ڈوڈہ //گذشتہ دنوں کی طوفانی بارشوں سے ڈوڈہ ضلع کے اندرونی دیہات میں پکڈنڈی راستے تباہ ہوئے ہیں وہیں متعدد نالوں پر تعمیر کئے گئے عارضی پل بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ادھر کالنئی دریا پر ہونڈا کے نزدیک مقامی لوگوں نے کچھ برس قبل چندہ کرکے تعمیر کیا گیا چالیس میٹر لکڑی کے پل کا ایک حصہ سیلاب میں بہہ گیا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں نفوس پر مشتمل آبادی کا زمینی رابطہ بیرونی علاقہ سے منقطع ہو گیا ہے۔نائب سرپنچ پنچائت ہلارن محمد شریف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹھاٹھری سب ڈویڑنل ہیڈکواٹر سے صرف دو کلومیٹر کی دوری پر واقع یہ لکڑی کا عارضی پل لوگوں نے اپنی رقم جمع کر کے تعمیر کیا تھا اور اور اس کا ایک حصہ پہلے ہی خستہ حال ہو چکا ہے جبکہ کچھ گذشتہ دنوں آئے تباہ کن سیلاب سے بہہ گیا ہے۔انہوں نے کہا یہ کہ پل ہونڈا، لوپا، سلوگا، گلنی، کھٹاسو، و مسرونڈہ جیسے ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو سب ڈویڑنل ہیڈکواٹر و ہسپتال کے لئے جانے والا واحد راستہ ہے اور آج تک اس جگہ پر کئی افراد گر کر دریا میں بہہ گئے ہیں۔ نائب سرپنچ نے کہا کہ پل کی تعمیر کو لے کر متعدد بار ان ملحقہ علاقوں کی عوام نے احتجاج کرکے ضلع و سب ڈویڑنل انتظامیہ سے پل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا لیکن آج تک یقین دہانیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ماہ قبل ہی اس پل کی خستہ حالی کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا مگر اسوقت بھی یقین دہانی کروائی گئی تھی مگر ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور اب پل کا ایک حصہ ہی بہہ گیا ہے۔انہوں نے ضلع و مقامی انتظامیہ سے ہنگامی بنیادوں پر پل تعمیر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہمہ گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس جگہ پر کو جانی نقصان ہوا تو اس کی ذاتی طور پر ذمہ داری انتظامیہ کی ہوگی۔