جموں//گورنر کے مشیر کے ۔کے سے آج یہاں ہفتہ وار عوامی رابطہ کے پروگرام کے تحت کئی وفود اور افراد ملاقی ہوئے اور اپنے مسائل و مطالبات سے آگاہ کیا۔ صوبہ جموں کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زائد از35 وفود اور فرداًفرداً لوگوں نے مشیر موصوف کو اپنی مشکلات کے بارے میں جانکاری دی۔جموں صوبے کے لگ بھگ تمام اضلاع سے آئے سرپنچوں اور نائب سرپنچوں کی قیادت میں کئی وفود نے مشیر موصوف کو دیہی علاقوں میں درپیش مشکلات کے بارے میں بتایا۔ ان مطالبات میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی، دیہاتوں میں پینے کے پانی کی دستیابی، بڑی اور چھوٹی سڑکوں کی تعمیر و تجدید اور ان پر تار کول بچھانے کے علاوہ تعلیمی اور طبی عملے کی تعیناتی شامل تھے۔اس موقعہ پر کئی سرپنچوں نے مختلف علاقوں میں بجلی سے محروم علاقوں کے بارے میں مشیر موصوف کو آگاہ کیا۔ انہوں نے آبپاشی کوہلوں کی متواتر صفائی، پانی کے ذخائیر کی بحالی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچہ کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اپنے علاقوں میں بنک کی شاخیں کھولنے، معاوضہ کے معاملات کے عمل میں تیزی لانے،ٹیوب ویلوں کی بحالی، ہائی سکولوں کی اپ گریڈیشن وغیرہ معاملات بھی مشیر کے ساتھ اُٹھائے۔تریوا علاقہ کے سرپنچ نے سرحدی گاو¿ں کے لوگوں کے ایک وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے سرحدی لوگوں کو درپیش مسائل سے مشیر کو آگاہ کیا۔کے کے شرما نے وفود کے تمام مطالبات بغور سُنے اور متعلقہ افسروں کو ہدایت دی کہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات کریں۔سانبہ کے گوجر طبقہ سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے دھوئیں کے بغیر چولہے اور سولر لائٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔سینک سکول نگروٹہ کے پرنسپل نے سکول کے مستحق طُلباءکے لئے سکالر شِپ میں اضافہ کرنے کی مانگ کی۔انہوں نے ادارے میں قائم نئے ہوسٹل کے لئے رقومات کی واگذاری کی بھی استدعا کی۔ریاسی کے باشندوں کے ایک وفد نے علاقہ کے لوگوں کو بن میں ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی مانگ کی۔ٹھیکہ داروں کے ایک وفد نے سرکاری محکموں میں التواءمیں بقایا جات کو جلد واگذار کرنے کی درخواست کی۔جموں میونسپل کارپوریشن کے کئی کونسلروں نے اپنے علاقوں کے اہم معاملات مشیر موصوف کی نوٹس میں لائے۔مشیر موصوف نے تمام وفود اور افراد کے مطالبات کے رد عمل میں انہیں یقین دلایا کہ اُن کے جائیز مطالبات و شکایات پر غور کیا جائے گا۔