سید رضوان گیلانی
سرینگر// ایک اہم پیش رفت میںکشمیر یونیورسٹی، جموں و کشمیر کے متعدد سرکاری محکموں کی کلیدی ٹیکنالوجی پارٹنر بن کر ابھری ہے۔یونیورسٹی مختلف اہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کرنے اور ان کی میزبانی کا کام انجام دے رہی ہے، جن میں ملازمین کی تصدیقی نظام، اینٹی کرپشن کلیئرنس پلیٹ فارم اور گنڈولہ گلمرگ کی آن لائن ٹکٹنگ سروس شامل ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران یونیورسٹی نے اپنے انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے اور اب یہ ڈیجیٹل گورننس اور سائبر سکیورٹی کے میدان میں ایک اہم ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔کشمیرعظمیٰ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلرپروفیسرنیلوفرخان نے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام ویب پورٹلز اور ڈیجیٹل سسٹمز کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط سائبر سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے۔انہوں نے کہا،’’ہمارے تمام ویب سائٹس کے لیے انتہائی مضبوط سائبر سکیورٹی نظام موجود ہے۔
خوش قسمتی سے آپریشن سندور کے بعد ہمیں کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور جو معمولی اثرات ہوئے تھے، ان سے بھی ہم مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔‘‘وائس چانسلر نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی خطے کے قدیم ترین اور تکنیکی اعتبار سے ترقی یافتہ تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے، جس نے اپنا ای-گورننس فریم ورک تیار کیا ہے اور مختلف سرکاری محکموں کو تکنیکی مشاورتی خدمات بھی فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ سپورٹ سروسز (IT&SS) اس وقت متعدد اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور حکومت کے لیے تکنیکی مشاورت اور معاونت کا ایک مرکزی ادارہ بن چکا ہے۔سائبر سکیورٹی سے متعلق ایک مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے IT&SS کے ڈائریکٹر ڈاکٹرمعروف قادری نے کہا کہ یونیورسٹی کا تیار کردہ آن لائن نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ نظام 2021 میں FICCI ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے نے ملک بھر سے موصول ہونے والی 2300 سے زائد نامزدگیوں میں ای-پولیسنگ کے شعبے میں بہترین منصوبے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ڈاکٹر قادری کے مطابق بعد ازاں اس نظام میں جموں و کشمیر سے باہر مختلف اداروں، بشمول دہلی کی اینٹی کرپشن برانچ، نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی نے گلمرگ گونڈولا کے مکمل ٹکٹنگ نظام کو تیار کیا ہے اور اس کی میزبانی بھی یونیورسٹی کے ڈیٹا سینٹر سے کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ سروس یونیورسٹی کے نجی کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر (SaaS) ماڈل کے تحت چلائی جا رہی ہے۔اسی طرح یونیورسٹی نے (CID) کے لیے ایک ملازمین کی تصدیقی نظام بھی تیار کیا ہے، جس سے نئی سرکاری بھرتیوں کی جانچ کا عمل مزید تیز اور مؤثر ہوا ہے۔ڈاکٹر قادری کے مطابق پاسپورٹ تصدیق کے لیے ایک مرکزی آن لائن پلیٹ فارم بھی تیار کیا جا چکا ہے، جس نے تمام سکیورٹی آڈٹس کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں اور متعلقہ فریقوں کی تربیت کے بعد جلد نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی ایک جامع ای-آفس نظام چلا رہی ہے جس میں بجٹ، مالیاتی انتظام، بلنگ، تنخواہوں کی ادائیگی، چھٹیوں کا انتظام، عدالتی مقدمات کی نگرانی اور سرکاری خط و کتابت شامل ہیں۔یونیورسٹی کا ریسورس اینٹرپرائزپلاننگ پلیٹ فارم بائیومیٹرک حاضری کو تنخواہوں کے نظام کے ساتھ مربوط کرتا ہے، جس کے ذریعے حاضری کی تصدیق کے بعد خودکار طور پر تنخواہیں تیار کی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چھٹیوں کے انتظام، عدالتی مقدمات کی نگرانی اور جائیداد گوشواروں کی جمع آوری کے نظام کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جا چکا ہے۔ڈاکٹر قادری نے کہا کہ یونیورسٹی کی تمام ایپلی کیشنز کو نافذ کرنے سے قبل داخلی اور تھرڈ پارٹی سکیورٹی آڈٹس سے گزارا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب جموں و کشمیر کے تمام سرکاری محکموں کے لیے تھرڈ پارٹی سکیورٹی آڈٹس لازمی قرار دیے جا چکے ہیں۔ان کے مطابق آپریشن سندور کے دوران کشمیر یونیورسٹی نے بطور احتیاط جیو فینسنگ نافذ کی تھی، جس کے تحت آن لائن خدمات تک رسائی صرف بھارت کے اندر موجود صارفین تک محدود کر دی گئی تھی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سائبر سکیورٹی سبسکرپشنز اور تھریٹ مینجمنٹ سسٹمز کی بروقت تجدید نہ کی جائے تو سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سابقہ مثال کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک سرکاری محکمے کا بلنگ سسٹم صرف اس وجہ سے سائبر حملے کا شکار ہوا کیونکہ ضروری سکیورٹی سبسکرپشنز کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ڈاکٹر قادری نے کہا،’’سکیورٹی صرف فائر وال پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ باقاعدہ سکیورٹی آڈٹس، بروقت سافٹ ویئر جائزے اور کمزوریوں کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔‘‘انہوں نے سائبر سکیورٹی افسران کو ڈیجیٹل دور کے ’ورچوئل سپاہی‘ قرار دیتے ہوئے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ فِشنگ حملوں اور دیگر سائبر خطرات سے متعلق ملازمین میں شعور بیدار کرنے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام اور ورکشاپس منعقد کریں۔انہوں نے کہا کہ مؤثر سائبر سکیورٹی کے لیے مستقل نگرانی، وقتاً فوقتاً آڈٹس اور مسلسل فالو اپ ضروری ہے تاکہ حفاظتی نظام ہر وقت فعال اور جدید تقاضوں کے مطابق برقرار رہ سکے۔