کمپیوٹر (Computer )
انسان جب سے اِس دنیا میں آیا ہے تب سے لیکر آج تک ہمیشہ اپنی ترقی اور بہتری کے لئے جد و جہد کرتا رہا ہے ۔زندگی کو خوب صورت اور آسان بنانے کے لئے انسان نے ہر دور میں بہت محنت کی اور اپنی محنت کا نچوڑ اپنی آنے والی نسل کو دیتا گیا ۔ہر نئی نسل اُس محنت کے نچوڑ پر تجربات کر کے نئی نئی ایجادات کرتی گئی ۔ اِس طرح ہر گزرتی نسل کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی ۔انسان کی اِسی ہزاروں سال کی مسلسل جد و جہد اور کوشش کے نتیجہ میں آج کا دور ترقی اور ٹیکنالوجی کا دور کہلاتا ہے ۔ آج کے دور کی سب سے بہترین اور فائدے مند ایجاد ’’کمپیوٹر‘‘ ہے ۔ کمپیوٹر آخر کیا چیز ہے؟ آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے ۔’’ایک ایسی مشین جو ہدایات اور معلومات حاصل کرنے کے بعد اُن پر تیزی سے عمل کرے اور عمل کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی معلومات ہمیں فوراً مہیا کرے ۔‘‘ یہ تو آسان الفاظ میں کمپیوٹر کے معنی ہوئے ۔اِس کے علاوہ بھی کمپیوٹر ہمارے لئے بہت آسانیاں بھی پیدا کرتا ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ آج کے دور کا لگ بھگ ستر فیصد کام کمپیوٹر کے ذریعے ہو رہا ہے اور لگ بھگ پچاس فیصد انسان اِس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ کمپیوٹرلاطینی زبان کے لفظ ’’کمپیوٹیر‘‘ Computare سے اخذ کیا گیا ہے ۔ انگریزی زبان میں اِس کے معنی ’’کمپیوٹ‘‘ Compute کرنا یعنی شمار کرنا یا گننا یا حل کرنا ہے۔
گنتارے کی ایجاد
کمپیوٹر کی ایجاد کا سبب گنتی کرنا ہی بنا ہے ۔جب انسان نے گنتی کرنا ایجاد کیا تو گنتی کرنے کے لئے ہر علاقے کے انسان نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق گنتی کرنے کے آلے ایجاد کئے ۔ اِن گنتی کرنے کے آلوں میں سب سے زیادہ کامیاب وہ آلہ ہوا جو ملک چین کے انسان نے بنایا اور اِس کا نام ’’ گنتارے‘‘ یعنی اباکس(ABACUS ) رکھا۔اباکس نامی گنتی کا آلہ ایک باکس تھا جس میں گیندوں کو سلائیوں میں پرو کر گننے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔یہ بہت دنوں تک انسان کا ’’گنتی گننے کا آلہ‘‘ رہا ۔ پھر انسان نے اِس میں بھی جدیدیت پیدا کرنے کی کوشش کی اور حساب کتاب کے لئے مختلف ادوار میں کئی مشینیں بنائیں۔ ’’تختۂ شمار‘‘یعنی ’’گنتارے ‘‘میں ترقی میسو پوٹامیا کے انسان نے کی اور بعد میں ملک مصر ، ملک یونان ، ملک روم ، ملک جاپان اور ملک روس کے انسان نے بھی اِسے اپنا لیا ۔’’تختۂ شمار‘‘ کی مدد سے اعداد و شمار کا کام انسان کافی تیزی سے کرنے لگا ۔ انسان نے ایک لکڑی کے باکس میں تار لگائے اور اُن میں پانچ یا اُس سے زائد موتیاں ڈالیں اور اِن موتیوں کو سرکا کر ،جوڑنا ، گھٹانا اور ضرب یا تقسیم کی گنتی کرنے لگا۔
کمپیوڑ کی ایجاد
اِس ’’گنتی کے آلہ‘‘ کی ترقی کے بعد کئی صدیوں کی سخت محنت کے بعد انسان نے کئی طرح کے طریقۂ شمار ’’کاونٹنگ اسٹائل‘‘ (Counting Style ) بنائے ۔ جیسے رومن گنتی جس کا استعمال ابھی بھی انسان کرتا ہے ۔آخر کار اعشاریہ ہی سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوا اور آج پوری دنیا میں اعشاریہ کی گنتی کا استعمال ہو رہاہے۔’’گنتی کرنے کے آلے کو انسان مسلسل ترقی دے کر آسان بنانے کی کوشش کرتا رہا جس میں پروفیسر چارلس بابیج کا ایجاد کردہ ’’ڈیفرینس انجن‘‘ قابل ذکر ہے ۔اِس کے کچھ عرصے بعد اِسی چارلس بابیج نے گنتی کا دوسرا آلہ ’’لئیسکل انجن‘‘ بنایا اور اِس میں وہ تمام بنیادی خوبیاں تھیں جو آج کے ہمارے دور میں کمپیوٹر کا ضروری حصہ سمجھی جاتی ہیں۔چارلس بابیج نے مشینی حساب کتاب کا جو تصور دیا تھا اُس کو سامنے رکھ کر بعد کی نسلوں کے انسان نے مسلسل اجتماعی کوششیں کیں اور آخر کار 1945 عیسوی میں آئی بی ایم IBM نامی کمپنی نے تجارتی مقاصد کے لئے دنیا کا سب سے پہلا باقاعدہ کمپیوٹر بنایا جو سائز میں ایک کمرے کے برابر تھاپیش کیا ۔آپ کو وہ کمپیوٹر چالی چیپلن کی فلموں میں دکھائی دے گا۔
پہلی نسل کا کمپیوٹر
آئی بی ایم IBM نے جو کمپیوٹر بنا کر پیش کیا تھا یہ کمپیوٹر پہلی نسل کا کمپیوٹر تھا یعنی یہ کمپیوٹر کی پہلی ایجاد تھی ۔اِس کی ایجاد کے بارے کسی نے 1944 عیسوی بتایا کسی نے 1945 عیسوی بتایااور کسی نے 1946 عیسوی بتایا ہے۔اِس کمپیوٹرمیں ’’ویکیوم ٹیوب‘‘ کا استعمال کیا گیا تھا ۔ ویکیوم ٹیوب بہت جگہ لیتی ہے اور اِسی لئے یہ پہلی قسم کا کمپیوٹر بہت ہی بڑا تھا اور اِس کے لئے ایک کمرہ مخصوص کرنا پڑتا تھا ۔اُسی زمانے میںامریکی حکومت نے بھی اپنی نگرانی میں کمپیوٹر بنوایا اور 1946 عیسوی میں امریکہ میں ’’اے نیک‘‘ (susd ) سے موسوم اپنا سب سے پہلا کمپیوٹر بنایا جس میں بھی’’الکٹرانک والو‘‘یعنی ویکیوم ٹیوب Vacuum Tube کا استعمال کیا گیا تھا۔’’اے نیک‘‘ کے ذریعے ایک سیکنڈ میں 5000 میزان یا 350 ضرب / تقسیم کا کام کیا جاسکتا تھا ۔ اُس وقت کے 4 لاکھ ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا یہ کمپیوٹر پوری طرح خود کار طریقے سے شماری یعنی گنتی کا کام کرتا تھا ۔ اِسی لئے اِسے دنیا کا سب سے پہلا کمپیوٹر تسلیم کیا گیا ۔اِس کے بعد ’’الکٹرانک ویکیوم والو‘‘ یعنی ویکیوم ٹیوب پر منحصر کئی کمپیوٹر ایک کے بعد ایک بنے ۔جیسے ایڈساک ، بیناک اور یونی واک وغیرہ۔اِن سب کو ’’پہلی نسل کا کمپیوٹر‘‘ تسلیم کیا گیا ۔ اِ ن سب میں ’’یونی واک‘‘ (UNIVAC )ہی تجارتی اعتبار سے سب سے زیادہ مشہور ہوا اور اِس کمپیوٹر نے اپنی بنانے والی فرم ’’آئی بی ایم‘‘ IBM کو کمپیوٹر کی سب سے زیادہ مشہور کمپنی یا فرم کی شکل میں قائم کر دیا۔ پہلی نسل کے کمپیوٹر کا دورانیہ 1944 عیسوی سے لیکر 1959 تک رہا اور اِس دور میں MARK2 اور UNIVAC-1 کا زیادہ استعمال رہا۔ اِس کے بعد دوسری نسل کے کمپیوٹر کا دور آیا۔
دوسری نسل کا کمپیوٹر
پہلی نسل کے کمپیوٹر کا دورانیہ لگ بھگ چودہ سال کا رہا ۔ اِس کے بعد دوسری قسم کا کمپیوٹر انسان نے ایجاد کیا۔اب کی بار انسان نے ’’ویکیوم ٹیوب‘‘ Vacuum Tube کا استعمال نہیں کیا بلکہ اُس کی جگہ ’’ٹرانزسٹر‘‘ کا استعمال کیا ۔ ویکیوم ٹیوب کے مقابلے میں ٹرانزسٹر کافی چھوٹا ہوتا ہے اِسی لئے دوسری نسل کے کمپیوٹر کی سائز پہلی نسل کے کمپیوٹر کے مقابلے میں کافی چھوٹی ہوگئی تھی ۔ ’’یونی واک‘‘ سے پہلے کمپیوٹروں کو صرف ریاضی کے کام کے لئے بنایا جاتا تھا اور اُس کا سائز بھی کافی بڑا ہوتا تھا لیکن ’’یونی واک‘‘ نے یہ ثابت کر دیا کہ کمپیوٹروں کا استعمال معلومات اور تجزیہ فراہم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔1948 میں ’’ٹرانزسٹر‘‘ کی ایجاد کے بعد کمپیوٹر کی سائز میں کافی تبدیلی آئی ۔ٹرانزسٹر کو کمپیوٹر میں استعمال کرنے سے اُس کی سائز چھوٹی ہونے لگی اور اُس کی اہمیت بڑھ گئی ۔ یہیں سے کمپیوٹر کی دوسری نسل کا دور شروع ہوا۔آئی بی ایم IBM کے ذریعے بنایا گیا 7090 ماڈل کا کمپیوٹر دوسرے دور کا پوری طرح سے ’’ٹرانزسٹر‘‘ پر منحصر تھا ۔ یہ کمپیوٹر اہم تحقیقی مراکز اور تعلیم اداروں کے لئے بنایا گیا تھا ۔’’دوسری نسل کے کمپیوٹر‘‘ کادورانیہ 1959 عیسوی سے لیکر 1965 عیسوی تک کا ہے۔دوسری نسل کے کمپیوٹر ز میں UNIVAC-2 اور IBM-1600 شامل ہیں۔
تیسری نسل کا کمپیوٹر
پہلی دو نسلوں کے کمپیوٹروں کا دور مختصر رہا کیونکہ سائنس بہت تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور ٹیکنالوجی میں بہت جلدی جلدی بدلاآرہے تھے ۔پہلی نسل کے کمپیوٹر کا دور لگ بھگ پندرہ سال15 کا رہا اور دوسری نسل کے کمپیوٹر کا دور تو اِس سے بھی مختصر صرف چھ 6سال رہا۔اِس کے بعد تیسری نسل کے کمپیوٹر کا زمانہ آیا ۔دوسری نسل کے کمپیوٹر کے زمانے میں ہی سوپر پاور’’روس‘‘ کی طرف سے خلاء میں بغیر انسان کی خلائی گاڑیوں (راکٹ) بھیجنے کی کوشش ہونے لگی اور اِسی لئے کسی طرح ’’الکٹرانک آلات‘‘ کی سائز کو چھوٹا کر کے اُن کا حجم کم سے کم کیا جائے اور کسی طرح بھی کمپیوٹر کا سائز بھی چھوٹا کیا جائے ۔اِسی طرح کی ایک کوشش میں ’’ٹکساس انسٹرومنٹ کمپنی‘‘ کے ماہر ٹیکنالوجی ’’جے ایس کلوی‘‘ (J S KILVI ) نے 1958 عیسوی میں ایک چھوٹی سی ’’چِپ‘‘ کی شکل میں ایک مکمل ’’انٹری گریٹڈ سرکٹ‘‘ بنایا۔ جسے ’’آئی سی‘‘ (I.C ) کہا جانے لگا ۔ ’’چپ‘‘ سے بنے ہوئے کمپیوٹروں کو ’’تیسرے دور کا کمپیوٹر‘‘ کہا جانے لگا ۔ اِس دور میں ’’مِنی کمپیوٹر‘‘ بننے شروع ہوئے جن کا سائز ایک چھوٹے سے کیبنٹ کے برابر ہوا کرتا تھا ۔ساتھ ہی چھوٹے سائز کے ’’ڈاٹ میٹرکس پرنٹر‘‘ بھی بننے لگے ۔’’فورٹران‘‘ اور ’’کوبول‘‘ جیسے پروگرام کے زبان کا نکھار بھی اُنہی دنوں میں ہوا۔کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ ٹی وی جیسے چھوٹے مانیٹروں کا رواج بھی اسی دوران ہوا۔ 1963 عیسوی میں ’’ڈیجیٹل ای کیوپمنٹ کارپوریشن‘‘ (Digitel Equipment Corporation ) نے دنیا کا ’’سب سے پہلا منی کمپیوٹر‘‘ PDP-5 صرف 27000 ڈالر قیمت کے ساتھ پیش کیا۔ ’’تیسری ِ نسل کے کمپیوٹر‘‘ کا دورانیہ1965 عیسوی سے لیکر 1970 عیسوی تک یعنی پچھلی دو قِسموں کے کمپیوٹروں سے بھی کم رہا۔تیسری نسل کے کمپیوٹر کی بنیاد ’’آئی سی‘‘ (i.c ) پر رکھی گئی۔
چوتھی نسل کا کمپیوٹر
آئی سی i.c کی ایجاد نے کمپیوٹر کی سائز اور حجم بہت چھوٹی کر دی تھی لیکن ابھی بھی بڑی سائز تھی اور انسان نے اُسے بھی چھوٹا کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوا۔چوتھی نسل کے کمپیوٹر میں ’’مائیکرو چپ‘‘ استعمال کی گئی اور اِس میں زیادہ سے زیادہ ’’ٹرانزسٹرز‘‘ کو انتہائی چھوٹا کر کے ایک ’’چپ‘‘ میں اکٹھا کیا ۔آئی سی i.c چپ کو کمپیوٹر سائنسدان مسلسل چھوٹی سے چھوٹی کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ امریکن فرم ’’اِن ٹل کارپوریشن‘‘ کے ’’ٹیڈ ہاف‘‘ نام کے سائنٹسٹ نے 1974 عیسوی میں ’’اِن ٹل ۴۰۰۴‘‘ intel4004 نامی چپ بنائی جس کی ترقی یافتہ شکل 8008 پر دنیا کا ’’پہلا مائیکرو کمپیوٹر‘‘بنایا گیا۔1976 عیسوی میں تو امریکہ کے دو طالب علموں ’’اسٹیو بوزنائیک‘‘ اور ’’اسٹیو جاؤ‘‘ نے تو کمال ہی کر ڈالا۔انہوں نے بہت ہی کم خرچ میں ایسا کمپیوٹر بنا ڈالا جس کی سائز بہت ہی چھوٹی تھی ۔ اُن دونوں طالب علموں نے اِس کے ساتھ ہی ’’ویزؤل ڈسپلے‘‘ Visual Display مانیٹر Monitor جوڑ کر ایک بکسے کی طرح ’’مائیکرو کمپیوٹر‘‘ بنا ڈالا۔ اِس ’’مائیکرو کمپیوٹر‘‘ نے انقلاب برپا کر دیا اور طرح طرح کے ’’مائیکرو کمپیوٹر‘‘ یا نسل کے کمپیوٹروں کی شکل میں پوری دنیا کے بازار میں چھا گئے۔ چوتھی قِسم یا نسل کے کمپیوٹر کا دورانیہ 1970 عیسوی سے 1986 عیسوی تک رہا ۔
پانچویںنسل کا کمپیوٹر
چوتھی نسل کے کمپیوٹر ’’مائیکرو کمپیوٹر‘‘ نے بازار میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا لیکن پانچویں نسل کا کمپیوٹر اُس سے بھی چھوٹا اور کئی گُنا زیادہ تیز ثابت ہوا اور اتنا سستا ہوگیا کہ کارخانوں اور کاروباری اور سرکاری اداروں سے نکل کر عام آدمی کی میز پر آگیا اور ’’پی سی‘‘ یعنی ’’پرسنل کمپیوٹر‘‘کہلایا۔پی سی (PC ) پرسنل کمپیوٹر کا مخفف ہے ۔ یہ نام اِس کا اِس لئے رکھا گیا ہے کہ اِسے کوئی بھی انسان اپنے ’’پرسنل‘‘ یعنی ذ اتی استعمال کے لئے خرید سکتا ہے اور استعمال کر سکتا ہے۔ PC لفظ کا استعمال چھوٹے حجم کے کمپیوٹر کے لئے سب سے پہلے آئی بی ایم IBM کمپنی کے کیا تھا تب سے یہ لفظ عام ہوگیا ۔ پانچویں قِسم یا نسل کے کمپیوٹروں کو انسان نے کئی طرح سے بنایا اور ہر گزرتے واقت کے ساتھ ساتھ اِن میں خوبیاں پیدا کرتا جا رہا ہے ۔کھیل کھیلنے والے ’’زیڈ ایکس اسپکٹرم‘‘ ( ZX Spectrun )کمپیوٹر سے لیکر ’’مین فریم‘‘ (Mainfram ) اور ہندوستان میں بنے ’’پرم‘‘ (ije ) جیسے ’’سوپر کمپیوٹر‘‘ آج دنیا میں دستیاب ہیں۔ 1980 عیسوی میں کمپیوٹر بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی آئی بھی ایم IBM نے ٹی وی جیسے مانیٹر کے ساتھ ’’پرسنل کمپیوٹر‘‘ جاری کیا۔ بعد میں اِس کی نقل میں سینکڑوں کمپنیوں نے اپنے اپنے برانڈ والے ’’پرسنل کمپیوٹر‘‘ جو کہ آئی بی ایم کے مطابق ’’آئی بی ایم کمپٹیبل‘‘ (IBM Compatible ) کہلائے۔ آٹومیٹک بزنس مشین کے میدان میں آئی بی ایم کا دبدبہ تو پہلے ہی تھا ۔ پرسنل کمپیوٹروںنے آئی بی ایم کو چوٹی پر پہنچا دیا ۔ بڑے حجم میں تقریباً سبھی ’’مین فریم‘‘ آئی بی ایم کے ذریعے ہی تیار کئے گئے۔پانچویں قِسم یا نسل کے کمپیوٹر کا دورانیہ 1985 سے لگ بھگ 1993 تک رہا ۔ 1993 میں ’’پینٹم سیریز‘‘ یعنی ’’پی سیریز‘‘ جاری ہوئی اور اِس کے بعد تو ایسا ہوگیا ہر سال نئے نئے کمپیوٹر بازار میں آنے لگے ۔ اِس کے بعد موبائل فون نے ہنگامہ کردیا اور 2010 کے بعد تو ’’اینڈرائیڈ‘‘ موبائل نے تو ہر طرح کے کمپیوٹر کو پیچھے چھوڑ دیا اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ’’انیڈرائیڈ‘‘میں ترقی ہوتی جارہی ہے۔
پینٹم سیریز کے کمپیوٹر
آئی بی ایم IBM کادبدبہ مسلسل کمپیوٹر بازار پر بنا ہوا تھا ۔ اِس کو ’’ایپل‘‘ (Apple ) کمپنی نے ٹکر دی اور اپنے کمپیوٹر بازار میں اُتارے لیکن ’’ایپل کمپیوٹر‘‘ عام نہیں ہوا اور عوام تک نہیں پہنچ پایا ۔ ایپل کمپنی نے اتنابہترین کمپیوٹر بازار میں پیش کیا کہ اُس کمپیوٹر سے ’’ڈی ٹی پی‘‘ (Desk Top Publishing )کا کام بہت اچھا ہوتا تھا۔اِسی لئے ’’ایپل سیریز‘‘ کے کمپیوٹروں نے ’’ اشاعت اور طباعت کے میدان میں اپنا خاص مقام بنا لیا۔ فن طباعت اور اشاعت کے سے متعلق سبھی طرح کی سہولتیں ،ڈی ٹی پی ساعٹ ویئروں، اِن پیج، وینچورا، پیج میکر اِس میں موجود ہیں۔ کئی زبان اور خطوط میں طرح طرح کے اسٹائیلوں میں مضامنین کو سنوارا جاسکتا ہے اور سبھی طرح کے گرافک کام کئے جاسکتے ہیں۔ 1993 عیسوی میں ’’پاور پی سیریز‘‘ یعنی پینٹم سیریز جاری ہوا جسے ’’سوپر کمپیوٹر‘‘ بھی کہا گیا۔ پی سیریز میں پی ون ، پی ٹو ، پی تھری ، پی فور اور پی فائیوبہت جلدی جلدی مارکیٹ میں آئے اور پی فائیو کافی دنوں تک چلتا رہا ۔اِس کے بعد تو بہت سارے تیز رفتار کمپیوٹر مارکیٹ میں آگئے اور بہت تیتزی سے ترقی ہوئی اور کمپیوٹر کی نئی نئی نسلیں مارکیٹ میں آگئیں۔ (بقیہ اگلی سوموار کو)
رابطہ : 7020048083