جموں//خوراک ، شہر رسدات و امور صارفین اور امور قبائلی کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے مفتی محمد سعید کو اس صد ی سٹیٹس مین اور امن کا سفیر قرار دیا ہے۔مفتی محمد سعید کو ان کی دوسری برسی پر گاندھی نگر جموںمیں ایک تقریب کے دوران خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ لیڈر او ر سیاستدان پیدائشی ہوتے ہیں لیکن ایک سٹیٹس مین صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید کی وفات سے ریاست کے سیاسی منظر نامے میں ایک خلا پید ا ہوا۔انہوںنے کہا کہ مفتی محمد سعید کو خراج عقیدت ادا کرنے کا بہتر ین طریقے یہ ہوگا کہ ہم کشمیر معاملے کو پرامن طریقے پر حل کرنے اور ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ ذوالفقار علی نے اس موقعہ پر بھارت اور پاکستا ن سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے نزدیک آکر دوستانہ رشتے قائم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کا براہ راست اثر ریاست بالخصوص سرحدوں اور ایل او سی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو معاملات باہمی اتفاق رائے حل کرنے چاہئیے۔ انہوں نے مفتی محمد سعید کو امن کا ایک سفیر قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ مفتی صاحب نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ایک اہم رول ادا کیا بلکہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کو بہترین دوست میں بدلنے کے لئے بھی ایک سازاگارماحول قائم کیا۔ انہوںنے کہا کہ مرحوم لیڈر نے سیاست میںایک ماحول تیار کیا جس میں لوگوں کو ایک باوقار زندگی گزارنے کا موقعہ فراہم ہوا۔ وزیر نے کہا کہ یہ مفتی صاحب کا ہی ایک دانشمندانہ نظریہ تھاجس کی بدولت دونوں ملکو ں کے درمیان رشتوں کو تقویت حاصل ہوئی۔انوہں نے کہا مفتی صاحب نے اٹل بہاری واجپائی کو کشمیر آنے کی دعوت دی جہان انہوں نے پاکستان تک دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ وزیر نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے ہمیشہ ریاست کے روایتی راستوں کو کھولنے کی وکالت کی۔ ذوالفقار علی نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت قائم کرنا مفتی صاحب ایک تاریخی فیصلہ تھا جس کی بدولت ریاست کے تینوں خطوں کے منڈیٹ کو وقار حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے مابین الگ الگ نظریات ہونے باوجود بھی حکومت محبوبہ مفتی کی قیادت میں کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اس تقریب پر قانون ساز کونسل کے چیئرمین حاجی عنایت علی ، پارٹی کے وائس چیئرمین بھوشن لال ڈوگرہ ، پارٹی کے وائس چیئرپرسن وجے ڈوگرہ کے علاوہ پارٹی کے کئی دیگر لیڈران اور کارکن بھی موجود تھے۔