معلومات
ویب ڈیسک
دنیا کا اعلیٰ ترین انعام دینے والی سویڈن کی اکیڈمی آف سائنسز نے فزکس (طبیعات) کا 2022 کا نوبیل انعام بھی مشترکہ طور پر تین سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کردیا۔
کمیٹی نے اس بار امریکا، فرانس اور آسٹریا کے ماہرین کو مشترکہ طور پر انعام دینے کا اعلان کیا ہے جب کہ گزشتہ برس بھی طبیعات کا انعام مشترکہ طور پر تین ماہرین کو دیا گیا تھا۔نوبیل کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ طبیعات کا نوبیل انعام تینوں سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دیا جائے گا اور ان میں انعامی رقم بھی یکساں طور پر تقسیم کی جائے گی۔
فزکس نوبیل انعام امریکا کے جان کلوزر، فرانس کے ایلئن اسپیکٹ اور آسٹریا کے اینتون زلنگر کو ان کی ’کوائنٹم ٹیکنالوجی اور انفارمیشن‘ پر تحقیق کے بدولت دیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق تینوں ماہرین کی جانب سے ’کوانٹم انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ پر کی جانے والی تحقیق سے ٹیلی کمیونی کیشن، انٹرنیٹ و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد ملی۔
مذکورہ ماہرین کی تحقیقات سے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ ذرات اگرچہ ایک دوسرے سے الگ بھی ہوں اس باوجود وہ ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیں اور ان کے درمیان روابط کو قائم رکھنا ممکن ہوسکتا ہے۔ان ہی کی تحقیقات کی وجہ سے ہی کمپیوٹر، موبائل و ٹیکنالوجی آلات اور سسٹمز میں جدت اور بہتری آئی۔نوبیل کمیٹی نے تینوں ماہرین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔گزشتہ برس بھی نوبیل کمٹی نے فزکس کا انعام خاتون سمیت تین سائنسدانوں جاپان کے سائنس دان ڈاکٹر سیوکورو منابے اور جرمنی کے ڈاکٹر کلاس ہسلمین جب کہ دوسرا حصہ اٹلی کے سائس دان ڈاکٹرجارجیو پریسی کو دیا تھا۔نوبیل کمیٹی ہر سال انعامات جیتنے والے افراد کے ناموں کا اعلان اکتوبر کے پہلے ہفتے میں شروع کرتی ہے۔کمیٹی مجموعی طور پر 6 کیٹیگریز ’طب، معاشیات، کیمسٹری، فزکس، ادب اور امن‘ کے نوبیل انعامات دیتی ہے۔اس سال نوبیل انعامات جیتنے والے افراد کے ناموں کے اعلانات کا سلسلہ 3 اکتوبر کو شروع کیا گیا اور سب سے پہلے طب کے نوبیل انعام جیتنے والے خوش نصیب کا اعلان کیا گیا تھا۔طب کا نوبیل انعام سویڈن کے سائنسدان سوانتے پابو کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔خیال کیا جا رہا تھا کہ اس سال ممکنہ طور پر طب کا نوبیل انعام کورونا سے تحفظ کی ویکسین بنانے والے ماہرین کو دیا جائے گا۔ساتھ ہی یہ چہ مگوئیاں بھی تھیں کہ ممکنہ طور پر اس سال ’ایم این آر اے‘ ویکسین ٹیکنالوجی دریافت کرنے والے دو ماہرین کو بھی انعام دیا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔سویڈش اکیڈمی آف نوبیل نے 4 اکتوبر کو طب کا انعام سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ڈاکٹر پروفیسر ڈیوس جولیس اور کیلی فورنیا کے اسکرپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر آرڈم پیٹاپوٹیم کو دینے کا اعلان کردیا۔
نوبیل پرائز کی ویب سائٹ کے مطابق دونوں ماہرین کو جسمانی درج حرارت اور احساسات کو دریافت کرنے پر انعام دیا گیا۔دونوں ماہرین نے دریافت کیا کہ کس طرح انسانی جسم سورج کو تپش کو محسوس کرتا ہے اور انسان جب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تو جسم میں کس طرح کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ان ہی ماہرین کی دریافت کے بعد ہی بخار اور اعصاب شکن درد سمیت کئی جسمانی بیماریوں کا علاج دریافت ہوا۔دونوں ماہرین نے دریافت کیا کہ کس طرح ہمارا جسم محسوسات اور احساسات کو اعصابی نظام تک پہنچا کر بیماریاں یا خوشی فراہم کرتا ہے۔
گزشتہ برس طب کا نوبیل انعام برطانیہ کے سائنسدان مائیکل ہوٹن اور امریکا کے ہاروی آلٹر اور چارلز رائس کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا تھا، تینوں سائنسدانوں کو ‘ہیپاٹائٹس سی کا مرض دریافت کرنے پر انعام دیا گیا تھا۔طب کا نوبیل انعام کمیٹی کی جانب سے 1919 سے دیا جا رہا ہے اور اب تک یہ انعام 114 شخصیات کو دیا جا چکا ہے، جس میں سے 12 خواتین تھیں۔کمیٹی نوبیل انعام جیتنے والوں کو ہر سال دسمبر میں انعامات دیتی ہے اور انعامات دینے کی تقریب سویڈن میں ہی منعقد ہوتی ہے، تاہم امن کے نوبیل انعام دینے کی تقریب دوسرے ملک میں ہوتی ہے۔