نیوز ڈیسک
جموں// آل مائیگرنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کشمیر کے بینر تلے پی ایم پیکیج ملازمین نے ریلیف کمشنر دفتر کے باہر احتجاج رکھا اور وادی میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک کشمیر سے جموں منتقلی کا مطالبہ کیا۔پی ایم پیکیج کے ملازمین نے وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر جموں منتقلی کا مطالبہ کرنے کے لیے اس احتجاج کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ریلیف اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کمشنر (مہاجر) جموں کے دفتر میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین میں سے ایک نے کہا”کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دینے والے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ہم پی ایم پیکیج ملازمین کے مسائل پر حکام کی خاموشی سے مایوس ہیں‘‘ ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’’5 پی ایم پیکیج ملازمین کو کام کی جگہ پر قتل کیا گیا ہے۔ ہم گولیوں اور غلط پالیسیوں کا شکار ہیں۔ ہم کہاں جائیں گے؟”۔ایک اوراحتجاجی کا کہنا تھا کہ ’’ہم حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے پرامن مظاہرے کر رہے ہیں تاہم ملازمین پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ایک اورکا کہنا تھا کہ ’’کشمیر میں کے پی ایم پیکیج کے تقریباً 4500 ملازمین کو نجی طور پر کرائے پر رہائش فراہم کرنے والے زمینداروں کو بھی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور اس وجہ سے ہمارے لیے وہاں خدمات انجام دینے کے لیے حالات موزوں نہیں ہیں‘‘۔
پنڈتوں کی واپسی کیلئے یک وقتی روڈ میپ تیار کریں
این سی اقلیتی سیل کا پی ایم پیکیج ملازمین کے مسائل حل کرنے پر زو
جموں// اقلیتی سیل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی میٹنگ شیر اول کشمیر بھون جموں میںبھوشن لال بھٹ سابق ایم ایل سی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں شریک چیئرمین سردار جگدیش سنگھ آزاد کنوینر بھی موجود تھے۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے بھوشن لال بھٹ نے مرکز پر زور دیا کہ وہ سٹیک ہولڈرز کی امنگوں کے مطابق ان کی محفوظ، باعزت اور باوقار واپسی کے لیے ایک وقتی روڈ میپ تیار کرے۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ پرائم منسٹر پیکیج کے ملازمین کے مسائل حل کیے جائیں جو گزشتہ چھ ماہ سے احتجاج پر ہیں اور ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ اور ان کے اہل خانہ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔سردار جگدیش سنگھ آزاد کنوینر نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ریلیف پیکیج معمولی رقم ہے جو مہاجروں کو ادا کی جا رہی ہے اس میں موجودہ قیمتوں کے اشاریہ کے مطابق اضافہ کیا جانا چاہیے۔ جتن بھٹ مہاجر برادری کے ممتاز رکن نے کہا کہ موجودہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بے روزگار نوجوان سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان کے لیے کوئی پیکیج نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے زیادہ تر اپنی عمر کی حد عبور کر رہے ہیں۔