کارل ہینری مارکس ہماری دنیا کا وہ عظیم فلسفی،ماہرِ اقتصادیات، مورخ، صحافی، دانشورا ور انقلابی شخص تھا ، جس نے عالمی نظام کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔اس کی پیدائش 5مئی1818ء کو جرمنی کے شہر ٹرائیرمیں ہوئی۔زمانے کے دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم گھر ہی پرحاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول اور جینا یو نی ورسٹی میں داخلہ لیا۔اس کا میلان ِطبع ابتدا ہی سے سماجیات ،تاریخ اور فلسفے کی طرف تھااورآگے چل کر انہیں علوم میںاس نے مہارت حاصل کی۔1836 ء میں اس کی شادی جینی وان ویسٹفالین سے ہوئی جو اشرافیہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔اسی زمانے میں مارکس نے ہیگل کے فلسفے کو پڑھنا شروع کیا ۔ چونکہ ہیگل کے ماننے والے دو حصوں میں تقسیم تھے، ایک دائیں بازو سے اور دوسرا با ئیںبازو سے تعلق رکھتا تھا مگر مارکس نے بائیں بازو کے ساتھ باہمی تعاون کا آغاز کیا اور اس گروہ کی دو معروف شخصیات Ludwing feuerbach اور دوسرا Bruno bauer کے ساتھ جدلیات کے فلسفے پر کام کرنا شروع کیا۔
کارل مارکس کا رجحان ادب کی طرف بھی مائل تھا اور اس سلسلے میں اس نے 1837ء میںجینی کی محبت میں کئی نظمیں بھی لکھی ہیں، بعد میںجن کا ترجمہ ممتاز رفیق نے کیا۔اس کے علاوہ ایک ناول Skorpion and Felixاور ایک ڈراما Oulanemبھی لکھا۔1841میں مارکس کو پی ایچ۔ڈی۔ کی ڈگری تفویض کی گئی، جس کا موضوع The Difference Between Democratian and Epicuream Philosophy of Nature تھا۔1842ء میں اس نے جرمنی کے بڑے شہر Colonia میں قدم رکھا اور ایک انقلابی اخبار Rheinische Zeitung میںسیاسی و سماجی حقائق کو قلم بند کرنا شروع کیا۔چونکہ اس کی تحریروں سے شدت پسندی جھلکتی تھی لہٰذا حکومت وقت نے اس اخبار پر پابندی عائد کر دی ۔اس کے فوراََ بعد مارکس نے ایک جریدے Deutsche-Franzosische Jahrbucherمیں لکھنا شروع کیامگر اس کا ایک ہی شمارہ شائع ہوسکا کیوں کہ اس کی اشاعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ۔
اس کے بعد اس نے1843 میںمتواتر دو کتابیں Contribution to a Critique of Heagel's Philosophy of Rightاور On the Jews Questionلکھ کر تلخ حقائق کو بیان کیا۔ نتیجے کے طور پر اس کومسلسل پابندیوں اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ تھی جس کے سبب اسے جرمنی سے نکل کر پیرس میںپناہ لینا پڑی۔یہ سفر اس کے لیے کار آمد ثابت ہوا کیوں کہ یہاںاس کی ملاقات(1844ء)فریڈرک اینگلزes Fedrick angl سے ہوئی ۔مارکس نے جب اس کی کتاب Conditions of the working class in England کا مطالعہ کیا تو اس نے اسے اپنا ہم خیال پایا اور1845ء میں اینگلز کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ کتابThe holy Family ترتیب دی۔اس کتاب کی عوامی حلقوں میں کافی پزیرائی ہوئی۔ اسی دور میں اس نے اپنے مخطوطات کو The Economic and Philosophical Manuscripts of 1844کے نام سے شایع کیا، جس میں اس نے Alination یعنی احساس ِبیگانگی کا تصورپیش کرنے کی کوشش کی۔
مارکس نے طنزو تعریض کی پرواہ کیے بغیر1845ء میںFeuerbach کے فلسفے کے توڑ میں Thesis in Feuerbach لکھی۔اس کے بعد اس نےVorwartsمیں اپنے خیالات کی تشہیر شروع کی، جس کے سبھی کالم نویسRevolutionary Socialist League Of The Just سے منسلک تھے اور بعد میںاسی تنظیم نے اپنا نام بدل کرکمیونسٹ لیگ Communist Leagueرکھ لیا۔1845 میں اس اخبار پر بھی پابندی عاید کر دی گئی اور مارکس کو پھر شہر بدر ہونا پڑا۔
ان ساری صعوبتوں کے باوجود مارکس نے اپنا مشن جاری رکھااور1845ء میں بیلجیم کے شہر برسلزکی طرف منتقل ہوا ۔ یہاں اس کی ملاقات دیگر وطن بدر سوشلسٹوں، جن میں خاص طور پر موسیٰMoses ،کارل ہینزین Karl Peter Heinzeاورجوزف وڈیمیرJosep wedemeyer کے نام قابل ذکر ہیں،سے ہوئی۔ان سوشلسٹوںکے افکار و خیالات نے اس کے ارادوں کو اور مستحکم کیا ۔ اس کے علاوہ یہیں پر مارکس اور اینگلز نے دنیا کی دیگر سوشلسٹ تحریکوں کی حمایت کرنی شروع کی اور ایک کتاب The German Idology بھی ترتیب دی، جس میں انہوں نے تاریخی مادیت کے تصور کوتفصیل کے ساتھ پیش کرنے کی سعی کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے1848ء میں ایک تاریخ ساز دستاویزThe Communist Manifesto شائع کی۔اس دستور نامے نے جہاں لوگوں کو کمیونسٹوں کے اشتراکی نظریات سے روشناس کیا، وہیں اس نے یورپ اور دنیا کی دیگر انقلابی تحریکوں کو جلا بھی بخشی۔
بہرحال ! کارل مارکس نے جلاوطنی کی طویل عمر گزار کر آخر کار1849ء میں لندن میںمستقل سکونت اختیار کر لی۔یہاں پہنچ کر اس کی آمدنی کے سارے ذرائع ختم ہوچکے تھے، جس کی وجہ سے بقیہ عمرانتہائی غربت اور پریشانی میں گزری۔ اس کی زندگی کوآخری د ھچکا جینی کی وفات سے لگا جسے وہ برداشت نہ کر سکا اور اکثر بیمار رہنے لگااور آخر14مارچ 1883ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گیا۔اس کے جنازے کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میںصرف11لوگ شامل تھے۔اس کی قبر پر جو کتبہ نصب ہے، اس پرآج بھی اس کے مقولے اس طرح درج ہیں:’ ’دنیا بھرکے محنت کشو ایک ہوجائو‘‘ اور’’فلسفیوں نے مختلف انداز میں دنیا کی تشریح کی ہے مقصد تو دنیا کو تبدیل کرناہے۔‘‘
مارکس دراصل ذاتی ملکیت کا خاتمہ چاہتاتھاکیوں کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ طبقاتی تضاد کی بنیادی جڑ اسی میں مضمر ہے۔ اس کی ساری زندگی ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرنے میں گزر گئی جہاںہر طبقے کے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اس کا تخاطب ہمیشہ مزدور اور پسماندہ طبقہ سے رہا۔وہ بورژوا (Bourgeoisie)کے مقابلے میں پرولتاریہ (Proletariat) کی ڈکٹیٹر شپ کا خواہاں نظر آتا ہے۔اس نے مزدوروں کو شعوری طور پر بیدار کرکے سرمایہ داروں کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے سو تدبیریںکیں ۔ یہ اسی کی محنت کا ثمرہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مزدوروں کے کام کے اوقات کو گھٹا نے کے ساتھ ساتھ ان کی رہائش ،علاج، اشیائے خورد و نوش اور دیگر ضروریات زندگی کے لیے بہترین انتظام کیے جارہے ہیں۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو مناسب مزدوری نہیں ملتی، جس کے سبب ملوں کے ملازم کی حالت بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ کارخانوں اور فیکٹریوں میںخون پسینہ مزدور بہاتا ہے لیکن اس کو اس کی مزدوری کا شہی مول نہیں ملتا۔اس لیے اس نے کارخانوں میں مزدوروں کی حصہ داری کی بات کہی۔
اگر ہم آج کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے کہ آج بھی مزدوروں کی حالت ویسی ہی ہے جیسے کے پچھلی صدی میں تھی۔ بورژوا (آجر) طبقے کے ہاتھوں آج بھی پرولتیریت( مزدور) کا استحصال جاری ہے۔ غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے سماج میں ایک خلا پیدا ہوتی ہے جو طبقاتی کشمکش کو بڑھاوا دیتی ہے۔ یہ کشمکش سماج میں بے اطمینانی پیدا کرتی ہے جو آئندہ انقلاب کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، سنٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
رابطہ : 7780936355