بانڈی پورہ میں تباہی، 2زخمی، سونہ مرگ اورگریز میں برفباری
سوپور میں چھتیں اڑ گئیں، پٹن اورعشمقام میں چنار اکھڑنے سے مکان تباہ
عارف بلوچ+عازم جان +فیاض بخاری+غلام محمد
اننت ناگ+بانڈی پورہ+ بارہمولہ +سوپور// محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ ہفتہ تک جاری رہنے کی توقع ہے لیکن کشمیر کے میں نسبتاً زیادہ موسمی سرگرمیاں دیکھنے کا امکان ہے۔ اس عرصے کے دوران الگ تھلگ مقامات پر تیز ہوائوں، آسمانی بجلی اور ممکنہ ژالہ باری کے ساتھ تیز بارشیں ہوسکتی ہیں۔تاہم ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مسلسل یا طویل بارش کی توقع نہیں ہے۔محکمہ کے مطابق اونچے علاقوں میں کچھ مقامات پر تازہ برف باری ہوئی، جبکہ میدانی علاقوں میں جمعرات کی صبح بارش ہوئی، جس سے درجہ حرارت میں کمی آئی۔ حکام نے بتایا کہ ر گریز سیکٹر، سری نگر-لیہہ قومی شاہراہ کے ساتھ واقع زوجیلا پاس اور سونمرگ میں برف باری ہوئی۔ وادی کے اونچے علاقوں میں چند دیگر چوٹیاں بھی سفید رنگ میں لپٹی ہوئی تھیں۔سرینگر سمیت وادی کے میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کے دوران کئی مقامات پر تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ ایک یا دو موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔اس نے کہا کہ 25 مئی تک الگ تھلگ جگہوں پر دوپہر کے آخر تک ہلکی بارش کا امکان ہے۔ حکام نے بتایا کہ بدھ کی رات دیر گئے گرج چمک کے ساتھ ہونے والی شدید بارش نے ضلع بانڈی پورہ میں ایک سڑک کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ پانی اور کیچڑ کئی قریبی گھروں میں داخل ہو گیا۔بارش نے علاقے میں پانی جمع ہونے اور کیچڑ کا بہائو بھی شروع کر دیا جس سے نقل و حرکت میں خلل پڑا۔
بانڈی پورہ
بھاری بارش نے جمعرات کو سرینگر-بانڈی پورہ روڈ پر دارالعلوم رحیمیہ کے قریب سیلاب جیسی صورتحال پیدا کردی، جب پانی اور کیچڑ کئی رہائشی مکانات میں گھس گیا، جس سے دو افراد زخمی اور املاک کو نقصان پہنچا۔حکام نے بتایاکہ نذیر احمد ڈار اور ریاض احمد ڈار کے دو مکانات ، جونسو کے رہائشی ہیں، کو اس واقعے میں جزوی نقصان پہنچا ہے۔دو افراد جن کی شناخت مسکان اور ایک نابالغ کے نام سے ہوئی ہے، کو معمولی چوٹیں آئیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا، جب کہ دوسرے کا ڈسٹرکٹ ہسپتال بانڈی پورہ میں علاج چل رہا ہے۔ متاثر رہائشیوں نے الزام لگایا کہ اگر محکمہ آر اینڈ بی اور ضلع انتظامیہ نے بنڈ تعمیر کیا ہوتا تو انکے گھر محفوظ رہتے اور سڑک بھی نہیں ڈھہ جاتی ۔ انہوںنے کہا کہ تین سال قبل بھی بھاری بارش سے اسی جگہ سڑک ڈھہ گئی تھی۔ ایم ایل اے بانڈی پورہ نظام الدین بٹ نے ضلع انتظامیہ سے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا ہے اور باندھ تعمیر کرنے کی مانگ کی ہے۔
پٹن /مٹن
ضلع بارہمولہ کے ملہ بوچھن پٹن علاقے میں گزشتہ شب تیز آندھی کے دوران چنار درخت کی بڑی شاخ اچانک ایک رہائشی مکان پر آ گری، جس کے نتیجے میں مکان کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم اہل خانہ بال بال بچ گئے۔پولیس کے مطابق غلام حسین ہرہ کے رہائشی مکان پر رات دیر گئے تیز ہوائوں کے باعث چنار درخت کی ایک بڑی شاخ ٹوٹ کر مکان پر گر گئی۔ شاخ گرنے سے مکان کی چھت، دیواروں اور دیگر حصوں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے بتایا کہ حادثہ انتہائی خطرناک نوعیت کا تھا اور اگر اہل خانہ بروقت محفوظ مقام پر منتقل نہ ہوتے تو کوئی بڑا سانحہ پیش آ سکتا تھا۔ادھر اکڑ عشمقام میں تیز آندھی کے نتیجے میں ایک چنار کی شاخ سڑک پر گر گئی جس کے باعث کئی بجلی کے کھمبے بھی اکھڑ گئے اور تاریں زمین بھی گریں۔تاہم اس حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ایک آٹو کیریر بال بال بچ گیا۔ادھربدھ کی شام تیز آندھی سے زینہ گیر سوپور اور ملحقہ علاقوں میں درجنوں چھتوں اور کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ محمد اسحاق کھٹانہ نامی ایک شہری کے رہائشی مکان کی چھت اُڑ جانے کے بعد شدید نقصان پہنچاجبکہ تیز ہواؤں کی وجہ سے قریب میں کھڑی ایک گاڑی کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ شنگر گنڈ سوپور کے رہائشی پرویز احمد شاہ اور محمد صادق شاہ کے مکانات اور زبیر مجید ڈار ولد عبدالمجید ڈار ساکن ہردشیوہ کے رہائشی کو بھی نقصان پہنچا ۔
پہلگام
جنوبی کشمیر میں آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زیادہ بھیڑ بکریاں ہلاک ہو گئے۔ پہلگام کے لہن دجن آڑو علاقے میں رات گئے آسمانی بجلی گرنے سے 107 بکریاں ہلاک ہو گئے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ یہ واقعہ شدید بارش اور شدید گرج چمک کے درمیان پیش آیا جس نے رات بھر علاقے کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔اطلاعات کے مطابق لہن دجن میں بکریوں کے ایک ریوڑ پر آسمانی بجلی گر ی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں اور متاثرہ مالکان کو کافی نقصان پہنچا۔