گاندربل// نالہ سندھ پر وائل کے مقام پر لوہے کا پل یکطرفہ ہونے کے سبب ہزاروں افراد پر مشتمل آبادی کے لئے سوہان روح بنا ہے۔ ہر روز گھنٹوں ٹریفک کی نقل و حرکت بند ہوجاتی ہے۔ستمبر 1992 میں نالہ سندھ میں سیلاب آنے کے نتیجے میں وائل کے مقام پر لکڑی کا پل پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا جس کے باعث تین ماہ تک گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوگئی۔بیکن اور فوج کی مدد سے تین ماہ کے اندر اندر آمدورفت کے لئے لوہے کا ایک پل بنایا گیا تاہم صرف دو سال کے بعد ہی یعنی1994کے ماہِ اگست میں دوسری مرتبہ زبردست سیلاب سے لوہے کا پل بھی بہہ گیا۔اس مرتبہ پل کی تعمیر میں ایک سال کا عرصہ لگ گیا اوربالآخر 1995 میں بیکن اور فوج کی جانب سے لوہے کا دوسرا پل بنا دیا گیا جس پر پچھلے 18 برسوں سے گاندربل اور کنگن کے درمیان یکطرفہ ٹریفک جاری ہے۔گزشتہ 18 برسوں کے دوران ضلع گاندربل میں کئی بڑے اور اہم پل تعمیر کئے گئے لیکن وائل پل تعمیر نہیں کیا جاسکا جس کے سبب منیگام،یارمقام اوراندرون علاقوں سمیت کنگن اور اس سے ملحقہ کئی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی وائل پل پر جاری یکطرفہ ٹریفک کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایمبولینسز کوبھی ٹریفک جام کی زحمت برداشت کرنا پڑتی ہے۔تین سال قبل عالمی بنک کی امداد سے دوسرا پل بنانے کی منصوبہ منظور کیا گیا جس پر گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میںکام شروع کردیا گیا ۔ اس سلسلے میں تعمیرات عامہ کے ایگزیکٹو انجینئر گاندربل ظفر قریشی نے بتایا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے پل کی تعمیر کے لئے 23 کروڑ سے زائد رقومات واگزار کی گئی ہیں اورمئی 2022 ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے ۔