پدم بھوشن پروفیسر رحمٰن راہی کی فوت شدہ اہلیہ کو خراج عقید ت پیش کیاگیا
جموں// پانی کے مسائل سے نہ صِرف بھارت بلکہ پوُری دُنیا اِس بحران سے جھوُجھتی نظر آرہی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک نہایت ڈراؤنا لفظ ہے ۔اگر جلد ہی کوئی طریقہ نہ نِکالا گیا تو کھیتی کیلئے کیا پینے کے پانی پر بھی بحران آ سکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جو’ مِشن پانی‘ شروع کِیا ہے بہُت اہم ہے اور حکومت کی جن شکتی وزارت ’مِشن پانی‘ بنانا ایک اچھا قدم ہے۔ اِنہی مسائل کے مدّ نظر اپنے روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے ریاسست جموں و کشمیر کی کثیر اللسانی معروُف ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے زیر اہتمام ایک خصوُصی نشست ’مِشن پانی‘ کا انعقاد کِیا گیا۔ اِس موقعہ پر تنظیم کے مختلف جانے پہچانے و دیگر مقرّرین نے اپنے اپنے اندازِ فِکر سے اِس مہم اور اندیشے پر مفصّل روشنی ڈالی۔ اِس خصوُصی ذِکر اور فِکر کی صدارت کے فرائض ادبی کُنج کے ایک دیرینہ کارکُن رومیش چندر آنند ساگرؔ نے سر انجام دِئے، جبکہ ادبی کُنج کے ایک اور دیرینہ ساتھی راہُل ارمانؔ مہمانِ خصوُصی تھے۔ نِشست کی نظامت کے فرائض ادبی کُنج کے جنرل سیکرٹری و اُردوُ زبان کے جانے مانے غزل گو شاعر عبدال جبّارؔ بٹ نے ادا کِئے۔اَس موقعہ پر نِشست کے تخلیقی دوِر میںایک خصوُصی اُردوُ مضمون’ مِشن پانی حیاتِ نو‘ آرش ؔ دلموترہ نے پیش کِیا۔ اِن کے علاوہ ایک اُردوُ کہانی بعنوان ’آخری کہانی‘ عبدال جبّارؔ بٹ نے پیش کِیا۔ یہ کہانی اصل میںامریکہ کے ایک معروُف کہانی کارایڈ کرایلن پوزکی تحریر کردہ ہے۔ جِس کا اُردوُ ترجمہ جانے مانے کہانی کار سُہیل احمد خان نے کِیاہے۔ اِس دوـر میں ایک اور اُردوُ تمثیلی افسانہ’میں زندہ ہوں ‘ شام طالبؔ نے پیش کِیا۔ جِن پر سیر حاصل تبثرہ بھی ہوُا۔نِشست میں ایک کثیر اللسانی شعری دور بھی ہوُا جِس میں شعراء حضرات نے مِشن پانی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ نِشست کے آخری دوَر میںجموں کشمیر میں برّصغیر کے نامور شاعرنقاد ادیٖب اور پدم بھوُشن اعزاز یافتہ پروفیسر رحمن راہی کی اہلیہ محترمہ کے اِنتقال پر ایک ماتمی دوَر بھی ہوُا ۔ جِس میں مرحومہ کیلئے دُعائے مغفرت مانگی گئی۔ اِس نِشست میںحِصہ لینے والے شعراء حضرات کے اِسم گرامی اِس طرح ہیں:۔ آرشؔ دلموترہ، رومیش چندر آنند ساگرؔ ،راہُل ارمان ؔ، عبدالجبّارؔ بٹ، اشوک منطقؔ، کے ٓر سلگوترہ،ایس کے گُپتاؔ،اسپرشؔ شرما،، سنجیو کُمار اور شام طالبؔ۔ اِس تقریب کااِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔