بقول پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی :’’برصغیر میں جنم لینے والی اس نئی شعری راویت سے جولوگ وابستہ ہوئے ان میں ایک نام فرید پربتیؔ کا بھی ہے۔فرید پربتی ؔکے نام اور کلام سے ان کا عہد اور ماحول کچھ اس درجہ شدت کے ساتھ جڑے ہیں کہ جہاں اس رابط سے فریدپرؔبتی کی پہچان قائم ہوتی ہے ،وہاں ان کی شاعری کا دائرہ تھوڑا سمٹ بھی جاتا ہے۔تاہم ان کی تازہ شعری تخلیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس حد میں رہتے ہوئے بھی اپنی راہ الگ نکالنے کی جستجو کرتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔‘‘(شیرازہ ۔ڈاکٹر فرید پربتی نمبر ۔ص۔۱۲) اردو شاعری کا یہ آفتاب سرینگرسے تعلق رکھتا ہے ۔آپ کا اصلی نام غلام نبی بٹ ہے۔ آپ ۴ اگست۱۹۶۱ء شہر خاص کے سنگین دروازہ حول سرینگر میں تولد ہوئے۔فرید پربتیؔ نے اردوشاعری کا باقاعدہ آغاز1980میں کیا۔ اُردو میں ان کے آٹھ شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔جن میں’’ابر تر1987 ‘‘، ’’آب نیساں1992 ‘‘ ،’’اثبات1997 ‘‘ ، ’’فریدنامہ2003 ‘‘ ، ’’گفتگو چاند سے2005 ‘‘، ’’ہزار امکاں2006 ‘‘،’’خبر تحیر2008 ‘‘ اور ’’ہجوم آینئہ2010 ‘‘اردو دنیا میں متعارف ہوچکے ہیں۔فرید پربتی ؔکی شعری کائنات کا سفر کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حالات کی عکاسی اور اس کی تر جمانی کے لئے جن نارو استعاروں اور تشبیہات کو بروئے کار لایا ،ان کے پس منظر میں ایک المناک تاریخ پوشیدہ ہے۔انہوں نے اپنے وقت کے اعتبار سے جو شعری اساسہ تخلیق کیاوہ جدید شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔انہوں نے اپنے شعری اسلوب کو تبصرے کی شکل نہیں دی بلکہ اپنی تخلیقی صلاحتوں سے اپنی مخصوص شعری بصیرت کو بھی ماضی کی قدروں کے طور پر اور کبھی حال کے ذہنی انتشارکے طور پر استعمال کیاہے۔ ؎
جذبات نے رخ پھیر لیا ہے اکثر
مجھ سے مجھے تادیر لیا ہے اکثر
صندل تو نہیں ہوں میں مگر جانے کیوں
سانپوںنے مجھےگھیر لیا ہے اکثر
فرید پربتی ؔکے رباعی گوئی کے سفر (فرید نامہ2003کے حوالے سے )کے بعد ان کے قادر الکلام ہونے کی دلیل ہے کہ انھوں نے جس میدان میں قدم رکھا اسے اول تا آخر حاصل کیا۔وہ ہر جگہ اپنے پختہ فنی شعور، بے باک اسلوب اور متاثرکن فہم و ادراک کے سبب کامیاب نظر آتے ہیں۔ان کی رباعیاں نہ لفظوں کا کھیل ہے اور نہ محض صنعت واصطلاحات کی شطرنج ۔ان کی رباعیاںذاتی احساسات، تجربات ومشاہدات سے مزیٔن ہیں۔انھوں نے اردو شاعری کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ان میں موضوعات کی رنگارنگی ،زبان و بیان کی پاکیزگی اور روایتی لفظیات کے وسیلے سے ایک اعلی مقام حاصل کیا۔ ؎
یہ چاند، یہ تاروں کی ردا کس کے لئے!
غنچوں کے لبوں پر ہے دعا کس کے لئے!
گر میرے لئے نہیں ہے پھر تو ہی بتا!
یہ پھول، یہ شبنم ، یہ صبا کس کے لئے!
فرید پربتیؔکی رباعیوں میں زندگی کی رمق اپنے جوبن پر ہے چناچہ وہ عام روش سے ہٹ کرچلنا پسند کرتے تھے ۔ اسی لئے انھوں نے شاعری میں بھی ایک الگ روش کی بنیاد رکھی تھی ۔اس میدان میںفرید پربتی ؔنے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔چونکہ فریدؔ انسانی زندگی کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غوروفکر کرتے ہیں۔اس کی ان گنت گھتیوں کو سلجھادیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں اور انسان کو ایک نئی دنیاکی سیر کرنے پر مجبور کرتے ہیں جہاں اس کی اپنی تلاش پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتی ہے ۔انہوں نے اردو رباعی میں ایک نئی روچ پھونک دی۔اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑادی۔ان کی رباعیوں میں منفرد خیالات جابجا ملتے ہیں ؎
انداز سکھاتا ہوںبھلا سا خود کو
صحر ا میں بھی رکھتا نہیں پیا سا خود کو
ہر جیت میں مضمر ہے یہ اک راز فریدؔ
ہر بار پہ دیتا ہوں دلاسا خود کو
فرید پربتیؔنے سیاسی، تہذیبی ،معاشرتی موضوعات کو بھی اپنی رباعی کا حصہ بنایا۔انہوںنے اپنے تجربات میں نئی فکر کو عام کیا ہے، جو بدلتے حالات اور اس کے نشیب و فرازسے وجود میں آتی ہے نیز انہوںنے اپنے شاعرانہ خیالات میں جو سیاسی،سماجی،مذہبی،تاریخی اور فلسفیانہ عناصر شامل کیے ہیں وہ دراصل اسی نئی فکر کی دین ہے۔فرید پربتیؔنے اپنے سماج کی پیچید گیوں کو ،جوکہ بیش تر سماجی گروہ بندی اور مذہبی اختلافات سے پنپتی ہیں، کا بھی پردہ فاش کیا ۔اپنی رباعیوںمیں سماج کی پیچید گیوں کواس طرح بیان کیا ہے کہ گردو پیش کے حالات دیکھ کر ہم خون کے آنسو روتے ہیں۔
طو فان حوداث میں بکھر تا ہے وجود
اک آگ کے دریا سے گزرتا ہے وجود
ہے غولِ بیاباں کا تعاقب شب روز
اس تیرہ خاک داں میں ڈرتا ہے وجود
بہرحال 2003 میں منظر عام پر آنے والا ان کی رباعیات کا مجموعہ ’’فرید نامہ‘‘ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ فرید پربتی ؔجموں و کشمیر کے اردو ادب میں ایک خاص مقام پر فائز ہیں۔اس مجموعے کی آمد سے دبستان جموں وکشمیر کے شعر وادب میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔جس میں سماجی ،سیاسی،مذہبی ،تاریخی ،اقتصادی معاملات کے منفی اور مثبت رخ اورانسانی و غیر انسانی رشتوں کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کرنے کی حتی الامکان کوششیں کی گئی ہیں۔اس مجموعے میں کشمیری تاریخ و تہذیب اور ثقافت و معاشرت کو فنی خوبصورتی کے ساتھ منصہ شہود پر لایا گیا ہے۔ شاعر کشمیر کا شدید تاثر بھر پور انداز میں پیش کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔فرید پزبتی ؔکے یہاں کشمیریت اور کشمیری ماحول اور اپنی تہذیب وثقافت نہایت ہی آب وتاب کے ساتھ جلو گرہے۔ان رباعیوں میں جمالیاتی رنگ بھی ہے اور قدرتی حسن بھی ۔یہ رباعیاں کشمیر ی تہذیب و تمدن کی بھر پور عکاسی کرتی ہیں۔ اپنی شاعری میں کشمیر کے حسن اور اس کی رعنائی کو زینت بخشنے والا یہ اردو دوست 14 دسمبر2011کو اس جہاں فانی سے پرواز کر گیا۔فرید پربتیؔآج بیشک ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے کارنامے مینارہ ٔروشن کی طرح ہماری رہنمائی کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے:
واقف میں ہر اک خواب کی تعبیر سے ہوں
میں حسن ہوں اور حسن کی جاگیر سے ہوں
کہتے ہیں مجھے یوسف ثانی اے دوست
کنعاں سے نہیں وادی کشمیر سے ہوں
رعناواری سرینگر،8899037492
بیاد ِفرید
ف۔۔۔
فہیم ایسا کہ عنوان تھا فراست کا
ذہین ایسا کہ سلطان تھا ذہانت کا
ر۔۔۔۔
روایتوں کا امیں تھا نئے افق کا مکیں
اسے نہ راس کبھی آئی دوسروں کی زمیں
ی۔۔۔
یقین اس کو تھا اللہ کی عطائی پر
عبور جس نے دیا تھا اسے رباعی پر
د۔۔۔
دماغ اس کا تھا زرخیز دل کشادہ تھا
بلندیوں پر کھڑا رہنے کا ارادہ تھا
پ۔۔۔
پکارتا تھا کبھی میر کو محبت میں
کبھی وہ داغ کو آواز دیتا اُلفت میں
ر۔۔۔
رفیق ایسا کہ سایہ رفاقتوں کا تھا
شفیق ایسا کہ ساتھی محبتوں کا تھا
ب۔۔۔
بدن سڈول تھا جس کا، چمک نگاہوں میں
سفیدو سرخ تھی رنگت کمال ہاتھوں میں
ت۔۔
تناو میں بھی کہے شعر اور خوشی میں بھی
خوشی کے دیپ جلاتا رہا غمی میں بھی
ی۔۔۔
یقین آتا نہیں انتقال اس نے کیا
کمال اس نے کیا ہاں کمال اس نے کیا
اشرف عادل
کشمیر یونیور سٹی
7780806455
اپنے دوست فریدؔ پربتی کی نذر
ایک توشیحی نظم
ف
فرید یاروں کی محفلوں کو سجانے والا
خلوص سے بس حکایتِ دل سُنانے والا
ر
رُلا کے ایک اک کو بزم سے اُٹھ گیا اچانک
ہر ایک پیروجواں کو پیہم ہنسانے والا
ی
یزیدِ عصرِ رواں کی پرواہ نہیں تھی اُس کو
قلندروں کی طرح تھا آنکھیں مِلانے والا
د
دیا عجب دل کو گھا ئو سروِ رواں نے ہمکو
جُھکا گیا اذنِ مرگ سب کو جُھکانے والا
پ
پرے زمانے کی مستیوں سے ہوا تو کیا ہے؟
دلوں میں اہلِ سخن کے رہ رہ کے آنے والا
ر
رہِ صداقت پر اپنا پرچم لئے چلا تھا
نہیں تھا ورنہ کسی کے دل کو دُکھانے والا
ب
بصد وفاوخلوص اُس نے نبھائے رشتے
کرخت لہجہ بھی کس قدر تھا لُبھانے والا
ت
تمام خوشیاں وہ دوستوں پر لُٹاکے بیٹھا
کسی کو بیٹا کسی کو بھائی جتانے والا
ی
یہ زندگی بے ثبات یوں بھی رہی ہے انظر ؔ
فریدؔ جیسوں کو پھر بھی فن ہے بچانے والا
حسن انظر
بمنہ سرینگر