دنیا میں مختلف مذاہب و اقوام ہیں، ان کے ماننے والے لوگ بھی ہیں۔ہر مذہب میں بہت سارے رسوم و روایات پائے جاتے ہیں، جن پر موقع بموقع عمل درآمدگی ہوتی ہے۔دوسری قوموں کے بعض رسومات اچھے ہیں اور بعض اخلاق و مروت سے گرے ہوئے ہیں جیسے اپریل فول وغیرہ ۔وہ رسومات جو اچھے ہیں ان میں بھی بعض ایسے ہیں جو اپنی اصلی روح کھو چکے ہیں اور فحاشی و جرائم کی شکل اختیارکر چکے ہیںاور محض روایات کے طور پر منائے جاتے ہیں۔کرسمَس ڈے کو ہی اگر دیکھیں تو اس کے پیچھے اصل مقصد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یوم پیدائش منانا ہے، لیکن دھیرے دھیرے اس میں اتنی خرافات شامل کر لی گئی ہیںجن کے باعث اس دن حد درجہ حیا سوز عادتیں عام ہو گئی ہیں کہ خدا کی پناہ ۔اصل بات تو یہ تھی کہ یہ دن بطور یادگار منایا جاتا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کیا جاتا، لیکن ان کی تعلیمات کے بالکل برخلاف مخرب اخلاق و عادات اعمال عام ہو چکے ہیں اور وہ انسانیت کو شرمسار کر رہے ہیں۔ اس دن رقص و سرود کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، شراب کے پیمانے چھلکائے جاتے ہیں، لڑکیوں کی عفت وعصمت پر برضا و رغبت دست درازیاں کی جاتی ہیں اور آزادانہ طور پر وہ کام کیے جاتے ہیں جو انسانی فطرت سلیمہ کے خلاف ہیں۔
کچھ دنوں کے بعد ہم نئے سال میں ورود کرنے والے ہیں، ایک سال ختم ہوتا ہے اور نیا سال شروع ہوتا ہے، تو اس دن بھی لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔خوشیاں منائیں لیکن اس کی بھی ایک حد ہے کہ آپ اسراف کی حد تک نہ جائیں،فحاشی و بے حیائی کے کام نہ کریں، نئے سال کی خوشی میں گناہوں کا بار اپنے سروں پر نہ ڈالیں، اور ہر ایسے کام سے بچیں ،جس میں آپ کے دین و دنیا کا نقصان ہو۔نیا سال منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس دن ہم دینی و دنیاوی طور سے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں کہ ہم نے گزشتہ سال میں کیا کھویا ہے اور کیا کچھ حاصل کیا ہے، کہیں ہم نے شتر بے مہار کی زندگی تو نہ گزاری ہے، کہیں ہم نے اپنے کسی بھی عمل سے دوسرے لوگوں کے دلوں کو ٹھیس تو نہ پہنچائی ہے، کہیں ہماری وجہ سے کسی کا جانی و مالی نقصان تو نہ ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان اچھی چیزوں پر ہمارے اندر ندامت کا احساس ہونا چاہیے جنہیں ہم حاصل کر سکتے تھے لیکن سستی و کاہلی کی وجہ سے حاصل نہیں کر پائے۔اس نئے سال میں ہم عزم مصمم کریں کہ اس کے حصول کی حتی الوسیع کوشش کریں گے، اور حاصلِ بھی کریں گےتاکہ ہماری کوتاہیوں اور ناکامیوں کا مداوا ہواور اگر ہم نے گزشتہ سال میں اپنی زندگی بخیروعافیت گزاری ہے، اپنی جد وجہد سے دلی مراد پائی ہے، ہماری زندگی افراط وتفریط سے پاک گزری ہے تو اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ اس کی توفیق ہمارے شامل حال رہی۔
اپنے تیوہار اور رسومات کے مواقع پر دوسری قوموں کے لوگ جو طوفان ہوشربا اٹھاتے ہیں، ہم دو قدم اُن سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔حالانکہ ہماری دین کا مزاج یہ تھا کہ ہمیں ان سے واسطہ و تعلق بالکل نہیں ہو نا چاہیے، بلکہ ہمیں اپنے اخلاق و کردار کو درست رکھنا چاہیے، ہمارے عمل سے یہ ظاہر ہو کہ ہم اس نبی ؐکے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں جو سارے نبیوں میں اشرف و اعلیٰ ہیں، ہمیں بارگاہ الہٰی سے خیر امم کا لقب عطا ہوا ہےتو ہماری سیرت و کردار بھی سارے لوگوں سے اعلیٰ وافضل ہونی چاہیے۔بعض مسلمان کہتے ہیں کہ ساری دنیا کے لوگ ان مواقع پر یہی کام کرتے ہیں اور یہ سب چلتا ہے۔میرے پیارے دنیا والے اگرچہ یہ سارے بے جا رسومات بجا لاتے ہیں ہم نہ کریں گے ،اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں۔دنیا والے جھوٹ بولتے ہیں، لوگوں کو فریب دیتے ہیں، دنیا والے بے حیائی اور فحاشی کا ارتکاب کرتے ہیں، دنیا والے گانے بجاتے اور ناچتے ہیں، شراب و کباب کی محفلوں میں اخلاقی قدروں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، دنیا والے اپنی روزمرہ کی زندگی میں فحش زبان استعمال کرتے ہیں اور حیا سوز کارنامے انجام دیتے ہیں، ہم یہ سارے کام نہ کریںکیونکہ ہم مسلمان ہیںاور جب یہ احساس ہمارے اندر پیدا ہو جائے گا کہ ہم مسلمان ہیں، اور مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ کسی کو بے وجہ تکلیف نہ پہنچائے، بے مقصد کاموں کو چھوڑ دے، ایسا کوئی کام انجام نہ دے، جس میں اس کے دین یا دنیا کا نقصان ہوتو یاد رکھیں کہ وہ مسلمان جو ان سارے خرافات سے اپنا دامن بچا لے ، اور اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گزاریں تو بخدا دنیا و آخرت میں یہی لوگ سرخرو ہوں گے، ان کی دنیا بھی روشن و تابناک ہو گی اور آخرت میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق ہوں گے ۔ دنیا والوں کی نظر میں بھی ان کا ایک مقام ہوگا، ان کی ایک پہچان ہوگی۔
ہاں! ضروری ہے کہ ہر مسلمان کے اندر وہ احساسات پیدا ہوں اور ان پر عمل بھی کرے، جن کی ترجمانی حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے بادشاہ حبشہ کے بھرے دربار میں کیا،جب مشرکین مکہ کا ایک گروہ حبشہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو سرزمین حبشہ سے نکلوانے کے لیے پہنچا اور الزام عائد کیا کہ اے بادشاہ یہ لوگ ایسے دین کے ماننے والے ہیں جو ہمارے اور تمہارے دین کے خلاف ہے۔بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ کونسا دین اختیار کیا ہے،جو بت پرستی اور نصرانیت دونوں کے خلاف ہے؟اس کے استفسار پر حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اپنےخیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے، بتوں کو پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، بدکاری اور قطع رحم کرتے تھے، ہمسایوں کے ساتھ زیادتی سے پیش آتے تھے، ہم میں طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا یعنی ان کو ناحق ستاتا تھا۔ان حالات میں اللہ تعالی نے ہم میں اُس پیغمبر کو بھیجا جس کی صداقت، پاکبازی، امانت داری اور حسب و نسب سے ہم سب واقف ہیں، اس نے ہم کو معبود واحد کی طرف بلایا اور ہمیں تعلیم دی کہ ہم بتوں کی پرستش چھوڑ دیں، صرف معبود واحد کی پرستش کریں، سچ بولیں، امانت داری اور صلہ رحمی کریں، انسانوں کا حق ادا کریں، خونریزی اور حرام کاموں کو چھوڑ دیں، عورتوں پر تہمت نہ لگائیں، نماز پڑھیں، روزے رکھیں، تو ہم لوگ اُس پیغمبر پر ایمان لائے، اس کی تعلیمات کو قبول کیا اور معبودان باطل کی عبادت چھوڑ کر اللہ کی عبادت اختیار کی، حلال و حرام کو پہنچانا اور تمام اعمال بد سے باز آئے، اس جرم میں ہماری قوم ہماری دشمن بن گئی اور ہم کو طرح طرح کی اذیتیں دیتی ہیں کہ ان باتوں کو چھوڑ کر پھر سے گمراہی اختیار کرلیں، لیکن اے بادشاہ! ہم جان تو دے سکتے ہیں لیکن اب گمراہی کی طرف واپس نہ جائیں گے‘‘۔
ان سارے کلمات کو غور سے پڑھیں اور اپنے دل سے پوچھیں کہ ہمارا وجود ان میں بیان کردہ خوبیوں پر کتنا اترتا ہےاور کتنی برائیوں سے اپنے دامن کو آلودہ ہونے سے ہم بچاتے ہیں۔آج کے مسلمان دوسرے لوگوں کی تبعیت میں اُن کی اکثر برائیوں کے شکار ہیں، حالانکہ ہمارا دین اسلام ہے، اس میں زندگی کے ہر پہلو کا روشن بیان ہے۔عملی طور پر ہمارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ موجود ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ و عادات حسنہ سب کے نزدیک اپنے ہوں یا غیر ہوں مسلم ہیں۔ہم غیروں کے قدم سے قدم ملا کر کیوں چلیں؟ جبکہ ہمارے دین اسلام کی ایک اپنی روش ہے، ایک اپنا سفر ہے، ہمیں اپنی روش و سفر کو انہیںکے مطابق گزارنے چاہیے،تاکہ ہمیں دارین کی سعادتیں نصیب ہوں۔جب ہمارا نقطہ نظر غیروں سے مختلف ہے تو اس کی عملی شکل بھی مختلف ہونی چاہیے۔جب ہمارا یقین ہے کہ آخرت کی زندگی دنیاوی زندگی سے بہتر ہے اور وہاں ہر عمل کا حساب دہ ہونا ہے تو پھر ہماری زندگی بھی دوسرے لوگوں سے الگ اور بہتر ہونی چاہیے۔ہمارا پورا وجود اسلامی تعلیمات کا آئینہ ہو نا چاہیے۔ہماری سیرت و کردار میں اسلامی تعلیمات کی اتنی روشنی ہو کہ اس سے گم گشتہ راہ کو منزل فطرت کا سراغ ملے۔اب میں اپنی گفتگو کو ڈاکٹر اقبال کے اس شعر پر اپنے خیالات و جذبات کے ماحصل کی عکاسی کرتے ہوئے مختصر کرتا ہوں کہ ؎
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہےشاہیں کا جہاں اور
(البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ)