سرینگر// سنگبازی کو جنگجویت سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے کہا کہ شرپسندوں کے خلاف’’ پی ایس اے‘‘ عائد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موسم گرما کیلئے حکمت عملی تیار ہے اور امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ امسال جھڑپوں میں دو اعلیٰ کمانڈروں سمیت 19 جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں۔
سنگبازی بڑا مسئلہ
پولیس کنٹرول روم میں سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ موسم گرما میں کسی کو بھی امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اور سنگبازی میں ملوث افراد پر پی ایس اے عائد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا’’عسکریت پسندی سے زیادہ پتھراؤ ایک بڑا مسئلہ ہے، اس سے منفی اثر پڑتا ہے اور اگر پتھراؤ ہوتا ہے تو سیاحوں کو دور رکھتا ہے، جو بھی شخص پتھراؤ میں ملوث ہے اس پر پی ایس اے عائد کیا جائے گا‘‘۔آئی جی پی نے کہا ’’ ایک غلط تاثر پیدا کیا جارہا ہے کہ تصادم کے مقامات پر پتھراؤ ہوا ہے،ملحقہ دیہات سے کوئی نوجوان مقام جھڑپ پر پتھراؤ کرنے نہیں آتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب ہم یہ بات ثابت ہونے کے بعد شہری آبادی سے باہر آنے کو کہتے ہیں کہ جنگجو کسی خاص مکان میں روپوش ہیں تو کچھ شرپسند بعض اوقات پتھراؤ کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ موسم گرما کی حکمت عملی پہلے سے موجود ہے جس میں تازہ نئے ناکوں کا قیام اوراضافی اہلکاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ آئی جی پی نے کہا ’’پرامن امرناتھ یاترا کے علاوہ ہماری ترجیح اسکولوں ، اورکالجوں کو کھلا رکھنے اور سیاحوں کی کثیر تعداد میں آمد کو یقینی بنانا ہے۔‘‘ وجے کمارنے کہا کہ منشیات ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پڑوسی ملک حد متارکہ ، بین الاقوامی سرحد اور یہاں تک کہ نیپال سرحدکے ذریعے بھی منشیات بھیج رہا ہے۔ آئی جی پی نے کہا’’ہم والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نگاہ رکھیں اور اگر وہ ا انہیںمنشیات میں ملوث پاتے ہیں تو انہیں علاج اور صلاح مشورے کے لئے پولیس منشیات مرکز میں لے جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ منشیات ایک معاشرتی برائی ہے اور اس کو روکنے کے لئے ہم سب کو مل جل کرکام کرنا چاہیے۔ وجے کمار نے کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد بھی اس لعنت سے نپٹنے میں تعاون کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا’’ ہم نہیں چاہتے کہ میڈیا والے ہمارے مخبر بنیں ، لیکن انہیں کشمیر سے منشیات کے خاتمے میں ہماری مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہماری نوجوان نسل کھا رہی ہے۔‘‘یاترا کیلئے چوبیسیوں گھنٹے گشت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وجے کمار نے کہا360ڈگری کے کیمرے نصب کئے گئے ہیں،جن کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔انہوں نے کہا یاترا کی گاڑیاں مناسب وقت کی پیروی کریں گی ، شہریوں کی گاڑیوں میں کسی یاتری گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مقناطیسی بم
انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ مقناطیسی بم ایک مسئلہ ہے لیکن فورسز 28 جون سے شروع ہونے والے پرامن امر ناتھ یاترا کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا چپکنے والے بم یقینا ایک مسئلہ ہے لیکن صورتحال تشویش ناک نہیں ہے۔ آئی جی پی کمار نے کہا کہ ہم اس سے مؤثر طریقے سے نمٹیں گے۔
شوپیاں جھڑپ
وجے کمار نے کہا کہ شوپیاں کے امام صاحب علاقے میں لشکر طیبہ کے چار جنگجو ہلاک ہوگئے تھے ، اور چار عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ساتھ ، رواں سال جنوری سے دو اعلی کمانڈروں سمیت 19 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اطلاع ملنے پر فوج ، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیموں نے شوپیاں کے علاقے امام صاحب پر محاصرہ کیا،اور جب مشتبہ مکان کا گھیراو کیا گیا تو جنگجوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔انہوں نے کہا’’ ہم پھنسے ہوئے عسکریت پسندوں کے لواحقین کو لائے اور یہاں تک کہ صبح 2 بجے تک ، بار بار ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی گئی،تاہم جنگجوئوں نے پیش کش کو ٹھکرا کر فورسز پر فائرنگ کردی جس میں ایک فوجی کو گولی لگنے سے زخمی ہوگیا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں چار جنگجو ہلاک ہوگئے۔ وجے کمار نے بتایا کہ کچھ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق ٹی آر ایف سے ہے ، لیکن ہمارے لئے ٹی آر ایف اور لشکر مصطفیٰ جعلی نام ہیں اور وہ لشکر طیبہ اور جیش محمد ہیں۔آئی جی پی نے بتایاانہوں نے کہا کہ اس سال اب تک 9جھڑپیں ہوچکی ہیں ، جن میں سے صرف ایک شمالی کشمیر میں دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے بتایا کہ نو مقابلوںمیں 19 جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں سے 9 صرف ضلع شوپیان میں مارے گئے،اور مہلوکین میں دو اعلی کمانڈر بھی شامل ہیں جن میں شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے غنی خواجہ اور جنوبی کشمیر سے سجاد افغانی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال اب تک 18 نوجوان عسکریت پسندوں کیساتھ شامل ہوئے جن میں سے 5 ہلاک تین گرفتار اور باقی سرگرم ہیں۔ آئی جی پی نے کہا’’ان سرگرم جنگجوئوں سے رابطہ کیا جارہا ہے اور انھیں مرکزی دھارے میں واپس آنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔‘‘آئی جی کا کہنا تھا کہ معیاری عملیاتی طریقہ کاروں کی پیروی کی جارہی ہے جس میں براہ راست مقابلوں کے دوران بھی جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی جاتی ہے۔ آئی جی پی نے کہا’’ فورسز عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کو پیشہ ورانہ انداز میں نمٹا رہی ہے،اوران تمام مقابلوں میں ، کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔اس موقع پر موجود جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) وکٹرر فورس رشیم بالی نے کہا کہ فوج کے 44 آر آر والدین تک پہنچے ، یہاں تک کہ ایک جنگجو عاقب کی اہلیہ اور 4 سالہ بیٹے تک بھی جگہ پر پہنچے،لیکن انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔