جموں//ریاست میں مزید سترہ کالجوں کے قیام کے فیصلہ پر منڈی کی عوام نے سخت برہمی کا اظہا رکیاہے کیونکہ منڈی کیلئے کالج کے قیام کا اعلان نہیں کیاگیا اور درہال کی طرح اسے بھی پھر سے نظرانداز کردیاگیاہے ۔ یہاں جاری بیان کے مطابق اسی بات پر منڈی کی مختلف تنظیموںنے سول سوسائٹی کے بینر تلے وزیر تعلیم سید الطاف بخاری سے ملاقات کرکے کالج قائم کرنے کی مانگ کی ۔ وفد نے وزیر تعلیم کو بتایاکہ لورن،ساوجیاں، منڈی جیسے دور دراز علاقوں سے بچوں کو پچاس کلو میٹر سفر طے کر کے پونچھ کالج آنا پڑتا ہے اورغربت ہونے کی وجہ سے کئی طلباء ترک تعلیم پر مجبور ہوجاتے ہیں۔وفد کے ارکان نے بتایاکہ سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے بورڈ میٹنگ میں تحصیل منڈی میں کالج قائم کرنے کا عہد کیاتھا مگر یہ کابینہ منڈی کو کالج نہیں دے پائی جو بہت بڑی ناانصافی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگراس بار بھی منڈی کو کالج نہ ملا تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگی اور لوگ اس کو برداشت نہیں کریںگے ۔ وفد میں ایڈووکیٹ آفتاب گنائی،سرپنچ راجپورہ فاروق احمد، سرپنچ بٹل کوٹ ثنااللہ شیخ،محمد بشیر بانڈے،محمد اکبر خان، محمد بشیر تانترے،غلام محمد ، محمد شفیع شیخ،علی محمد، ایم ایم پٹھان جی اے گنائی میموریل سوسائٹی صدرمنڈی حمید نباض اورغلام محمدبھی شامل تھے ۔ وزیر تعلیم نے تمام باتیں بغور سننے کے بعد وفد کو یقین دلایاکہ وہ اس سلسلے میںکوشش کریںگے لیکن کالج کا قیام وزیر اعلیٰ کی منظوری سے ہی ہوسکتاہے ۔
درہال میں احتجاجی ریلی نکالی گئی
منیرخان
راجوری// ڈگری کالجوں کے قیام میں درہال کو نظرانداز کرنے پر مقامی لوگوں نے حکومت مخالف ایک ریلی نکالی اور تحصیلدار کو یاداشت بھی پیش کی ۔اس ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس کی قیادت ایڈووکیٹ زاہد سرفراز کررہے تھے ۔زاہدسرفراز نے کہاکہ ریاستی سرکارنے درہال کے لوگوںسے اس بات کا وعدہ کیاتھاکہ وہ یہاں ڈگری کالج کا قیام عمل میں لائے گی تاہم وقت گزرتاجارہاہے اوریہ وعدہ پورا نہیںہورہا۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ وزیر چودھری ذوالفقار علی سے لوگوںکو کافی زیادہ امیدیں تھیں لیکن وہ پور انہیںہوئیں ۔سرفراز نے کہاکہ وزیر اعلیٰ درہال میں کالج کا قیام عمل میں لاکر یہاں کے طلباء کو مقامی سطح پر ہی تعلیم کی سہولت فراہم کریں جو بہت بڑا احسان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ چنائو میںعوام اسی لیڈر اورجماعت کواپنا تعاون دینگے جو درہال میں کالج جیسی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی ۔