بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں اشیاء کی نقل و حمل پر نظر رکھنے اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا ای۔وے بل نظام خود ہی بحران کا شکار نظر آ رہا ہے، جہاں کمزور نگرانی، ناقص نفاذ اور ڈیٹا کے غیر مؤثر استعمال نے اس کے بنیادی مقاصد کو متاثر کر دیا ہے۔سی اے جی کی حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تحت نافذ’ ای،وے بل ‘نظام، جسے 50 ہزار روپے سے زائد مالیت کی اشیاء کی ترسیل کو منظم کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، کئی سطحوں پر مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق، اپریل 2018 سے مارچ 2022 کے دوران لاکھوں ای،وے بل( الیکٹرانک وے ) جاری کیے گئے، تاہم متعلقہ محکمہ اس وسیع ڈیٹا کو مؤثر نگرانی اور تجزیے کے لیے استعمال نہیں کر سکا۔
اس کے نتیجے میں، متعدد بے ضابطگیاں نہ صرف جاری رہیں بلکہ بروقت نشاندہی بھی نہ ہو سکی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کئی ٹیکس دہندگان نے جی ایس ٹی گوشوارے جمع نہ کرانے یا صفر ٹیکس ظاہر کرنے کے باوجود ای۔وے بل جاری کیے۔ ایک نمایاں معاملے میں کروڑوں روپے کی سپلائی ظاہر کی گئی، لیکن متعلقہ گوشواروںمیں کوئی ٹیکس ذمہ داری ظاہر نہیں کی گئی، جس سے2کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔اسی طرح گوشوارے جمع نہ کرنے والے بھی’ ای،وے بل‘ جاری کرتے رہے جبکہ محکمہ بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔ کمپوزیشن سکیم کے تحت بھی ایسے افراد کو’ ای،وے بل‘ جاری کرتے پایا گیا جنہیں بین الریاستی تجارت کی اجازت نہیںہے۔رپورٹ کے مطابق ایک ہی بل( انوائس) پر متعد’د ای۔وے بل‘ جاری ہونے کے کیسز بھی سامنے آئے، جن سے ممکنہ ٹیکس چوری اور لین دین چھپانے کے خدشات پیدا ہوئے۔ بعض معاملات میں رجسٹریشن منسوخ ہونے کے باوجود ’ای،وے بل‘ جاری کیے جاتے رہے، جبکہ حکام کی جانب سے محدود کارروائی دیکھنے میں آئی۔رپورٹ میں’ ای،وے بل‘ ڈیٹا اور جی ایس ٹی گوشواروں کے درمیان تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی، جس سے واجبات کی درست نشاندہی اور وصولی کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا۔نظامی خامیوں میں جعلی یا غلط گاڑی نمبر استعمال کرنا بھی شامل ہے۔
بعض کیسوں میں دو پہیہ گاڑیوں، ناکارہ یا منسوخ شدہ رجسٹریشن والی گاڑیوں کے نمبر استعمال کیے گئے، جو ڈیجیٹل جانچ کے کمزور نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ وسیع ڈیٹا تجزیے سے ہزاروں ٹیکس دہندگان کے درمیان بے ضابطگیوں کا رجحان سامنے آیا، جن میںگوشوارے جمع نہ کرنے والے، صفر گوشوارے جمع کرانے والے، منسوخ رجسٹریشن رکھنے والے اور غیر رجسٹرڈ افراد شامل تھے۔ ان کے ذریعے سینکڑوں کروڑ روپے کے لین دین کیے گئے، تاہم ریکوری محدود رہی اور واجبات کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی وصول کیا جا سکا۔نفاذی نظام کے حوالے سے بھی کئی کمزوریاں سامنے آئیں، جن میں عملے کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور فیلڈ مانیٹرنگ کا غیر منظم نظام شامل ہے۔ بعض علاقوں میں پٹرولنگ گاڑیوں کی عدم دستیابی جبکہ معائنہ کا عمل بے ترتیب پایا گیا۔ طریقہ کار کی خلاف ورزیوں میں جانچ رپورٹوںکی عدم تیاری اور بعض کیسوںمیں ٹیکس دہندگان کو سماعت کا موقع نہ دینا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام بھی آڈیٹ مدت کے ایک بڑے حصے میں موجود نہیں تھا، جبکہ دستیاب’ ڈیٹا اینالیٹکس‘ اور’ ایم آئی ایس‘ رپورٹوں کو بھی مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔