وادی میں2007کے بعد پارہ منفی 4.5ڈگری تک گر گیا
بلا ل فرقانی
سرینگر//وادی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور رواں سال کا نومبر گزشتہ17برسوں میں سب سے سرد ثابت ہورہا ہے۔ مسلسل کئی راتوں سے درجہ حرارت نقط انجماد سے نیچے گر رہا ہے جس نے قبل از وقت سردیوں کی شدت بڑھا دی ہے اورجمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سرینگر میں کم از کم درجہ حرارت منفی 4.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جو اب تک کی سب سے سرد ترین رات ثابت ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق سرینگر میں گزشتہ بار 2007 میں نومبر کے دوران اتنی شدید سردی ریکارڈ کی گئی تھی، جب 28 نومبر 2007 کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.8 ڈگری تک گر گیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں نومبر کا اب تک کا سب سے کم درجہ حرا ت منفی 7.8 ڈگری سیلسیس ہے، جو 29 نومبر 1934 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1975 اور 1970 میں بھی نومبر کے آخری دنوں میںمنفی 6.1، منفی 6.0 اور منفی 5.7 ڈگری جیسے سخت ترین درجہ حرارت درج ہوئے تھے۔محکمہ موسمیات کے مطابق نومبر کا معمول کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.5 سے 1 ڈگری ہوتا ہے، تاہم رواں ماہ درجہ حرارت مسلسل3 سے 4 ڈگری کم چل رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے ریکارڈ سے بھی واضح ہے کہ نومبر کے دوران وادی میں مسلسل ٹھنڈ کا رجحان برقرار ہے، جس میں 2024 میں منفی 2.1، 2023 میں منفی 1.8، 2022میں منفی 2.2، 2021میں منفی 2.3، 2020میں منفی 3.0اور اس سے قبل بھی کئی برسوں میں درجہ حرارت نقط انجماد سے نیچے رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے سینئرعہدیدار ملک مبین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر درجہ حرارت منفی 5 ڈگری تک پہنچتا ہے تو وادی میں سرد لہر کا باضابطہ اعلان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا رات کے دوران مطلع صاف رہنے کی وجہ سے شبانہ سردی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نومبر میںعمومی طور پرکم سے کم درجہ حرارت منفی 1ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ملک مبین کا کہنا تھارواں نومبر معمول سے 3ڈگری سے زیادہ سرد چل رہا ہے، جو واضح تبدیلی ہے۔ وادی کے مختلف موسمیاتی سٹیشنوںجنوب، وسط اور شمالی کشمیرنے بھی 2007 کے بعد نومبر کی سب سے کم ترین راتیں ریکارڈ کی ہیں۔ادھر عہدیداروں نے بتایا کہ پلوامہ ضلع وادی میں سب سے سرد ترین مقام تھا جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ قاضی گنڈ میں پارہ منفی 4.4 اور کپواڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.8 ، کوکرناگ میں منفی 1.8 ، پہلگام میں منفی 5.5 اور گلمرگ میں منفی 1.4 ڈگری سیلسیس تھا۔غیر متوقع طور پر جو سردی نومبر میں محسوس کی جارہی تھی امسال وہ نومبر میں ریکارڈ کی گئی ہے۔سردی کا دورانیہ ایک ماہ پہلے ہی وادی کشمیر میں شروع ہوگیا ہے اور یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ آنے والے ایام انتہائی سخت ہوسکتے ہیں اور دسمبر اور جنوری کے مہینے میں درجہ حرارت منفی 9تک گر سکتا ہے۔نومبر میں ہی کئی علاقوں میں پانی کے چھوٹے ذخائر یا نل جم رہے ہیں جبکہ صبح کے اوقات میں چھتوں، گاڑیوں اور سڑکوں پر موٹی پالا بکھری ہوئی دیکھی جارہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ایک کمزور مغربی ہوا کااگلہ مرحلہ چند دنوں میں معمولی بہتری لاسکتا ہے، تاہم محکمہ موسمیات نے 10 دسمبر تک کشمیر بھر میں بنیادی طور پر خشک موسم کی پیش گوئی کی ہے اور کہا ہے کہ رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی کا امکان ہے۔