جموں//کشمیرسکھ سنگت نے 18ویں سالانہ کنونشن کاانعقاد کیاجس میں سکھ طبقہ کے مسائل پرتبادلہ خیال کیاگیا۔ اس دوران مقررین نے سکھ طبقہ کے مسائل کے ازالے کامطالبہ کیا۔اس موقعہ پرمقررین نے کہاکہ سکھوں کوتمام سابقہ حکومت نے ملازمتوں کے معاملے میں نظرانداز کیا۔انہوں نے ایس آراو 425 کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ایک طرف مرکزی حکومت نے پی ایم ایمپلائمنٹ کے تحت وادی کے کشمیری پنڈتوں کونوکریاں فراہم کی گئیں لیکن تعلیم یافتہ سکھ نوجوانوں کوملازمتوں سے محروم رکھاگیااورکوئی بھی پیکیج نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کشمیرمیں رہنے والے سکھوں کیلئے بھی ایمپلائمنٹ پیکیج کی مانگ کی۔ مقررین نے سکھ طبقہ کے لیے ملازمتوں اورپیشہ وارانہ کالجوں میں داخلوں میں تین فیصد ریزرویشن دی جائے۔ آنند میرج ایکٹ جوریاستی اسمبلی نے 1954میں بنایاتھا،اسے ملک کی دیگرریاستوں کی طرح جموں وکشمیرمیں بھی لاگوکیاجائے۔سکھ طبقہ کی بہبودکیلئے اقدامات اٹھانے پرزوردیاگیا۔مقررین نے وزیرتعلیم کا پنجابی زبان کونصاب میں شامل کرنے کیلئے شکریہ اداکیا۔ مقررین میں سیواسنگھ ، چرنجیت سنگھ خالصہ اورجوگندرسنگھ بالی ودیگران شامل تھے۔