حجاب کے لغوی معنی پردہ ،نقاب اور ڈھانکنا یا چھپاناہے۔ اسلامی فقہ میں حجاب کا تعلق پردہ سے ہے، جس کو شرم و حیا اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
حجاب مسلمان عورت کے لیے فریضہ ہےجو وہ احکامِ الٰہی کے تحت ادا کرتی ہے۔ مگر آج اسے مسئلہ بنا کر اُچھالا جارہا ہے۔ قرآن کریم میں سب سے پہلے سورۃ الاحزاب میں آیتِ حجاب نازل ہوئی۔ترجمہ: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی کریم ؐ کو تکلیفیں دیتی ہیں ،مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتے۔ نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور اُن کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے‘‘۔ ( الاحزاب) حجاب کا حکم قرآن کریم کی سورۃ النور میں بھی نازل ہوا اور اُس میں خطاب کا آغاز مردوں سے کیا گیا اور بعد میں عورتوں کو یوںمخاطب کیا گیا۔’’اور اے نبی ؐ! مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں، بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کے آنچل ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں‘‘۔ (النور۳۱:۲۴)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ ؐکے ساتھ صبح کی نماز میں شریک ہوتیں۔ اس حال میں کہ انہوں نے اپنے جسم کو چادروں میں لپیٹا ہوتا، پھر وہ نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے اُن کو کوئی پہچان بھی نہ پاتا تھا۔(صحیح البخاری)
اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ کے دور میں جب مسلمان عورتیں کسی کام سے گھر سے باہر نکلتیں تو اپنے سارے بدن کو ایک بڑی چادر میں لپیٹ لیتی تھیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے ایک خط رسول اللہ ؐ کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو سمیٹ لیا اور فرمایا:’’مجھے معلوم نہیں کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ‘‘۔ تو اس عورت نے کہا کہ میں عورت ہوں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ’’تو اگر عورت ہے تو اپنے ناخنوں میں مہندی لگائو تا کہ مرد اور عورت میں فرق ہوسکے‘‘۔ (سنن ابن داؤد)معلوم ہواکہ عورتیں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو وہ حجاب میں ہوتی تھیں۔ان آیات اور احادیث کے بعد کسی مسلمان میں یہ جرأت نہیں کہ وہ حجاب کو کلچر، روایت یا معاشرتی اور سماجی رویہ قرار دیں۔ یہ واضح قرآنی و الٰہی حکم ہے، جسے مسلمان عورت بڑے افتخار کے ساتھ اپنائے ہوئے ہیں۔
موجودہ دور میں عالمی استعماری قوتوں نے اُمت مسلمہ پر تہذیبی یلغار کے تحت اسلامی شعائر کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ ناموسِ رسالتؐ، خاندانی نظام اور حجاب ان کے خصوصی اہداف ہیں۔ ہر جگہ پر اسلامی تہذیب و ثقافت کی علامات کو انتہا پسندی، قدامت پرستی اور دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔ فرانس، ہالینڈ اور ڈنمارک میں حجاب پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ ترکی میں یہ ایک گز کا کپڑا اتنی خطرناک علامت بن چکا تھا کہ ایک جمہوری حکومت کو کمزور بنانے کے دروازے بند کیے جارہےتھے۔تاہم اب ترکی میں یہ منظر بدل رہا ہے۔
حجاب اُمت مسلمہ کا وہ شعار ہے جو اسلامی معاشرے کو پاکیزگی عطا کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ مسلم دنیا کو پاکیزگی سے ہٹا کر بے حیائی کی دلدل میں دھکیلنا اور عورت کو ترقی کے نام پر بے حجاب کرنا شیطانی قوتوں کا ہدف رہا ہے۔ شیطان کی سب سے پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی تھی کہ اس کے جذبہ شرم و حیاء پر ضرب لگائے اور اُس کے شاگردوں کی یہ روش آج تک قائم ہے۔ ان کے یہاں ترقی کا کوئی کام اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک عورت حجاب سے باہر نہ آجائے۔ حیاء کو دقیانوسیت قرار دیا جاتا ہے، پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے اور برقعہ و چادر کے مذاق اُڑائے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہـ پردہ و حجاب عورت کو تقدس ہی نہیں تحفظ بھی فراہم کرتا ہے، یہ شیاطین اور اس کے حواریوں کی غلیظ نگاہوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ قلعہ ہے۔برقعہ اور چادر معاشرے سے بےحیائی کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔ جب عورت پردہ اُتار پھینکتی ہے توگویاوہ اپنی زرہ اُتار دیتی ہے اورآسانی سے دشمن کا شکار بن جاتی ہے۔
پردہ عورت کی عزت ناموس کی حفاظت کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔پردہ عورت کی زینت ہے، شرم و حیا اس کا زیور ہے اور اُس زیور کی حفاظت پردے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ـ پردہ عورت کو بلا ضرورت گھر سے باہر جانے سے روکتا ہے، جس سے وہ اپنے گھریلو فرائض کو احسن انداز سے سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کا جہاد کہا ہے۔ایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے کہ جو لباس پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں، پیارے نبیؐ کے فرمان کے مطابق وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکیں گی۔مسلمان خواتین نے پورے شعور کے ساتھ اپنے رب کی رضا اور اپنے نبیؐ کی تعلیم و سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے لیے یہ شعار پسند کیا ہے اور انشاء اللہ مشرق و مغرب کا کوئی آزادی پسند یہ اُتروا بھی نہیں سکتا۔ اُن کا حق اگر حیا باختگی اور برہنگی ہے تو مسلم خاتون کا حق حجاب اور حیاء پر کاربند ہونا ہے اور ہم شعائر اسلامی کی ترویج و حفاظت کا فریضہ ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے۔ حجاب محض سر کو لپیٹ لینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مجموعۂ احکام کا نام ہے۔ یہ اسلام کے نظام عفت و عصمت کا نام ہے جو معاشرے کو پاکیزگی بخشتا ہے، عورت کو توقیر عطا کرتا ہے، خاندانوں کو محفوظ و مستحکم کرتا ہے اور باہمی اعتماد کی بحالی کے ذریعے محبتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
آج کل میڈیا پر بے لباسی اور بے شرمی کے جو دلائل دیئے جارہے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے خلاف جو کچھ کہاجارہا ہے ،اس پر اظہارِ افسوس کے اور کیا کیاجاسکتا ہے۔ بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ شرم وحیا عورت کی زینت اور پردہ اس کی عزت وعصمت کا نگہبان ہے۔اس لئے ہماری مسلم خواتین پر لازم ہےکہ وہ شریعتِ اسلامی کے پردہ اور حجاب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ازواجِ مطہرات اور حضرت فاطمہ ؓکو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ والدین، بھائیوں،شوہروں اور بیٹوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ جو چیز اسلامی غیرت کے خلاف ہے، اُس کی اصلاح کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔حدیث میں آتا ہے:’’حیا اور ایمان لازم وملزوم ہیں، جب حیاجاتا ہے تو ایمان بھی چلا جاتا ہے۔‘‘
معاشرے کے برگزیدہ اور معزز افراد پر لازم ہےکہ وہ اس بے پردگی کے خلاف موثر آواز اٹھائیں اور اپنے معاشرے کو بے حیائی اور بے پردگی سے باز لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔حکومت کو بھی چاہئے کہ اس کے انسداد کے لیے آئین کی رو سے عملی اقدامات کرے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ ملعون اور اخلاق باختہ قوموں کی روش پر چل نکلا ہے۔ وضع، قطع، نشست وبرخاست اور طوروطریق غیر قوموں کے اپنائے جارہے ہیں۔ اگر اس ذلت وگراوٹ ،پستی اور شروفساد کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں دی جاتی تو اندیشہ اس بات کا ہے کہ خدانخواستہ اس قوم پر قہرِ الٰہی نازل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو مغربی تہذیب کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھے۔آمین