے، جہاں تمام وادی کے لوگ بالخصوص ضلع سرینگر اور ضلع بڈگام کے عوام آسانی کے ساتھ آ اور جا سکتے ہیں۔ آغا حسن نے کہا کہ اسپتال کو ضلع سرینگر کے آخری شمال مشرقی گاوں کھنموہ کے صنعتی علاقہ میں قائم کرنا کسی بھی صورت میں ایک عوام دوست قدم نہیں ہے جہاں اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہاں ہر طرف کارخانے اور سیمنٹ فیکٹریاں ہیں اور اس علاقہ کو ماہرین نے فضائی آلودگی کی آما جگاہ قرار دیا ہے اور اس علاقہ کے شمال مشرق کی طرف کوئی آبادی نہیں۔ انہوں نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے الزام لگایاکہ بااثر و رسوخ عناصر کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ ریشی پورہ بڈگام کو ایک دلدلی علاقہ بتا کر یہاں اسپتال کے قیام کا فیصلہ واپس لیا گیا حالاںکہ اسی علاقہ میں بڑے بڑے حکومتی ادارے اور تعمیری ڈھانچے قائم ہیں۔ آغاحسن نے گورنر انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کیا کہ مذکورہ اسپتال کو کسی ایسی جگہ تعمیر کیا جائے جہاں تک عام لوگوں کی رسائی آسان ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں ۔