سرینگر//سینئر لیڈر اور پی ڈی پی کے تنظیمی امور کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محبوب بیگ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ وہ ’دوری‘ مٹانے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کریں۔ کے این ایس کے مطابق ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہا کہ وزیر اعظم کومزیدآگے دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے قول ’دلی کی دوری۔ دل کی دوری ‘پر عمل کریںاور آگے بڑھنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ 5اگست 2019سے قبل اور ا س کے بعد جن حالات سے کشمیر گزرا ہے، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ان کووزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی نوٹس میں لایا اور ایسا لگتا ہے کہ محبوبہ مفتی کی بات کا انہوںنے سنجیدہ نوٹس لیا اس لئے وزیر اعظم نے یہ بیان دیا کہ اس ردعمل کااظہار کیا جو سامنے آیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ اب فقط نعرے تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ ان کو مثبت اعتماد سازی کے اقدامات میں تبدیل کیا جائے تاکہ جموں وکشمیر کے لوگ زمینی سطح پر تبدیلی کو دیکھ سکیں۔ ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ عوام بے چین ہیں ،اس سے قبل ایسے محطاط نہیں تھے اور اب اعتماد شکنی انتہائی حد تک پہنچ گئی ہے۔ ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ ’میں یہ نہیں دیکھتا کہ عوام اپنی خواہشات کو کیسے ایک طرف رکھ کر سوچ بھی سکتے ہیں جب تک نہ وہ نعروں کو حقیقت میں بدلتا ہوانہیں دیکھ پاتے‘۔ انہوںنے کہاکہ’دلی کی دوری۔ دل کی دوری‘سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور 5اگست2019کے مابعدبلکہ اس سے بھی زیادہ ،اس کو اعتماد سازی کے اقدامات کرنے سے پاٹا جاسکتا ہے جس کے تحت جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی رہائی، کچھ ٹھوس ثبوت کے بغیر اور پارٹی صدر نے ان قیدیوں کو یہاں منتقل کرنا جن پر سنگین الزامات عائد ہے۔ ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ صرف اور صرف جموںوکشمیرمیں حد بندی عمل کو لاگو کرنے کیلئے کسی کی کیا ممکن بنیاد ہوسکتی ہے؟اگر کسی بااختیار ریاست کا درجہ ختم کرکے اچانک یونین ٹیریٹری میں بدلا جاتا ہے تو عوام میں یقینی طور پر بے چینی پائی جائے گی اور اس نے ’دلی سے دوری‘کویقین میں بدل دیااور ہمیں اس ’دوری‘ کو مٹانے کیلئے معمولی معاملات کو حل کرکے شروعات کرنی چاہئے ۔ ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہاکہ یہی واحد معاملات نہیں ہیں لیکن یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وزیر اعظم نے جوجذباتی اور سیاسی طور پر جموں وکشمیر اور باقی ملک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا اعتراف کیا ہے، اسے دور کرنے کیلئے عمل کاآغاز کیا جائے۔