ڈوڈہ //ڈوڈہ کے گندانہ علاقے کے خطورا گاﺅں میں8گھنٹوں تک مسلح معرکہ آرائی کے دوران ملنگ پورہ اونتی پورہ کا جنگجو کمانڈر جاں بحق جبکہ ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا۔جھڑپ کے دوران ایک تین منزلہ مکان باردوی دھماکہ سے زمین بوس ہوا۔پولیس نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپ میں دو جنگجو مارے گئے۔گاﺅں کا محاصرہ جاری ہے اور تلاشی آپریشن صبح تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ڈوڈہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 26کلو میٹر دور علاقہ گندانہ کے خطورا نامی گاﺅں میںجنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد 10 آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے مشترکہ طور پر ہفتہ و اتوار کی درمیانی شب محاصرہ کیا اور اتوار کی صبح تلاشی کارروائی شروع کی۔پولیس نے اتوار کی صبح اس بات کی غیر سرکاری طور پر اطلاع دی تھی کہ گاﺅں میں کم سے کم 3جنگجوﺅں کی موجودگی کے بعد آپریشن شروع کیا گیا ہے۔اتوار کی صبح قریب 6بجے جنگجوﺅں اور فورسز کی تلاشی پارٹی کے درمیان آمنا سامنا ہوا جس کے بعد طرفین میں شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ایک مکان میں موجود جنگجوﺅں اور فورسز میں قریب 8گھنٹوں تک مسلح تصادم آرائی ہوئی جس میںفوجی اہلکار راج سنگھ ساکن ڈوڈہ میں معرکہ آرائیہریانہ ہلاک ہوا۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے سہ پہرکو تین منزلہ مکان کو بارودی دھماکے سے اڑا دیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا۔بعد میں ملبے سے ایک لاش بر آمد کی گئی جس کی شناخت طاہر عرف عقاب ساکن ملنگ پورہ اونتی پورہ کے بطور کی گئی۔پولیس نے سہ پہر کو ایک ٹویٹ کے ذریعہ 2جنگجوﺅں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن بعد میں کہا کہ صرف ایک جنگجو ہی مارا گیا جس کی لاش بر آمد کی گئی ۔شام 5بجے تک اور کوئی لاش بر آمد نہیں کی گئی تھی جس کے بعد محاصرہ جاری رکھنے اور تلاشیاں لینے کا فیصلہ کیا گیا اور آپریشن پیر تک ملتوی کیا گیا۔
ہریانہ ہلاک ہوا۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے سہ پہرکو تین منزلہ مکان کو بارودی دھماکے سے اڑا دیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا۔بعد میں ملبے سے ایک لاش بر آمد کی گئی جس کی شناخت طاہر عرف عقاب ساکن ملنگ پورہ اونتی پورہ کے بطور کی گئی۔پولیس نے سہ پہر کو ایک ٹویٹ کے ذریعہ 2جنگجوﺅں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن بعد میں کہا کہ صرف ایک جنگجو ہی مارا گیا جس کی لاش بر آمد کی گئی ۔شام 5بجے تک اور کوئی لاش بر آمد نہیں کی گئی تھی جس کے بعد محاصرہ جاری رکھنے اور تلاشیاں لینے کا فیصلہ کیا گیا اور آپریشن پیر تک ملتوی کیا گیا۔
پولیس بیان
انسپکٹر جنرل پولیس جموں مکیش سنگھ نے جموں میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا ” ہم نے فی الحال صرف ایک جنگجو کی ہی لاش بر آمد کی ہے،جس کی شناخت طاہر احمد بٹ ساکن ملنگ پورہ اونتی پورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ہے“انہوں نے کہا کہ مہلوک حزب المجاہدین کے نئے آپریشنل کمانڈر سیف اللہ کا قریبی ساتھی تھا، جسے چناب خطے میں جنگجویت دوبارہ منظم کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔انہوں نے طاہر کی ہلاکت کو حزب کےلئے شدید دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیکورٹی فورسز کےلئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مذکورہ جنگجو کمانڈر اس گروپ کا حصہ تھا جس نے کشتواڑ میں پچھلے سال اپریل میں آر ایس ایس عہدیدار کو ذاتی محافظ سمیت ہلاک کیا تھا۔مذکورہ جنگجو بانہال میں پچھلے سال ایک سی آر پی ایف کانوائی کو بارودی سرنگ سے اڑانے کے منصوبے کے پیچھے بھی تھا۔آئی جی نے مزید کہا مشترکہ آپریشن سنیچر کی شب شروع کیا گیا جس کے دوران حزب کمانڈر ایک مکان میں موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ گاﺅں تک پہنچنے کےلئے قریب 6کلو میٹر کا راستہ پیدل طے کیا گیا اور اتوار کی صبح 7بجے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ 5گھنٹے تک جھڑپ جاری رہی، جس میں حزب کمانڈر کی ہلاکت ہوئی۔انسپکٹر جنرل پولیس نے مزید کہا کہ طاہر بٹ نے پچھلے سال اپریل کے اوائل میں ہتھیار اٹھائے اور وہ پہلے پلوامہ اور شوپیان میں سرگرم رہا۔ تاہم بعد میں وہ ڈوڈہ میں گھس آیا۔15جنوری کو ڈوڈہ میں ہارون عباس نامی حزب کمانڈر جاں بحق ہوا تھا۔