عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے دور افتادہ پہاڑی علاقہ کنتٹواڑہ کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے جہاں سڑک رابطہ نہ ہونے کے باعث لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ جدید دور میں بھی یہاں کے رہائشی مریضوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر میلوں دور دشوار گزار پہاڑی راستوں سے اسپتال تک پہنچانے پر مجبور ہیں جو انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ چند روز قبل ہی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی جس نے علاقے کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں مقامی افراد ایک مریض کو چارپائی پر اٹھا کر کھڑی چڑھائیوں اور کچے راستوں سے لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ سڑک کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنتواڑہ کے ساتھ برسوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ متعدد بار وعدوں اور اعلانات کے باوجود تاحال سڑک کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی جس سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ علاقے میں حاملہ خواتین، معمر افراد، بچوں اور بیماروں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہنگامی صورتحال میں معمولی تاخیر بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ سال 2010سے سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے لیکن آجتک چودہ کلومیٹر سڑک تعمیر نہ ہوسکی ۔علاقہ مکینوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کنتواڑہ کے لیے ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑک کی تعمیر کو جلد یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زیرِ التواء منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پندرہ ہزار کی ابادی پر مشتمل کنتواڑہ کے عوام بھی دیگر علاقوں کی طرح ترقی سڑک اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کے حق دار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ اس دیرینہ مسئلے کو فوری حل کر کے عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے تاکہ انہیں مزید اذیت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔