مینڈھر//مینڈھر کے پٹھانہ تیر علاقے کے لوگوں نے ہائی سکول کادرجہ بڑھاکراسے ہائراسکینڈری سکول کرنے کے مطالبے پر اپنا احتجاج جار ی رکھاہواہے ۔انہوںنے جمعہ کے روز پانچویں دن بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور مانگ کی کہ سکول کادرجہ بڑھایاجائے ۔مقامی لوگ حکومت سے مانگ کر رہے ہیں کہ ہائی سکول پٹھانہ تیر کا درجہ بڑھا کر اسے ہائیر سکنڈری سکول بنایاجائے۔جمعہ کے روز بھی علاقہ کے معززین نے سکولی بچوں کو ساتھ لے کر انتظامیہ اور سرکار کے خلاف نعرے بازی کی اور مانگ کی کہ سکول کا درجہ بڑھایاجائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹھانہ تیر ہائی سکول پہاڑی علاقہ پر واقع ہے جس کے گرد ونواح میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بستے ہیں جن کے بچے دور دراز سکولوں میں جا کر تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ پٹھانہ تیر کا ہائی سکول کئی سال پرانا سکول ہے جس کو ہائی سکینڈری کا درجہ ملنا ضروری ہے۔انہوں نے مقامی ایم ایل اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ان کے بچوں کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ جس سکول کو انہوں نے ہائیر سکنڈری کا درجہ ملنے کے لئے حکومت سے سفارش کی ہے ،وہ پہلے سے موجود ہائراسکینڈری سکو سے چند کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے اور ایم ایل اے نے ایسا اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کیلئے کیاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پٹھانہ تیر کے سکول کوہائراسکینڈری کادرجہ نہ دیاگیاتو حالات خراب ہو جائیں گے جس کی ذمہ واری ایم ایل اے اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ انہوں نے حکومت کو بھی آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک ٹیم کو موقعہ پر بھیج کر علاقے کا سروے کیا جائے اور اس کے بعد سکول کا درجہ بڑھانے کا جائزہ لیاجائے ،پھر انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگالیکن وہ بندر بانٹ نہیں ہونے دیںگے اور اس طرح کے فیصلوں کے خلاف لڑیںگے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ان کے علاقہ کو نظر انداز کیا گیا مگر اب ایسا نہیں ہونے دیاجائے گا۔