سرینگر//متحدہ مجلس علما ءمیں شامل تمام دینی، تعلیمی ، اصلاحی اور سماجی انجمنوں کے اراکین نے ایک مشترکہ بیان میں معاشرتی خرابیوں اور برائیوں میں آئے روز تشویشناک اضافے پر فکرو تشویش کا اظہار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کس قدر المناک اور تلخ حقیقت ہے کہ جموںوکشمیر کے طول و عرض میں سماجی بے راہ روی کے چلتے منشیات کے فروغ، گھریلوں تشدد،خانگی تنازعات، طلاق کی شرح میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر خودکشی کا بڑھتا ہوا گراف ہر باشعور انسان اور ذی حس طبقہ کیلئے انتہائی درد و کرب کا باعث ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں مسلسل نامساعد حالات اور دیگر کئی بنیادی اسباب اور عوامل شامل ہیں جن کے سبب نہ صرف نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ذہنی طور پر سو فیصد صحت مند نہیں ہیں بلکہ بچے، بزرگ اور خواتین بھی اعصابی اضمحلال اور ذہنی تناﺅ کا شکار ہیں اور اسکی وجہ سے کئی لوگ خودکشی کے ذریعے اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس ضمن میں خودکشی کے بنیادی اسباب اور عوامل کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے انکے انسداد کیلئے کارگر اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق پُر تناﺅ صورتحال اور تشدد آمیز واقعات نے کشمیری سماج کے تانے بانے کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان ایک انتہائی سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ دین اسلام میں خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا انتہائی سنگین جرم ، شدید گناہ اور باعث عذاب قرار دیا گیاہے۔مجلس نے موجودہ حالات کے تناظر میں تمام دینی اور اصلاحی تنظیموں ، علمائے کرام ، واعظین ، خطیبوں ، ائمہ حضرات، اساتذہ ، والدین ، باشعور شہریوں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے کمر بستہ ہوجائیںاور عوام خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین میں ہمہ گیر بیداری مہم چلائیں جس سے کشمیری معاشرہ کو درپیش ان سنگین نوعیت کے مسائل سے چھٹکارا اور ان کے انسداد کی راہیں ہموار ہوں۔ مجلس میں جن اداروں کے اراکین نے شرکت کی ان میں جماعت اسلامی،انجمن اوقاف جامع مسجدسرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ ، مسلم پرسنل لابورڈ جموںوکشمیر،انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث، کارروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام،انجمن تبلیغ الاسلام،جمعیت ہمدانیہ،انجمن علمائے احناف،دارالعلوم قاسمیہ،دارالعلوم بلالیہ ، انجمن نصر الاسلام، انجمن مظہر الحق،جمعیت الائمہ والعلمائ، انجمن ائمہ و مشائخ کشمیر،دارالعلوم نقشبندیہ ، دارالعلوم رشیدیہ ،اہلبیت فاﺅنڈیشن، مدرسہ کنز العلوم ،پیروان ولایت،اوقاف اسلامیہ کھرم سرہامہ ،بزم توحید اہلحدیث ٹرسٹ، انجمن تنظیم المکاتب ، محمدی ٹرسٹ، انجمن انوار الاسلام،کاروان ختم نبوت اور دیگر جملہ معاصر دینی، ملی ، سماجی اور تعلیمی انجمن کے ذمہ دارشامل ہیں۔