بلال فرقانی
سرینگر//وادی کی زیادہ تر عمارتیں کوارٹرنری الیوویم یعنی نرم مٹی اور تلچھٹ پر تعمیر کی گئی ہیں، جو زلزلہ لہروں کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔وادی میں زلزلہ کے بڑھتے خطرات پر کی گئی ایک جامع سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں نرم مٹی پر قائم بیشتر تعمیرات شدید تباہی سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ا نڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو سے وابستہ ڈاکٹر آف انجینئرنگ اور ریسرچ ایسوسی ایٹ ایاز محمد ڈار کی تحقیق ’’کشمیر وادی میں زلزلہ خطرات، شمال مغربی ہمالیہ میں ایک خاموش بحران‘‘ کے مطابق نرم اور کم سخت والی زمین زلزلے کے دوران زیادہ ارتعاش پیدا کرتی ہے، جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وادی میں بیشتر کنکریٹ عمارتوں کی بنیادیں سطحی نوعیت کی ہیں اور کئی تعمیرات بغیر مناسب فائونڈیشن تجزیے کے براہ راست زمین پر کھڑی کی گئی ہیں۔تحقیق کے مطابق زلزلہ کے دوران رہائشی عمارتوں پر 3105 سے 3805 کلو نیوٹن تک شیئر فورس جبکہ تجارتی اور ادارہ جاتی عمارتوں پر 7334 سے 11272 کلو نیوٹن تک دبائو پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دبائو کمزور بنیادوں اور ناقص تعمیراتی ڈھانچوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیق میں خاص طور پر اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں اور دریا کنارے آباد بستیاں زیادہ حساس ہیں کیونکہ وہاں ڈھلوانی ساخت اور کمزور زمین زلزلہ کے جھٹکوں کو مزید شدید بنا دیتی ہے۔ خاص طور پر بالا پور فالٹ کے اطراف کے علاقوں کو ہائی رسک زون قرار دیا گیا ہے۔تحقیق میں روایتی کشمیری تعمیراتی طرز نسبتاً زیادہ محفوظ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان میں لکڑی کے مضبوط فریم، اینٹوں کی دیواریں اور لکڑی کے افقی رنرز شامل ہوتے ہیں، جو زلزلے کے دبائو کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم جدید تعمیرات میں ان روایتی محفوظ طریقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت میں زلزلہ سے متعلق بلڈنگ کوڈز جیسے IS-4326 اور IS-1893 نافذ ہیں، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے، جس سے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع نے بھی وادی کو ایک ممکنہ زلزلہ بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔تاریخی اعداد و شمار کے مطابق کشمیر اور اس کے اطراف میں ماضی میں کئی تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں، جن میں 1555 کا 8 شدت کا زلزلہ، 1885 بارہمولہ زلزلہ اور 2005 مظفرآباد زلزلہ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ شواہد واضح کرتے ہیں کہ کشمیر ایک خاموش زلزلہ بحران کی زد میں ہے، جس سے نمٹنے کیلئے فوری سائنسی منصوبہ بندی، سخت تعمیراتی قوانین اور موثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔