سرینگر//جموں کشمیر ہائی کورٹ نے اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی اُس عرضی پرجواب طلب کیا ہے جس میں انہوں نے اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کی جائیداد کو جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میںمبینہ مالی بے ضابطگیوں کے کیس میں منسلک کرنے کو چیلنج کیا ہے۔ڈویژن بنچ پنکج متل اور ونود چٹرجی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کوہدایت دی کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اس معاملے میں جوابی حلف نامہ داخل کریںاور عرضی گزار کو اس کے بعد جواب الجواب داخل کرنے کی اجازت دی۔عدالت نے عرضی کو حتمی سماعت کیلئے جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق خزانچی احسان احمد مرزا کی عرضی کے ہمراہ جوانہوں نے عدالت کی یک نفری بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی ہے،فہرست میں رکھا۔ بنچ نے کہا،فی الوقت عرضی گزار کوصرف وجہ بتائو نوٹس دی گئی ہے جس کی سماعت20اپریل کو ہوگی اور حقیقت ہے کہ منسلکی کاحکم عارضی ہے جو صرف180دنوں تک ہی جائز ہے۔
عدالت نے کہا کہ ہم اس کواس مرحلے پر کوئی عبوری حکم جاری کرنے کے اہل نہیں سمجھتے،کیوں کہ 43.69کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگی متنازعہ نہیں ہے جوعوامی ادارہ جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کو واپس کی جانی چاہیئے۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ عرضی گزار کی ایک ایسی ہی عرضی خارج کی گئی ہے اور اسطرح کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے قبل یک رکنی بنچ کے نتائج کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ بنچ نے کہا،کہ پہلے کی عرضی مسترد کئے جانے جس کے خلاف لیوپٹیشن عرضی کسی عبوری تحفظ کے بغیرزیرالتواہے ،ہمارے لئے اس مرحلے پر کوئی عبوری حکم جاری نہ کرنے کی وجوہات ہیں ۔عدالت نے یہ ہدایات ویڈیون کانفرنسنگ کے دوران دی جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے سدھارتھ لتھرا ،سینئروکیل نے شری سنگھ اور اریب کاوسہ کے تعاون سے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ تشار مہتہ سالسٹر جنرل اوت زوہیب حسن اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پیش ہوئے۔ایڈوکیٹ لتھرا نے مالی بے ضابطگیوں کی روکتھام سے متعلق قانون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عرضی گزار کے خلاف مذکورہ قانون کے شیڈول اے کی روشنی میں چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عرضی گزار کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی روکتھام کے قانون کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی کیوں کہ دفعہ406اور409رنبیرپینل کوڈ کے تحت جرم،شیڈول جرم نہیں ہیں اوردفعہ120بی کے تحت جرم میںعرضی گزارکیخلاف مالی بے ضابطگیوں کے قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
اس کے جواب میں تشار مہتہ سالسٹر جنرل نے کہا کہ مالی بے ضابطگیوں کی روکتھام سے متعلق قانون،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی سیشن کی طرف سے ممبر ممالک کوقومی مالی بے ضابطگیوں کاقانون بنانے پر زوردینے کے پس منظرمیں پارلیمنٹ نے بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ممبر ملک ہونے کی وجہ سے یہ قانون پورے ملک پر لاگو ہوتا ہے۔سالسٹر جنرل نے کہا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔