نیشنل وار میموریل نئی دہلی سے’شوریہ وجے یاترا‘ کا آغاز
نئی دہلی //وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ سال 1999 کی کرگل جنگ میں فوج نے غیر معمولی جرات، عزم اور قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے قبضے سے ہر چوٹی، پہاڑی اور بنکر دوبارہ حاصل کیا اوریہ فتح اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اپنی سرزمین، شناخت اور قومی وقار پر اٹھنے والی ہر دشمنانہ نظر کا پوری قوت سے جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔نیشنل وار میموریل نئی دہلی سے ’’شوریہ وجے یاترا‘‘نامی خصوصی موٹر سائیکل مہم کو جھنڈی دکھا کر روانہ کرتے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کرگل جنگ کے دوران بھارتی فوجیوں نے تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی اور منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ جیسے انتہائی سخت موسمی حالات میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی فوجیں آج بھی بھارتی فوج کی اس تاریخی کامیابی کو جرات، نظم و ضبط، صبر اور حب الوطنی کی مثال کے طور پر دیکھتی اور اس کا مطالعہ کرتی ہیں۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ نیشنل وار میموریل کی مٹی کا کرگل کی سرزمین سے ملنا اس بات کی علامت ہوگا کہ آج کی نسل اپنے عظیم سپاہیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔وزیر دفاع نے کرگل جنگ کے تمام شہداء اور بہادر فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پرم ویر چکر سے نوازے گئے ہیروز کیپٹن وکرم بترا، لیفٹنٹ منوج کمار پانڈے، سب میجر (اعزازی کیپٹن) یوگیندر سنگھ یادو (ریٹائرڈ) اور سب میجر (اعزازی کیپٹن) سنجے کمار (ریٹائرڈ) کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا۔یاترا کے دوران شرکاء چنڈی مندر وار میموریل، ریزانگ لا وار میموریل اور لیہ وار میموریل سمیت مختلف فوجی یادگاروں پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس یاترا کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حاضر سروس فوجی، سابق فوجی اور مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے شہری ایک ساتھ شریک ہیں۔انہوں نے کہا ’’مختلف زبانیں، مختلف ثقافتیں اور مختلف روایات ہونے کے باوجود ایک ترنگا، ایک قوم اور اپنے ہیروز کے لیے یکساں احترام ہی بھارت کی اصل شناخت ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کرگل کی فتح صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ یہ قوم کے حوصلے، اتحاد اور مادرِ وطن کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر کوئی ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو چیلنج کرے گا تو اسے پوری قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔تقریب میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، آرمی چیف جنرل دھیرج سیٹھ اور وزارت دفاع و مسلح افواج کے متعدد اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔