ایجنسیز
پشاور// پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک معروف عالمِ دین کو منگل کے روز نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، پولیس نے بتایا۔شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی گاڑی پر چارسدہ ضلع کے علاقے اتمانزئی میں گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ موجود دو سیکیورٹی گارڈز بھی زخمی ہو گئے۔مولانا ادریس پاکستان کے سینئر اور معزز علماء میں شمار ہوتے تھے اور دینی تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات نمایاں تھیں۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ دارالعلوم اتمانزئی میں درسِ حدیث دینے جا رہے تھے۔ وہ شدید زخمی ہوئے اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کرتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔بعد ازاں ان کی میت کو ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی منتقل کر دیا گیا، جبکہ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مند اسپتال پہنچ گئے۔اس واقعے کے بعد علاقے میں احتجاج شروع ہو گیا۔ سینکڑوں مظاہرین نے چارسدہ شہر کی جانب مارچ کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے فاروقِ اعظم چوک پر دھرنا بھی دیا۔خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور حکام کو ہدایت دی ہے کہ ملزمان کی جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔اپنے بیان میں آئی جی پی نے مولانا ادریس کی خدمات کو ’ناقابلِ فراموش‘ قرار دیا اور کہا کہ اس “گھناؤنے جرم” میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔