۔ 26مہلوکین کے نام دریائے لدر کے کنارے یاد گار تعمیر
عارف بلوچ
اننت ناگ// پہلگام حملے کی پہلی برسی کے موقعہ پرانتظامیہ نے پہلگام اور اس کے آس پاس اضافی پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا ہے نیز متعدد مقامات پر سخت چیکنگ اور نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔سینئر حکام نے بتایا کہ اس تقریب کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں متعدد سیاستدانوں، سول سوسائٹی کے اراکین، متاثرین کے اہل خانہ اور مقامی نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال بلا ل نامی جس گھوڑے والے نے درجنوں سیاحوں کو بچایا تھا ، کو منگل کے روز مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے نئے گھر کی چابی دیدی گئی۔
پچھلے سال اس وقت کے مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ ایک ناتھ شنڈے نے اسے نیا مکان دینے کا وعدہ کیا تھا اور منگل کے روز اسے نئے مکان کی چابی دی گئی۔سیاحت کے بہت سے سٹیک ہولڈرز نے کہا ہے کہ صنعت نے حالیہ مہینوں میں بحالی کے آثار دکھائے ہیں۔پہلگام کے پہاڑ مقام بائسرن میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی پونی والا کو خراج عقیدت کے طور پر ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے جنہوں نے گزشتہ سال ایک وحشیانہ ملی ٹینٹ حملے میں اپنی جانیں گنوائی تھیں۔ حکام نے پہلی برسی سے قبل کشمیر بھر میں سیکورٹی بڑھا دی ہے۔22 اپریل کو ہونے والے حملے سے نہ صرف جموں و کشمیر میں صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی بلکہ جگہ جگہ اس حملے کیخلاف مظاہرے ہوئے تھے۔ اس واقعہ کی وجہ سے خطے کی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکا پہنچاتھا جو کہ مقامی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔اگرچہ اس قتل عام میں ملوث تینوں پاکستانی ملی ٹینٹوں کو سیکورٹی فورسز نے تین ماہ بعد سرینگر کی زبرون پہاڑیوں میں ایک گولی باری میں ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)کی طرف سے تحقیقات جاری رہی ۔ دسمبر کے وسط میں سات ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی، جن میں ایف ٹی آر ایف اور اس کے ایک ساتھی شامل ہیں۔ جموں و کشمیر حکومت نے 28 اپریل 2025 کو قانون ساز اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس بلایا جس میں پہلگام حملے پر صدمے اور غم کا اظہار کرنے کے لیے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کے مذموم عزائم کو شکست دینے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے پرعزم طریقے سے لڑنے کا عزم کیا۔کالے سنگ مرمر سے بنی ایک یادگار کو، جس میں 26 متاثرین کے نام ہیں، دریائے لدر کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے، جو بائسرن میں ہونے والے حملے کی ایک پختہ یاد دلاتا ہے۔ایک سال بعد، یہ سائٹ بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہے۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ”جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے، لیکن اگر ہم اب اس جگہ کا دورہ نہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو یہ غلط ہوگام ہندوستان میں، تقریباً ہر گھر میں ایک خواب ہوتا ہے، ہم بھی کشمیر جانے کے اس خواب میں شریک ہیں،” ۔گزشتہ سال کے حملے کے سائے کے باوجود، سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، بہت سے لوگوں نے موجودہ حفاظتی انتظامات اور خطے کی مہمان نوازی پر اعتماد کا اظہار کیا۔